Home / اہم ترین / جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم نجیب احمد کو تلاش کرنے کی مانگ پردہلی ہائی کورٹ کے سامنے مظاہرہ کر رہی نجیب کی ماں اور دوسرے لوگوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ نئی دہلی کے پولیس کمشنر بی کے سنگھ نے کہا کہ نجیب کی ماں فاطمہ نفس سمیت 35 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہیں بارہ کھمبہ روڈ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور شام میں انہیں رہاکردیا گیا۔

دہلی ہائی کورٹ میںکل نجیب کے مقدمے کی سماعت ہورہی تھی۔ اس موقع پرنجیب کی والدہ کے ساتھ جے این یو کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں عدالت کے باہر مظاہرہ میں شامل ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے عدالت کے احاطے کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس کے باعث انہیں حراست میں لینا پڑا۔ مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ حراست کے دوران پولیس نے نجیب کی ماں کے ساتھ بدسلوکی کی۔ طلبا نے اس الزام کی حمایت میں سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر بھی شیئرکی ہیں جن میں خواتین پولیس اہلکار نجیب کی ماں کے دونوں ہاتھ پاؤں پکڑ کر کھینچنے کی کوشش کرتی نظر آ رہی ہیں۔ طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجیب کی ماں کو اس وقت کافی چوٹیں آئیں ۔

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں ، تاہم بعد میں رہا کئے گئے

اس سے قبل عدالت نے نجیب کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملنے پر سی بی آئی کو سخت پھٹکار لگائی اور کہا کہ سی بی آئی اتنے حساس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کی طرف سے پیش کردہ حقائق اور تحقیقات کی اسٹیٹس رپورٹ میں تضاد هونے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ نجیب احمد 16 اکتوبر، 2016 سے جے این یو کے اپنے ماہی مانڈوی ہاسٹل سے غائب ہے۔اس کے غائب ہونے سے ایک دن قبل اس کی اے بی وی پی کے چند طالب علموں کے ساتھ جھگڑا ہواتھا۔

پولیس نے نجیب کے غائب ہونے کے بعد تلاش شروع کردی تھی۔ اس کا سراغ دینے والوں کے لئے 10 لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا گیا تھا، لیکن اس پوری مشقت کے بعد بھی اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ پولیس پر ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے نجیب کی ماں نے معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کے لئے عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔ اس کے بعد یہ معاملہ سی بی آئی کے پاس آیا۔ آج، ایک سال گزرنے کے بعد بھی پولیس اور سی بی آئی کے ہاتھ کسی طرح کا سراغ نہیں لگ پایا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/yPsz7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے