Breaking News
Home / اہم ترین / جے للتا مرینا بیچ پرایم جی آرکی سمادھی کے نزدیک سپردخاک۔ جے للتا کاجسد خاکی نہیں کیا گیانذر آتش

جے للتا مرینا بیچ پرایم جی آرکی سمادھی کے نزدیک سپردخاک۔ جے للتا کاجسد خاکی نہیں کیا گیانذر آتش

چنئی: تمل ناڈو میں اماں کے نام سے مشہور وزیر اعلی جے للتا کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں۔ جے للتا کے جسد خاکی کو نذر آتش نہیں کیا گیا بلکہ دفنایا گیا ہے۔ انہیں مرین بیچ پر ایم جی آر کے بغل میں ہی دفنایا گیا ۔ خیال رہے کہ 74 دن تک ہسپتال میں رہنے کے بعد تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کا چنئی میں انتقال ہو گیا تھا۔ پیر کی رات 11:30 بجے جے للتا نے آخری سانس لی تھی۔ جے للتا کے انتقال کی خبر ملتے ہی ان کے حامیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔اس سے قبل جے للتا کے جسد خاکی کو چنئی کے راجاجی ہال میں آخری دیدار کے لئے رکھا گیا ہے۔ اپنی کرشمائی لیڈر کی آخری جھلک حاصل کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ امڈ پڑے ہیں۔اس سے قبل جے للتا کے جسد خاکی کو چنئی کے راجاجی ہال میں آخری دیدار کے لئے رکھا گیا ہے۔ اپنی کرشمائی لیڈر کی آخری جھلک حاصل کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ امڈ پڑے ہیں۔بتا دیں کہ 22 ستمبر کو بخار اور ڈہائڈریشن کی شکایت کے بعد انہیں اپولو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 4 دسمبر کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے ان کی صحت مسلسل بگڑتی گئی اور آخر کار وہ زندگی سے جنگ ہار گئیں۔سیاست سے نفرت کرنے والا ملک کی سیاسی افق کا سب سے جگمگاتا ستارہ گم ہو گیا۔ ڈھائی ماہ تک تمل ناڈو کے لوگوں اور حامیوں میں اپنے ٹھیک ہونے کی امید جگا كر آخر کار جے للتا اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اپنی ضد اور جرات کی بدولت پردے کے بعد سیاسی زندگی میں مقام پانے والی اماں کے نام سے مشہور جے للتا زندگی سے جنگ ہار گئیں۔تمل ناڈو کی عوام اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے کارکنوں کے سر سے اماں کا سایہ چھن گیا۔ ریاست کی غریب عوام کے لئے بڑے پیمانے پر فلاح و بہبود والی اسکیمیں چلانے کے لئے مشہور اماں نے زندگی کی جنگ سے منہ موڑ لیا۔ اماں کے انتقال کی خبر ملتے ہی ہسپتال کے باہر رہنماؤں سمیت ہزاروں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ لوگ نم آنکھوں سے اماں کی آخری جھلک حاصل کرنا چاہتے تھے، جس کی وجہ سے ہسپتال سے باہر نکلتی ہر گاڑی کے اندر جھانکنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ اس دوران مجبورا سکیورٹی اہلکاروں کو بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لئے لاٹھیاں بھی چلانی پڑیں۔ ہر سیاسی پارٹی اماں جیسی کرشمائی لیڈر کو کھونے کے دکھ سے اچھوتا نہیں دکھی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/qS1ec

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے