Breaking News
Home / اہم ترین / جماعت اسلامی ہند کی 'امن و انسانیت مہم 21 اگست تا 4 ستمبر 2016

جماعت اسلامی ہند کی 'امن و انسانیت مہم 21 اگست تا 4 ستمبر 2016

Syed Sadatullah

یہ محض روایتی طرز کی بیداری مہم نہیں ہے، بلکہ اس کا ہدف سماج میں کچھ ٹھوس اور محسوس تبدیلی لانا ہے/ سید سعادت اللہ حسینی

<!– –>

جماعت اسلامی ہند  کی 'امن و انسانیت مہم ' کے کنوینرنائب امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی  سے خصوصی انٹر ویو

سوال : اس مہم کو منانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب : ملک میں تیزی سے بگڑتی ہوئی فرقہ وارانہ امن کی صورت حال نے اس مہم کی ضرورت پیدا کی ہے۔فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں تشویشناک رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔ زہریلی تقریروں کا سلسلہ قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ میڈیا کا ایک حصہ پے درپے ایسے نان ایشوزکو پوری قوت اور مبالغہ کے ساتھ اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ،جن سے بعض فرقوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکے۔اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف قانون شکنی اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا رجحان  دن بدن تقویت حاصل کررہا ہے۔ یہ حالات ہمارےسماج کو متاثر کررہے ہیں۔ مختلف فرقوں اور طبقات کے درمیان باہمی اعتماد مجروح ہورہا ہے  اور سماجی تانے بانے  کی تباہی کا اندیشہ لاحق ہونے لگاہے۔ جیسا کہ سائنس دانوں نے صدر جمہوریہ کے نام اپنے خط میں لکھا ہے ، یہ صورت حال ایک نیوکلر بم کی مانند ہے جو پھٹنے کے قریب ہے۔ انہی حالات نے اس مہم کی شدید ضرورت پیدا کی ہے۔

سوال : مہم کے مقاصد کیا ہیں؟  اور کن امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی؟

جواب : مہم کے بنیادی طور پر چار مقاصد ہیں۔پہلا مقصدملک کے تمام باشندوں کے درمیان انسانی بنیادوں پر برادرانہ تعلقات قائم  کرنا اورایک دوسرے کے حقوق کے احترام  کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔انسانی تکریم ایک آفاقی اصول ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس اصول کا لحاظ ہو۔ انسانی جان و مال اور حقوق کی حرمت کا شعور بیدار ہو۔

اس مہم کا ایک مقصد قانون کی حکمرانی کی اہمیت کا احساس بھی پیدا کرنا ہے۔قانون کی بالاتری یہ سماج کے مہذب ہونے کی پہچان ہے اور  اگر کسی سماج میں قانون کو ہاتھ میں لینے کا رجحان عام ہوجائے تو اس کا نتیجہ انارکی، انتشار، خانہ جنگی، فتنہ و فساد اور بالآخر، اجتماعی خودکشی  ہی نکلتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بعض طبقات، گروہوں اور تنظیموں کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لے لینے کا جو خطرناک رجحان شروع ہوا ہے، ملک کے عوام متحد ہوکر اس رجحان کو ختم کریں۔

امن و امان اور ہم آہنگی کے لئے منصفانہ قوانین بھی ضروری ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کو غیر انسانی اور کسی بھی طبقہ کے حقوق کا استحصال کرنے والے قوانین اور اقدامات سے باز رکھا جائے۔یہ مہم کا تیسرا مقصد ہے۔

اور مہم کا چوتھا مقصد یہ ہے کہ جوعناصرمذکورہ مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی پر آمادہ ہیں اور سماج میں زہر گھولنا چاہتے ہیں ان کا مل جل کر مقابلہ کیا جائے۔یہ نہ سیاسی لڑائی ہے اور نہ فرقہ وارانہ۔بلکہ اصلاً یہ تمام مذاہب ، فرقوں، طبقات اور سیاسی نظریات سے تعلق رکھنے والے امن پسند، انصاف پسند، اور انسانیت دوست افراد کی لڑائی ہے، ان سماج دشمن عناصر کے خلاف جو سماج  کی تقسیم کے درپے ہیں، قانون کو ہاتھ میں لے لینا چاہتے ہیں اور ملک میں زہریلی تقریروں، نفرت پیدا کرنے والے میڈیا پروگراموں اور پر تشدد و جارحانہ اقدامات کے ذریعہ ملک کو فتنہ و فساد کی دوزخ میں دھکیلنے کے درپے ہیں۔اس مہم کو اسی انداز سے چلایا جائے گا۔

سوال : مہم کے عنوان میں ’’انسانیت‘‘ لفظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا سماج انسانیت کے بنیادی احساس سے عاری ہوچکا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہے؟

جواب : ایسا یقیناً نہیں ہے۔ ہمارے سماج میں انسانی قدریں زندہ ہیں اور ان کی بہت ہی مستحکم بنیادیں موجود ہیں۔ بلاامتیاز رنگ، نسل، مذہب و فرقہ تمام انسانوں کی انسانیت کی بنیاد پر عزت و تکریم اور ان کے حقوق کا احترام ، یہی بنیادی انسانی قدر ہے۔ اسلام اس قدر کا علم بردار ہے۔ ہمارے ملک کے دستور نے بھی اس قدر کو بہت اہمیت دی ہے اور یہ ہمارے معاشرہ کی بنیادی قدروں میں سے ہے۔ صدیوں سے یہاں ہندو اور مسلمان ،  اور دیگر مذہبی گروہ جس طرح مل جل کر رہ رہے ہیں اس کی نظیر دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ ہندوستان کی پہچان بھی ہے اور ہمارے ملک کے وقار، عزت اور قوت کا سرچشمہ بھی ہے۔

جس چیز نے انسانیت کو موضوع بنانے پر مجبور کیا وہ یہ ہے کہ بعض امن دشمن عناصر ان بنیادی انسانی قدروں کو سماج سے نکال باہر کرنے کے درپے ہیں۔ وہ انسانوں کی ایک بڑی آبادی کو انسان نہیں سمجھتے اور اس غیر انسانی سوچ کو پورے سماج میں عام کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ اس سوچ کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، اس لئے اسے مہم کا ایک اہم موضوع بنایا گیا ہے۔

سوال : فرقہ وارانہ منافرت پھیلنے کے اسباب آپ کے نزدیک کیا ہیں؟ اور اس کے لئے کون ذمہ دار ہیں؟

جواب : فرقہ وارانہ منافرت پھیلنے کے اسباب زیادہ تر سیاسی  اور معاشی مفادات سے متعلق ہیں۔ انگریزوں نے اپنا سیاسی مفاد اسی میں سمجھا کہ خاص طور پر ہندو اور مسلمان لڑتے رہیں۔ آزادی کے بعد ، بدقسمتی سے  ملک کی سیاست، ذات پات اور فرقوں کی بنیادوں پر کھڑی کی جانے لگی اور مذہبی تفریق بہت سے سیاست دانوں کے لئے کامیابی کا شارٹ کٹ راستہ بن گئی۔باقی سماج کو متحد رکھنے اور قوم پرستانہ جذبات کو تقویت دینے کے لئے غلط طور پر اسے ضروری سمجھا گیا کہ ایک دشمن خود ملک کے اندر تخلیق کیا جائے۔ طاقتور سرمایہ داروں کے معاشی مفادات غریبوں اور چھوٹے اور ابھرتے ہوئے تاجروں کے مفادات سے ٹکرانے لگے تو فسادات کو انہوں نے اپنے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھا۔ زہریلی تقریریں اور نفرت انگیز اور دھمکی آمیز بیانات ہیرو بننے کا آسان فارمولا بن گئے اور گالی گلوچ، چیخ پکاراور اشتعال اور جھوٹ و دھوکہ کی بنیاد پر نفرت کا پرچار، میڈیا کے لئے سرکولیشن اور ٹی آر پی بڑھانے کا آسان نسخہ بن گیا۔یہ سب عوامل فرقہ پرستی کے لئے ذمہ دار ہیں۔

چند لوگوں کی سیاسی ، معاشی اور تہذیبی بالاتری کے لئے سماج کو مستقل تقسیم کیا جارہا ہے۔ ایسی فضا بنائی جارہی ہے کہ سماج کے بعض طبقات یعنی اقلیتیں، دلت اور ادیباسی باقی سماج سے پوری طرح کٹ جائیں۔ باقی سماج انہیں دشمن کے طور پر دیکھنے لگے۔ان کی کوئی بات باقی سماج کو سنائی ہی نہ دے اور سنائی دے بھی تو سمجھ میں نہ آئے۔ان طبقات کے تئیں نفرت اور بیزارگی پیدا کرنے والے ایشوز اور موضوعات ہمیشہ زیر بحث رہیں۔ باقی سماج کسی معاملہ میں ان پر منحصر نہ رہے اور ان سے بے نیاز ہوجائے اور پھر انہیں بوجھ liabilityسمجھنے لگے۔ اور ان کی تائید کرنے والے بھی دشمن سمجھےجانے لگیں۔

سوال : مسلمان ہی فرقہ پرستی سے پریشان ہیں۔ کیا ایسی صورت میں مسلمانوں کی کسی تنظیم کی جانب سے چلائی گئی مہم کو ایک مدافعانہ کوشش نہیں سمجھا جائے گا؟

جواب : اس فرقہ پرستانہ اور اکثریت پرستانہ majorityism رجحان  کا ہدف صرف مسلمان نہیں ہے۔ ان کا راست ہدف دیگر اقلیتیں ، یعنی عیسائی، بدھ، اور سکھ بھی ہیں۔کمزور سماجی طبقات یعنی دلت ، دیگر پسماندہ ذاتیں اور ادیباسی بھی ہیں اور وہ نظریاتی اقلیتیں بھی ہیں جو سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف ہیں یا حقوق انسانی کی پامالی کو غلط سمجھتی ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب لوگ آگے آئیں۔ پھر اس رجحان کا ہلاکت خیز اثر تو پورے ملک پر پڑنے والا ہے۔ یہ چیلنج صرف ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو اس سے پہلے مرحلہ میں راست متاثر ہورہے ہیں۔ یہ چیلنج پوری انسانیت کو چیلنج ہے۔ ملک کے اجتماعی ضمیر کو چیلنج ہے۔ ان بنیادوں کو چیلنج ہے جن پر ہمارے سماج کا پورا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ نفرت و عناد اور انتہا پسندی کا زہر پورے سماج کو بیمار کرتا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہے۔ نفرت و عناد اور انتہا پسندی کا مرض  پھیلتا ہے تو پورا ملک دوزخ بن جاتا ہے۔ سب کی زندگیاں اجیرن ہوجاتی ہیں۔ شہر رہنے کے لائق نہیں رہتے۔ معیشت ٹھپ ہوجاتی ہے۔خوف و دہشت کی فضا طاری ہوجاتی ہے۔  باقی دنیا میں عزت ختم ہوجاتی ہے۔ کوئی سمجھدار ہندوستانی ان خطرات سے صرف نظر نہیں کرسکتا اور نہ اس رخ پر ملک کو جاتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔

اس لئے یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کے لئے پریشان کن نہیں ہے ملک کے ہرحساس اور محب وطن شہری کی نیند اڑانے والا مسئلہ ہے۔ اور سب کو مل جل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔۔ ہم اسی طور پر اس مسئلہ کو پیش بھی کریں گے۔ اور سب کو ساتھ لے کر اس انعقاد ہو جن میں تمام مذاہب اور طبقوں کے نمایاں لوگ شامل ہوں۔

سوال : آپ امن و انسانیت کی مہم چلارہے ہیں۔ مساوات اور انصاف کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب : یقیناً انصاف اور مساوات بھی اہم ایشوز ہیں۔ جماعت کے پالیسی و پروگرام میں انہیں بہت اہمیت دی گئی ہے اور ہم مستقل ان پر کام کرتے ہیں۔ ہماری کچھ بڑی اور اہم مہمات ان پر اور ان کے بعض ذیلی موضوعات پر چل چکی ہیں۔اور انصاف و مساوات کی ضرورت اور اس کے تقاضوں پر ہم بدستور کا م کرتے رہیں گے۔ لیکن اس مہم کا اصل موضوع امن و انسانیت کا موضوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک کی فرقہ وارانہ فضا کو جس طرح مسموم کیا جارہا ہے، ہمارے نزدیک وہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اگر بنیادی انسانی قدریں ہی باقی نہ رہیں تو مساوات اور انصاف کا سوال  بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ فرقہ پرستی کا ناگ بنیادی انسانیت کو نگلنے کے درپے ہے۔ بنیادی انسانی قدریں ختم ہوجائیں تو سماج وحشی درندوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور مساوات اور انصاف جیسی اعلی قدروں کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔انصاف اور مساوات کے لئے پہلی ضرورت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو انسان سمجھیں اور ایک شائستہ انسان کی حیثیت سے خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔

سوال : یہ کہا جارہا ہے کہ صرف اپنے مذہب کو صحیح سمجھنے کا نظریہ اور دوسروں کے اعتقادات پر تنقید ، فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرتی ہے۔اس کا آپ کیا جواب دیں گے؟ کیا ہم بھی سارے مذاہب کو صحیح باور کرائیں گے؟

جواب:دیکھئے ، جب آپ انسانیت کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی ایک انسانی خصوصیت ہے کہ انسان، اپنی آزادانہ رائے رکھتا ہے۔ رائے رکھنے کا اور اسے پیش کرنے کا حق، اس کا بنیادی انسانی حق ہے۔مذہب کے معاملہ میں کسی بات کو صحیح اور مخالف بات کو غلط سمجھنے کا ویسے ہی حق ہر انسان کو حاصل ہے جیسے زندگی کے دیگر معاملات میں ہے۔سائنس، فلسفہ، معاشیات و سیاسیات سے لے کر کھیتی باڑی اورگھریلو علاج معالجہ کے طور طریقوں تک، زندگی کے ہر معاملہ میں ایسے بے شمار امور ہوتے ہیں جن میں ہر انسان کچھ باتوں کو صحیح اور کچھ باتوں کو غلط سمجھتا ہے۔اور اس کے ساتھ رہنے والے دوسرے انسان اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ہر مہذب معاشرہ ان سب معاملوں میں ہر انسان کو اپنی رائے رکھنے کا، اپنی رائے کو دلیل سے پیش کرنے کا ،  دوسرے کی رائے پر دلیل سے تنقید کرنے کا  نیز دلیل سے متاثر ہونے کے نتیجہ میں رائے بدلنے کا حق دیتا ہے۔ یہ حق انسانی تہذیب اور تمدن کی ترقی کے لئے بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے اوریہ حق ہمارے ملک کا دستور بھی ہر شہری کودیتا ہے۔ مذہب کو اس حق سےمستثنی کرنے کی کوئی ضرورت اور معقولیت نہیں ہے۔ جو رویہ زندگی کے تمام معاملات میں اختیار کیا جاتا ہے وہی مذہب کے معاملہ میں بھی اختیار کیا جانا چاہیے۔ آپ جس بات کو صحیح سمجھتے ہیں ، اسے صحیح سجھیں۔ یہ حق دوسرے کو بھی دیں۔ اگر رایوں کا ٹکراو ہو تو بات کریں ، دلائل کا تبادلہ کریں ، اس کے باوجود اتفاق نہ ہو تو اپنی اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے امن کے ساتھ مل جل کر رہیں۔ نہ دوسروں پر زبردستی اپنی بات تھوپیں ، نہ  اپنی معقول رائے کو چھپائیں۔ رائے کو زبردستی تھوپنا جبر و استحصال ہے اور رائے کو چھپانا اور جسے آپ غلط سمجھتے ہیں اسے صحیح کہنا منافقت ہے۔ جبر بھی انسانی تہذیب کے لئے مہلک ہے اور منافقت بھی۔

البتہ اسلام ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی سچائی بتاتے ہوئے دوسروں کی دل آزاری نہ کریں۔ اشتعال انگیز اور نفرت انگیز طرز بیان نہ اختیار کریں۔ بدگوئی اور سب و شتم  نہ کریں۔غلط باتیں نہ پھیلائیں۔اگر مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنےمذاہب کو سچ مانیں  اور مباحثہ اور تبادلہ خیال کے مہذب آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے ، اپنی آرا پر بات کریں تو اس سے منافرت نہیں  بلکہ قربت ہی بڑھتی ہے۔ سچائی کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اس لئے ہم مختلف مذاہب کے درمیان صحت مند مذاکرات کو بھی ہم آہنگی کے فروغ کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔

سوال : امن و انسانیت کی فضا کو پروان چڑھانے  اور اسے تحفظ فراہم کرنے کے لئے کیا مہم کافی ہوجائے گی؟ اس کے لئے کیا کوئی مستقل منصوبہ بھی ہے؟

جواب : جی ہاں، اگر آپ مہم کا پروگرام دیکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ یہ محض روایتی طرز کی بیداری مہم نہیں ہے، بلکہ اس کا ہدف سماج میں کچھ ٹھوس اور محسوس تبدیلی لانا ہے۔ ملک کے ضمیر کو اپیل کرنا اور اسے جھنجوڑنا بھی مہم کا ہدف ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر مہم کا ہدف یہ بھی ہے کہ مرکز سے لے کر مقام تک ایسے مستقل اداروں کے قیام کی سمت پیش رفت شروع ہوجائے اور ایسی روایتوں کا فروغ شروع ہوجائے جو اس خطرہ کے مستقل مقابلہ میں معاون ہوں۔

اس کے لئے ہم کل ہند سطح پر، ریاستی سطحوں پر اور مقامی سطحوں پر بھی ، کچھ اہم مستقل ادارے اور فورم بنائیں گے۔ دانشوروں او ر سماجی کارکنوں کو جوڑیں گے۔ تمام مذاہب سے متعلق مذہبی رہنماوں کو جوڑیں گے۔ طلبہ رہنماوں کو جوڑیں گے۔ میڈیا سے متعلق افراد کو اس کام کے لئے آگے لائیں گے۔ جو لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کام کررہے ہیں ، ان کے کاموں کو نمایاں کرنے ، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور دیگر لوگوں میں بھی اس طرح کے کاموں کی  تحریک پیدا کریں گے اس کے لئے ہر سطح پر سدبھاونا ایوارڈز کا منصوبہ ہے۔ مقامی سطحوں پر ، خاص طور پر بڑے پیمانہ ہر سدبھاونا منچوں کا قیام اس مہم کا ایک ہدف ہے۔ اس طرح ان شاء اللہ ہم مہم چلاکر بیٹھ نہیں جائیں گے بلکہ مہم کو کچھ پائیدار اور مستقل کوششوں کے آغاز کا اور انہیں مہمیز دینے کا ذریعہ بنائیں گے۔

سوال : فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے میڈیا اور سوشل میڈیا کا کیا رول ہے؟ اس رول کو یقینی بنانے کے لئے مہم میں کیا کیا جارہا ہے؟

جواب : یہ بات میں عرض کرچکا ہوں کہ فرقہ وارانہ منافرت کی جو صورت حال اس وقت ملک میں پائی جاتی ہے ، اس کے لئے دیگر عوامل کے ساتھ میڈیا کا ایک حصہ بھی ذمہ دار ہے۔ اشتعال پیدا کرنے، افواہوں ، غلط خبروں اور غلط فہمی کو عام کرنے اور سوسائٹی کو تقسیم کرنے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا ایک حصہ بہت تخریبی کردار ادا کررہا ہے۔ اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ  تعمیری صحافت کو اور زیادہ موثر اور متحرک کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غلط فہمیوں کے ازالہ، صحیح خبروں کی ترسیل اور اس کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں میڈیا سرگرم کردار ادا کرے۔

اس کے لئے مہم میں کئی سطحوں پر کوشش کی جائے گی۔مرکزی سطح پر میڈیا کے تعمیری کردارپر ہم ایک سیمینار یا مباحثہ کا اہتمام کریں گے۔ میمو رنڈم میں میڈیا سے متعلق مطالبات بھی شامل ہوں گے۔ ہمارے مرکزی شعبہ میڈیا نے سوشل میڈیا مہم کے لئے ایک مبسوط منصوبہ بنایا ہے۔ اسے بھی رو بعمل لایا جائے گا۔ مہم سے قبل اور مہم کے بعد مرکز ی ذمہ دارا ن پریس کانفرنسوں کو مخاطب کریں گے۔ مہم کے دوران مہم کے پیغام پر مشتمل مضامین شائع کرائے جائیں گے۔ ہمارے بعض ہم خیال اخبارات و رسائل خصوصی شماروں کی اشاعت کی بھی کوشش کریں گے۔ان شاء اللہ العزیز

سوال : آپ کے پروگرام مین سدبھاونا منچ اور سد بھاونا ایوارڈز کا ذکر کیا گیا ہے؟ اس پر مزید روشنی ڈالئے۔

جواب : جی یہ مہم کا ایک اہم ہدف ہوگا کہ ہر اہم مقامی جماعت میں ، دیہاتوں اور قصبات کی سطح پر یا شہر کی کالونیوں اور وارڈوں کی سطح پر سدبھاونا منچ کی طرز کے ادارے قائم ہوں۔ یہ منچ مختلف مذہبی اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے بااثر لوگوں کو ساتھ لے کر بنایا جائے گا اور اس کا اصل کا م فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان کی فضا پروان چڑھانا،قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اورمشترکہ انسانی قدروں اور صالح روایات کو سماج میں فروغ دیناہوگا۔اس منچ کا تفصیلی خاکہ فراہم کیا جارہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کام پورے ملک میں بڑے پیمانہ پر ہو۔ فرقہ پرستی کا دیر پا علاج کمیونکیشن بڑھانا ہے۔ سدبھاونا منچ، زمینی سطح پر بین المذہبی کمیو نکیشن کا ایک مستقل اور پائیدار ادارہ جاتی انتظام ہوگا۔ یہ نظام مستحکم ہو اور جگہ جگہ ہندو مسلمان اور دیگر طبقات مل جل کر بیٹھ کر بات کرنے لگیں  تو اوپری سطحوں سے آنے والی غلط معلومات، اور اشتعال انگیزیوں کا اثر کافی کم ہوجائے گا۔

بہ شکریہ  سہ روزہ دعوت  نئی دہلی

The short URL of the present article is: http://harpal.in/NeXUh

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے