Breaking News
Home / اہم ترین / حکیم الاسلام قاری محمد طیب کے فرزند اور دارالعلوم وقف دیوبند کےناظم تعلیمات مولانا محمد اسلم قاسمی کا انتقال۔ علمی حلقوں میں سوگ کی لہر

حکیم الاسلام قاری محمد طیب کے فرزند اور دارالعلوم وقف دیوبند کےناظم تعلیمات مولانا محمد اسلم قاسمی کا انتقال۔ علمی حلقوں میں سوگ کی لہر

دیوبند (ہرپل نیوز ، ایجنسی)14نومبر۔ خانوادہ قاسمی کے اہم چشم وچراغ ،معروف عالم دین مولانا محمد اسلم قاسمی کا آج دیوبند میں انتقال ہوگیا ہے ۔وہ 87 برس کے تھے ۔ مولانا کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے ۔ آشیانہ قاسمی میں آج سوا بارہ بجے وہ اس دنیا سےرخصت ہوگئے ۔مولانا کے سانحۂ ارتحال پر مرکزی جمعیۃ علماء کے جنرل سکریٹری مولانا فیروز اختر قاسمی نے دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانامرحوم خاندانِ قاسمی کی علمی و فکری اور اخلاقی خوبیوں کے امین تھے اور انھوں نے تقریباً پچاس سال تک دارالعلوم دیوبند ودارالعلوم وقف میں جو علمی خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔

خیال رہے کہ مولانا محمد اسلم قاسمی کا علمی دنیا میں ایک بڑا اور تاریخی نام تھا،آپ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم ناناتوی کے پرپوتے اور دارالعلوم دیوبند کو عالمگیر شہرت دلانے والے سابق مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب کے دوسرے صاحبزادے تھے ۔ مولانا دارالعلوم وقف دیوبند کے صدر مدرس ہونے کے ساتھ وہاں کے مقبول استاذ اور بخاری شریف کی تدریس کابھی فریضہ انجام دے رہے تھے ۔ علمی دنیا میں آپ کی شخصیت بیحد مقبول رہی ہے اور آپ کے ہزاروں شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں،آپ کے بڑے بھائی مولانا محمد سالم قاسمی ابھی الحمد اللہ بقیدحیات ہیں اور ان کی عمر تقریبا 95 سے تجاوز کرچکی ہے ۔

اکابرین ملت کے تاثرات : مولانا فیروز اختر قاسمی نے کہا کہ حضرت مولانا محمداسلم قاسمی ایک روشن فکر کے حامل اورحالاتِ زمانہ پر نگاہ رکھنے والے عالم دین تھے اور انہوں نے نہ صرف علمِ حدیث کی تدریس کے ذریعہ طالبان علوم نبوت کی خدمت کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کا تصنیفی و تالیفی ذوق بھی نہایت عمدہ تھا ،چنانچہ ان کے قلم سے سیرت و اسلامیات پر مختلف کتابیں نکلیں جنہیں اہل علم کے طبقے میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہاکہ مولانا مرحوم اپنی ذاتی زندگی میں ایک بے نفس اور نہایت منکسرالمزاج انسان تھے ۔چنانچہ تمام تر فضل و کمال کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزاری اور ہر قسم کے تصنع اور تکلف سے دور رہے۔مولانا قاسمی نے مرحوم کی وفات کی خبر سنتے ہی ان کے پسماندگان سے رابطہ کرکے اظہار تعزیت کیا اور ان کے لئے مغفرت و بلندی درجات کی دعاء کی۔

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی:جگر گوشہ حکیم الاسلام ،دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث ،ناظم تعلیمات اور صدرالمدرسین مولانا محمد اسلم قاسمی کےانتقال پرملال کو ملت اسلامیہ ہندیہ کیلئے عطیم علمی خسارہ قرار دیتے ہوئے معروف علم دین مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار نے کہاکہ حضرت الاستاد کی علمی ،دینی،دعوتی، اصلاحی اورتدریسی خدمات کا دائرہ کئی دہائی پر محیط ہے۔انہوں نے کہاکہ حضرت الاستاد خاندان قاسمی کے اہم چشم و چراغ تھے اور اپنے جدامجد حجۃ الا سلام الامام محمد قاسم نانوتوی والد محترم حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمیؒ بانی و مہتمم دارالعلوم دیوبند کےعلمی وارث تھے،آپ نے زندگی کی آخری سانس تک اپنے اجداد و اسلاف سے حاصل ہوئی اس علمی وراثت کو طالبان علوم نبوت میں بانٹتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا اور خالق حقیقی سے جاملے۔مفتی عثمانی نے کہاکہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہو گا، ہر زندہ کو موت ضرور آئے گی چاہے،جلد آئے یا دیر سے، موت سے نجات ممکن نہیں،لیکن ایسی زندگی اور ایسی موت، جس پر فخر کیا جا سکے، ہر شخص کے حصے میں نہیں آتی مگر حضرت الاستاد کی زندگی بھی باعث فخر اور موت بھی باعث فخر تھی ۔خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی،حضرت مولانا محمدسفیان قاسمی،جناب ڈاکٹر فاروق صاحب قاسمی سے اور دیگر پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔انہوں نے کہاکہ یقینا خاندان قاسمی کیلئے یہ ایک عظیم سانحہ ہے اور اس خلا کو پر نہیں کیا جاسکتا۔

مدارس میں تعطیل :مولانا محمد اسلم قاسمی کے سانحہ ارتحال کی اطلاع ملتے ہی جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار اور اطراف کے دیگر مدارس میں تعلیمی سرگرمیاں روک دی گئیں اور ایصال و ثواب کے لئے ’دعائیہ مجلس کا اہتما کیا گیا جس میں اساتذہ اور طلبہ نے قرآن پاک کی تلاوت اورآپ کے بلندیہ درجات کے لئے دعائیں کی ۔اساتذہ کرام نے مختصرا آپ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بلندی درجات کی دعا فرمائی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/MaRaT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے