Breaking News
Home / اہم ترین / جی پرمیشور نے یڈویورپا کو للکارا۔ کہا سی بی ائی کی عدالت سے بچنے والے یڈیورپا عوامی عدالت کا سامنا کریں

جی پرمیشور نے یڈویورپا کو للکارا۔ کہا سی بی ائی کی عدالت سے بچنے والے یڈیورپا عوامی عدالت کا سامنا کریں

شیموگہ:۔ضلع کانگریس کی جانب سے آج پارٹی کے کارکنان کیلئے منعقدہ جلسہ میں کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے یڈویورپا کو للکارتے ہوئے کہا کہ یڈویورپاجی آپ سی بی آئی کی عدالت سے تو بری ہوگئے ہیں لیکن آنے والے انتخابات میں عوام کی عدالت میں آکر دیکھیں کہ آپ کی اہمیت کتنی ہے اور عوام آپ کے تعلق سے کیا فیصلہ سنائیگی۔ عدالت نے یڈویورپاکے تعلق سے فیصلہ سنایا ہے لیکن یہ انصاف نہیں ہے ،ایسے فیصلوں سے لوگوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔شیموگہ کی عوام باشعور ہے اور وہ یڈویورپا و ایشورپا کو معقول جواب دیگی ۔ حالانکہ انتخابات ابھی دور ہیں لیکن کارکنان ابھی سے تیاری کریں۔اس ملک کی جمہوریت کو بحال رکھنے کیلئے کانگریس کو اقتدار میں لانا ضروری ہے ، فرقہ پرست طاقتوں سے ملک کو بہت بڑا خسارہ ہورہا ہے۔یہ صرف کانگریس کا کہنانہیں ہے کہ بلکہ کے ہر آدمی کی یہی سوچ ہے۔بیرونی ممالک میں رکھے گئے کالے دھن کو واپس لانے کی بات کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی آج این آر آئی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ملک کی عوام کے کھاتوںمیں پندرہ لاکھ جمع کرنے کا جو دعویٰ کیا تھاوہ محض خواب بن کر رہ گیا ہے اور اب تک کسی کے بھی بینک کے کھاتے میں پندرہ پیسے بھی جمع نہیں ہوئے ہیں۔جھوٹے وعدے کرتے ہوئے بی جے پی حکومت ملک میں فرقہ وارانہ تعصب پیدا کررہی ہے،ذات اور مذاہب کے درمیان زہر گھول رہی ہے اور اس پارٹی کو ملک کی ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ اسے صرف ذات پات کی سیاست سے تعلق ہے۔کانگریس پارٹی نے انتخابات کے دوران جو وعدے کئے تھے اس میں سے90 فیصد وعدے پورے ہوچکے ہیں، ہمارے منصوبے آنے والے انتخابات کیلئے کافی ہیں،ہمیں ذات پات کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔ملک میں کسانوںکی خودکشی کی تعداد بڑھ رہی ہے،مگر وزیر اعظم نریندر مودی ان تمام معاملات سے لاعلمی کامظاہرہ کررہے ہیں جبکہ یو پی اے حکومت کے دوران وزیر اعظم من موہن سنگھ نے70 ہزار کروڑ روپئے کسانوںکی فلاح و بہبودی کیلئے جاری کئے تھے۔اس موقع پر پارٹی کے ضلعی صدر تینا سرینواس،ایم ایل اے پرسننا کمار،اے آئی سی سی رکن منجوناتھ بھنڈاری،کے پی سی سی رکن اسماعیل،ایس پی دنیش،بلقیس بانو ، کلگوڈ رتناکر،مئیر ایس کے مریپا وغیرہ موجود تھے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/iBg7b

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے