Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر کیا فرانس کا نمائندہ کلچر عریانیت ہے؟

خبرونظر کیا فرانس کا نمائندہ کلچر عریانیت ہے؟

13ستمبر2016
فرانس کا ’نمائندہ‘ کلچر
اگر فرانس کے وزیر اعظم منوئیل والس سے پوچھا جائے کہ ان کے ملک کا نمائندہ کلچر کیا ہے تو اُن کا صاف جواب ہوگا ’عورت کی عریانیت‘ ۔وہ کہتے ہیں کہ بُرقنی کے مقابلے میں عورت کے برہنہ پستان فرانس کی زیادہ بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔ والس نے یہ بات حال ہی میں ایک بڑے جلسۂ عام میں برملا کہی ہے۔ استدلال فرانس میں آزادی کی قومی دیوی کے مجسمے سے کیا ہے، کہا ہے ’’وہ بے پردہ اس لئے ہے کہ آزاد ہے اور پستان برہنہ اس لئے ہیں کہ سب کو غذا دیتی ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا)——  اب دوسرا سوال یہ ہے کہ عورت کی عریانیت کو فرانس کا بنیادی کلچر بتا کر کیا منوئیل والس نے فرانس اور اہل فرانس کی درست ترجمانی کی ہے؟ فرانس کی معروف مورخہ Malthilde Carrereاس کا جواب نفی میں دیتی ہیں۔ اس مورخہ اور دیگر اہل علم نے والس کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دے کر اس کا بہت مذاق اڑایا ہے، والس کو فاترالعقل کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزادی کی دیوی محض آرٹسٹ کا تصور ہے، ری پبلک سے اس کا کوئی تعلق نہیں ——  منوئیل والس کا یہ بیان دراصل اُس ملک گیر بحث کا حصہ ہے جو اسلامی حجاب اور بُرقنی کے سلسلے میں آج کل پورے فرانس میں جاری ہے۔ برقنی مسلم خواتین کا مکمل ساتر لباس ہے جسے وہ سا حل سمندر پر استعمال کرتی ہیں۔ اسے مغربی سوئمنگ ڈریس بِکنی کا جوبالکل مختصر ہے جواب سمجھا جاتا ہے۔
۹/۱۱کے بعد
فرانس وہ ملک ہے جہاں کے باشندے خود کو دنیا کی سب سے بہتر تہذیبی قوم سمجھتے ہیں لیکن دوسری تہذیبوں اور علاقائی شناختوں کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں شمالی افریقہ کی مسلم مملکتوں پر فرانس کی طویل حکمرانی کے نتیجے میں وہاں قابلِ لحاظ مسلم آبادی بھی بستی ہے۔ وہاں مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ رہتے ہیں۔ مگر ستمبر ۲۰۰۱ء میں نیویارک پر دہشت گردانہ حملے کے امریکی ڈرامے اور وارآن ٹیررزم کے نام سے حق وانصاف کے خلاف شروع کی گئی امریکی مہم کے بعد فرانس میں بھی ایک مسلم مخالف طبقہ پیدا ہوگیا ہے۔ چارلی ہیبدو نامی میگزین جس نے پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کی تھی، اِسی طبقے کا میگزین ہے۔ اسلام مخالف پروپیگنڈا اتنا زور دار ہے کہ اچھے اچھے دماغوں کو متاثر کررہا ہے۔ وزیر اعظم منوئیل والس کا قصہ بھی یہی ہے جب کہ صدر فرانس کا ذہن یہ نہیں ہے — مگر والس  جیسے نادان لوگ عصبیت میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ برہنہ پستان کو فرانس کی تہذیب قرار دیتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ اس سے فرانس کے بارے میں دنیا کو کیا پیغام جائے گا — درست ہے کہ مغرب کی آبرو باختہ تہذیب دن بدن مزید آبرو یافتہ ہوتی جارہی ہے لیکن نفاست وشائستگی کے مقابلے میں بے ہودگی اور عریانیت کو قومی شناخت بتانے کی بات اس سے پہلے کسی نے نہیں کہی تھی۔
اہل مغرب کے حربے
اہل مغرب کو زعم اِس بات کا ہے کہ سائنس وٹکنالوجی کے میدان میں انہوں نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے اس لئے دنیا میں کلچر بھی اُنہی کا چلنا چاہئے۔ الکحل مغربیوں کی روزمرہ کی زندگی کا جزولازم ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ چیز پوری دنیا میں عام ہوجائے قطع نظر اس سے کہ پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں یہ خبیث چیز کیا کیا ظلم ڈھارہی ہے۔ سود جیسی مہلکِ انسانیت چیز کو انہوں نے پوری دنیا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنا رکھا ہے اس لئے کوئی ایسا معاشی نظام ان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا جو اِس سے مختلف ہو اور غریب وپسماندہ آبادیوں کا معیار زندگی اونچا اٹھا سکتا ہو۔ عورت کو ان اہل مغرب نے آزادی اور ترقی کے نام پر اپنی ہوس کا ہدف اور کھلونا بنارکھا ہے،اُس سے اُس کی عزت وآبرو چھین کر اسے بالکل عریاں کرکے رکھ دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ پوری دنیا بھی اس کے ساتھ یہی  سلوک کرے۔ اس لئے کوئی ایسی چیز جو مغربی عورت کو متاثر کرسکتی ہو ان کے لئے قابل برداشت نہیں ہوسکتی، اِسی لئے برقنی کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ فطرت کے نظام کے مطابق مغرب کی عورت بھی بے  لباس نہیں رہناچاہتی۔ خود مغربی میڈیا کی اطلاعات ہیں کہ بہت سی عورتیں روز مرہ کی زندگی میں حجاب یا اسکارف کو اور ساحل سمندر پر برقنی کو پسند کرتی ہیں، لیکن ہوس پرست اسے مختلف حربوں کے ذریعے عریانیت پر مجبور کرتے ہیں۔ اِسی لئے اب ایک پانسہ فرانس کے وزیر اعظم نے پھینکا ہے۔ ( پ ر)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Jefic

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے