Breaking News
Home / اہم ترین / حکومت-عدلیہ پھر آمنے سامنے: حد پار کرنے والوں پر نظر رکھنے کا سپریم کورٹ کے پاس حق: چیف جسٹس ٹھاکر کا بیان

حکومت-عدلیہ پھر آمنے سامنے: حد پار کرنے والوں پر نظر رکھنے کا سپریم کورٹ کے پاس حق: چیف جسٹس ٹھاکر کا بیان

نئی دہلی۔(ہرپل نیوز، ایجنسی) 27.نومبر: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے  کہا کہ عدلیہ کے پاس اس کی نگرانی کا حق ہے کہ جمہوریت کا کوئی بھی عضو دائرہ پار نہ کرے۔ جسٹس ٹھاکر کا یہ بیان یوم آئین کے موقع پر عدالت کے احاطے میں منعقدہ ایک پروگرام میں اس وقت آیا جب مرکزی حکومت کے اعلی ترین افسر اٹارني جنرل مکل روہتگی نے عدلیہ کو دائرہ کار کی یاد دلائی۔

مسٹر جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ ویسے تو دنیا میں بہت سے جمہوری ملک ہیں، لیکن ہندوستان میں یوم آئین کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ اس مقدس کتاب کے ذریعے ہندوستان ایک خود مختار ملک بن سکا۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ اس تاریخی دستاویزات نے 500 سے زائد رجواڑوں کو ایک لڑی میں پیرویا، مختلف نسل، زبان اور نسل کے لوگوں کو برابری کا حق دیا۔ انہوں نے آئین میں بیان دفعات کی تشریح میں ملک کے ماہرین قانون کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’آئین کی تشریح صرف ججوں نے نہیں کی ہے، بلکہ اس میں قانونی ماہرین کا اہم کردار رہا ہے‘‘۔ اس موقع پر وزیر قانون روی شنکر پرساد نے ملک کی تعمیر میں حصہ لینے والے فرزند وں کو ان کو مناسب اعزاز دینے میں تاخیر کئے جانے پر سوال بھی کھڑے کئے۔ انہوں نے پوچھا کہ بابا صاحب امبیڈکر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے فرزندوں کے مرنے کے برسوں کے بعد بھارت رتن سے نوازا جانا کئی سوال کھڑے کرتے ہیں۔مسٹر روہتگی نے ایک دوسرے پروگرام میں مختلف عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے معاملے میں مرکزی حکومت پر سوال کھڑے کئے جانے کے بعد عدالت کے احاطے میں منعقدہ پروگرام میں عدلیہ کو اپنے دائرہ کار کی یاد دلائی تھی۔ چیف جسٹس نے مرکز پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے کسی بھی عضو کو ’لکشمن ریکھا‘ پار نہیں کرنی چاہئے اور عدلیہ کے پاس اس کی نگرانی کرنے کا حق ہے کہ کوئی بھی ادارہ حد کو پار نہ کرے۔ تاہم امید کے برعکس شام کو دہلی کینٹ کے مانكشا سینٹر میں منعقدہ تیسرے پروگرام میں یہ تکرار آگے نہیں بڑھی اور چیف جسٹس نے یوم آئین کو منانے کے مرکز حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔اس سے پہلے دن میں مرکزی انتظامی ٹربیونل کی سالانہ کانفرنس میں جسٹس ٹھاکر اور مسٹر پرساد اس وقت آمنے سامنے آ گئے تھے، جب چیف جسٹس نے ججوں کی بھرتی میں مرکزی حکومت کے لاتعلق رویہ کا ذکر کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایم این ونكٹ چليا نے لیکچر دیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/hgc6u

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے