Breaking News
Home / اہم ترین / حیدرآبادی نوجوان خالد صدیقی کا کارنامہ قرآن ویب اپلی کیشن کیا تیار

حیدرآبادی نوجوان خالد صدیقی کا کارنامہ قرآن ویب اپلی کیشن کیا تیار

ہندوستانی زبانوں میں تراجم کے علاوہ تین زبانوں انگلش، اردو اورعربی میں تفاسیر

حیدرآباد (ہرپل نیوز،ایجنسی)25گست :حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک سافٹ وئیر انجنیئر خالد صدیقی نے قرآن ہب کے نام سے ایک ویب اپلی کیشن تیار کیا ہے۔ اس اپلی کیشن میں دس ہندوستانی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تین زبانوں میں اس کی 13 تفاسیر کو جگہ دی گئی ہے۔ اس میں تمام مکتبہ فکر کے مفسرین کو شامل کیا گیا ہے۔آج کے دور کو انٹرنیٹ، ٹکنالوجی، کمپیوٹر اور موبائل کا دور کہا جا سکتا ہے۔ سائنس اینڈ ٹکنالوجی میں ایک سے ایک انقلاب آ رہے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ سائنس اینڈ ٹکنالوجی کو مذہب سے بھی جوڑنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد کے خالد صدیقی نے بھی اسی طرح کی ایک کوشش کی ہے۔خالد صدیقی نے قرآن ہب کے نام سے ایک ایسا ویب اپلی کیشن تیار کیا ہے جس میں 10 ہندوستانی زبانوں کے55 تراجم کے علاوہ تین زبانوں انگلش اردو اور عربی میں تفاسیر بھی شامل ہیں۔خالد صدیقی کے مطابق اس ویب اپلی کیشن میں کئی ایک خصوصیات ہیں۔ ویب اپلی کیشن میں سرچ آپشن کے ذریعے یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ کلام مجید میں کون سا لفظ کتنی بار آیا ہے۔مثلا رب کا لفظ کتنی بار آیا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد تفاسیر اور تراجم کے درمیان تقابلی جائزہ بھی ممکن ہے۔ان تمام خصوصیات کے علاوہ پندرہ قرا کرام کی آوازوں میں سماعت قران بھی کی جا سکتی ہے۔ علما کرام اس کاوش کی ستائش کر رہے ہیں۔علما کرام کا کہنا ہے کہ اس ویب اپلی کیشن کے ذریعے برادران وطن کو بھی قران فہمی میں آسانی ہوگی۔ویب اپلی کیشن کے علاوہ اس ٹیم نے موبائل کے لئے قرآن ہب نامی اپلی کیشن تیار کیا ہے۔ جو ایک مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جائے تو آف لائین بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس ایپ میں بھی دس زبانوں میں کلام مجید کا ترجمہ پڑھا جا سکتا ہے۔ابو سفیان کے مطابق، اس موبائل ایپ میں کرسٹل کلئیر کِنڈل ٹیکسٹ ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، تاکہ قاری کو پڑھنے میں آسانی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مستقبل میں اس میں تفاسیر، کمپیر ٹول اور سرچ ٹول شامل کیا جائیگا۔ اگر آپ بھی اس ویب اپلی کیشن اور ایپ کا استعمال کرنا چاہتے یں تو۔  www.quranhub.net  پر کلک کر سکتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/t2UVR

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے