Breaking News
Home / تازہ ترین / جنازہ، بادشاہ اور میت

جنازہ، بادشاہ اور میت

 

بادشاہ سلطان مراد نے ایک رات بڑی گھٹن اور تکلیف میں گزاری ، لیکن وہ اس کا سبب نہ جان سکا ،
اس نے اپنے سیکورٹی انچارج کو بلایا اس کو اپنی بےچینی کی خبر دی ، بادشاہ کی عادت تھی ، کہ وہ بھیس بدل کر عوام کی خفیہ خبرگیری کرتا تھا ،
کہا چلو چلتے ہیں اور کچھ وقت لوگوں میں گزارتے ھیں ، شہر کے ایک کنارے پر پہنچے تو دیکھا ایک آدمی گرا پڑا ھے ، بادشاہ نے اسے ھلا کر دیکھا تو مردہ انسان تھا ،
لوگ اس کے پاس سے گزرے جارھے تھے ، بادشاہ نے لوگوں کو آواز دی کہ ادھر آؤ بھئی لوگ جمع ھوگئے اور وہ بادشاہ کو پہچان نہ سکے ،
پوچھا کیا بات ھے بادشاہ نے کہا آدمی مرا ھوا ھے اس کو کسی نے کیوں نہیں اٹھایا کون ھے یہ اور اس کے گھر والے کہاں ھیں لوگوں نے کہا یہ زندیق شخص ھے بڑا شرابی اور زانی آدمی تھا ،
بادشاہ نے کہا کیا یہ امت محمدیہ میں سے نہیں ھے ؟
چلو اس کو اٹھاؤ اور اس کے گھر لے چلو. لوگوں نے میت گھر پہنچا دی.
اس کی بیوی نے خاوند کی لاش دیکھی تو رونے لگی. لوگ چلے گئے بادشاہ اور اس کا سیکورٹی انچارج وہیں کھڑے عورت کا رونا سنتے رھے وہ کہہ رھی تھی ،
میں گواہی دیتی ھوں بیشک تو اللہ تعالٰی کا ولی ھے اور نیک لوگوں میں سے ھے. مراد بڑا متعجب ھوا یہ کیسے ولی ھو سکتا ہے لوگ تو اس کے متعلق یہ یہ باتیں کر رھے تھے اور اس کی میت کو ھاتھ لگانے کو تیار نہ تھے ، اس کی بیوی نے کہا مجھے بھی لوگوں پر یہی توقع تھی اصل حقیقت یہ ہے کہ میرا خاوند ھر روز شراب خانہ جاتا جتنی ھو سکے شراب خریدتا اور گھر لا کر گڑھے میں بہا دیتا اور کہتا کہ چلو کچھ تو گناھوں کا بوجھ مسلمانوں سے ھلکا ھوا ، اسی طرح رات کو ایک طوائف کے پاس جاتا اور اس کو ایک رات کی اجرت دے دیتا اور اس کو کہتا کہ اپنا دروازہ بند کرلے کوئی تیرے پاس نہ آئے ، گھر آکر کہتا الحمدللہ آج اس عورت کا اور نوجوان مسلمانوں کے گناھوں کا میں نے کچھ بوجھ ھلکا کر دیا ھے ،
لوگ اس کو شراب خانے اور طوائف کے گھر آتا جاتا دیکھتے تھے ، میں اسے کہتی تھی یاد رکھ جس دن تو مر گیا لوگوں نے نہ تجھے غسل دینا ہے نہ تیری نماز جنازہ پڑھنی ھے اور نہ تجھے دفنانا ھے ، وہ مسکرا دیتا اور مجھے کہتا کہ گھبرا مت تو دیکھے گی کہ میرا جنازہ وقت کا بادشاہ ، علماء اور اولیاء پڑھیں گے ،
بادشاہ رو پڑا اور کہنے لگا میں سلطان مراد ھوں ، کل ھم اس کو غسل دیں گے ھم اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور ھم اس کی تدفین کریں گے چنانچہ اس کا جنازہ بادشاہ وقت، علماء ، اولیاء اور کثیر عوام نے پڑھا ،

آج ھم بظاہر کچھ دیکھ کر یا محض دوسروں سے سن کر اھم فیصلے کر بیٹھتے ہیں ، اگر ھم دوسروں کے دلوں کے بھید جان لیں تو ھماری زبانیں گونگی ھو جائیں….

The short URL of the present article is: http://harpal.in/WhJme

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے