Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر یکم اگست 2016

خبرونظر یکم اگست 2016

Slide1دانشوروں کی پہل

سماجی ماہرین اوردانشوروں کے ایک حلقے نے عزم کیا ہے کہ ملک میں بھگوا یلغار کا مقابلہ علمی، عقلی اورتاریخی سطح پر کریں گے ۔ اس سلسلے میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار پیش پیش ہیں ، انہوںنے کئی معروف اہل قلم اورسرگرم اہل علم سے رابطہ کیا ہوا ہے ۔ ان لوگوں کا احساس ہے کہ ملک کا نیا حکمراں گروہ تمام سرکاری اداروں کو ایک مخصوص رنگ میں رنگنا چاہتا ہے ۔ تعلیمی اداروں کے نصاب کوبھگوا رنگ میں رنگا جارہا ہے ۔ تاریخ ، کلچر اور جغرافیہ کے اداروں کوایک خاص ذہن کے لوگوں کے سپرد کیاجارہا ہے ۔ لہٰذا ملک کواس خطرناک رجحان سے بچانا ضروری ہے ، ورنہ اس ملک کی تاریخ مسخ ہوکر رہ جائے گی ۔ اس سلسلے میں ۱۹؍جولائی کو اِن دانشوروں کی اہم مشاورتی میٹنگ ہوئی جس میں جے ڈی یو کے لیڈروں نتیش کمار، کے سی تیاگی کے علاوہ اشوک واجپئی ، منگیش ڈبرال ، اوم تھانوی، وشنوناگر، اپورو انند، پرشوتم اگروال، سیما مصطفیٰ اورسریش شرما جیسے اہم افراد شریک ہوئے ۔ طے کیا گیا کہ عام لوگوں کے دل ودماغ تک پہنچنے کے لئے فی الحال بڑے شہروں میں کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔ (انڈین ایکسپریس ۲۶؍جولائی) اس میں اُن دانشوروں اور مورخوں کے کام کوخاص طور سے عوام کے سامنے لایا جائے جنہوںنے دیانتداری کے ساتھ تحقیق وتلاش کے میدان میں کام کیا ہے۔

ہرحساس شہری خوش ہوگا

وہ کون حساس اور ذمہ دار شہری ہے جسے اِس خبر سے خوشی نہ ہوئی ہوگی۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پڑھا لکھا اور دور اندیش شہری دیکھ رہا ہے کہ ملک کی تاریخی حیثیت کوبدلنے کی کوشش کرنے والوں نے ہر حربہ اورہر میدان استعمال کرنا شروع کردیا ہے اورعلمی سطح پر اہلِ علم کے ایک مخصوص گروہ کوخاص طور سے استعمال کررہےہیں۔ اِسی خبر کے ساتھ یہ خبر بھی آئی ہے کہ مرکزی حکومت نے ڈاکٹر بدھا رشمی منی نامی اُس افسر کونیشنل میوزیم کا ڈائریکٹر جنرل بنا دیا ہے جس کی نگرانی میںاے ایس آئی (محکمۂ آثار قدیمہ) کی ایک ٹیم  نے۲۰۰۳ء میں اجودھیا میں ابتدائی کھدائی کے بعد رپورٹ دی تھی کہ بابری مسجد کے نیچے ایک قدیم مندر کے آثار پائے گئے ہیں ۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے اس رپورٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اورمحکمے کو ہدایت دی تھی کہ منی کوٹیم کی ذمہ داری سے ہٹا کر کسی دوسرے افسر کویہ ذمہ داری دی جائے۔ محکمے نے اس پر عمل بھی کیا تھا ۔ ڈاکٹر منی اپنی رپورٹ پر آج بھی قائم ہیں اورانہیں نیشنل میوزیم کا سربراہ بنائے جانے کواس کا م کا ایوارڈ کہا جارہا ہے۔ ایسے بہت سے ادارے ہیں جہاں حکومت آر ایس ایس کے ذہن و فکر کے افراد کوبٹھارہی ہے۔

مشکلات کوبھی سامنے رکھیں

اس لئے غلط نہیں سوچتے اگر صحیح الفکر دانشور اِس رجحان کی مزاحمت کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اُن کی قوت کیا ہے ، وسائل کتنے ہیں۔ خیالات اور افکار ونظریات کوپھیلانے کا سب سے بڑا ہتھیار — میڈیا— تو حکومت اورآر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے ۔ کسی کوشش کے خلاف یا حق میں سڑکوں پر اترنےوالے گروہ بھی اُنہی کے کنٹرول میں ہیں۔ حکومتوں کی قوت خریدسے انکار کون کرےگا ۔ اس صورت میں وہ عوام کے پاس کیسے جاسکیں گے ؟ اگروہ چند اور دانشوروں اورسماجی ماہروں کواپنے ساتھ شامل کر بھی لیںتو اس سے کیا فرق پڑے گا ۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار منفی قوتوں کے خلاف ایک مضبوط لیڈر کے طور پر ضرور ابھررہے ہیں ، بہار کی عام جنتا کے علاوہ دوسری ریاستوں کے عوام بھی انہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بہار میںعوامی لیڈر لالو پرساد یادو بھی ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن اہلِ علم اوردانشوروں کے حلقوں کووہ اپنی جانب کیوں کر متوجہ کرسکیں گے ۔ اس کے لیے بڑی محنت اوریکسوئی کی ضرورت ہوگی۔ خیال بہرحال مثبت اورتعمیری ہے ، اس کی تائیدوحمایت ہر حال میں ہونی چاہیے ۔ جوطبقات موجودہ حالات سے براہ راست متاثر ہیں، وہ یقیناً ان کوششوں کا ساتھ دیں گے۔(پ ر)
بہ شکریہ دعوت نئی دہلی

http://dawatonline.com/

The short URL of the present article is: http://harpal.in/cbsE6

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے