Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر یکم جون ۲۰۱۶ء

خبرونظر یکم جون ۲۰۱۶ء

no Shake Hands

واقعہ سوئٹزر لینڈکا ہے

یہ واقعہ سوئٹزر لینڈ کا ہے۔ وہاں تھروِل کے مقام  پر ایک پبلک اسکول کے دو مسلم طلباء نے اپنی لیڈی ٹیچر کے ساتھ ہینڈ شیک کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا، ہم صرف اُن خواتین کو چھو سکیں گے جن کے ساتھ ہماری شادی ہوگی۔‘‘ اسکول کی انتظامیہ نے لڑکوں کی بات میں وزن محسوس کرتے ہوئے اسکول بورڈ سے درخواست کی کہ اس سلسلے میں رہنمائی کرے۔ اسکول بورڈ نے ہدایت جاری کی کہ مسلم طلباء کو لیڈی ٹیچرس سے لازماً ہاتھ ملانا چاہئے بصورت دیگر ان کے والدین پر پانچ ہزار ڈالر تک کا جرمانہ کیاجاسکتا ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا ۲۶؍مئی) سوئٹزر لینڈ میں یہ خبر بحث کا موضوع بن گئی ہے اس لئے کہ اِس یوروپی ملک میں ملاقات اور خوشی کے موقع پر ہاتھ ملانا ایک قدیم اور عام روایت ہے۔ بحث یوں بھی شروع ہوگئی کہ معاملہ مسلم طلباء کا ہے۔ اور چونکہ فی زمانہ اسلام اور مسلمان پوری دنیا میں کسی نہ کسی طور  زیر گفتگو رہتے ہیں، اس لئے یہ واقعہ فوری توجہ کا سبب بن گیا۔ ویسے بھی بعض یورپی ملکوں میں روایت شکنی کی کوئی بھی خبر بحث ومباحثے کا سبب بن جاتی ہے۔ اگر بات ثقافتوں کی ہوتو پھر دور تک جاتی ہے اور واقعے کا تعلق اگر مسلمانوں سے ہوتو لوگوں کو کچھ زیادہ ہی جوش آتا ہے۔

اگرطلباء کو موقع ملا ہوتا

اب یہ نہیں معلوم کہ حکم جاری کرنے سے پہلے اسکول بورڈ نے مسلم طلباء یا اُن کے والدین کی بات تفصیل کے ساتھ سنی یانہیں یعنی یہ کہ وہ عورتوں سے ہینڈشیک کیوں نہیں کرناچاہتے، اس میں کیا برائی ہے۔ اگر سنی ہوگی تو انہوں نے یہ جواب دیا ہوگا یا اگر بورڈ موقع دیتا تو وہ یہ بتاتے کہ اخلاقی لحاظ سے یہ غلط ہے، دنیا میں جنسی فتنے ایسی ہی باتوں سے پیدا ہوتے رہے ہیں۔ جنسی جرائم یا بگاڑ کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے، بورڈ کے ممبران پڑھے لکھے لوگ ہیں، انسانی نفسیات اور بشری کمزوریوں سے بھی واقف ہوں گے ، انسانی تاریخ بھی پڑھی ہوگی کہ بے حجابی نے دنیا میں کیا کیا ستم ڈھائے ہیں— اندازہ ہے کہ اسکول بورڈ نے طلباء اور ان کے والدین کو اپنے طرز عمل کی وضاحت کرنے کا موقع نہیں دیا، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دیا ہو اور والدین بورڈ کے ممبروں کو مطمئن نہ کرسکے ہوں۔ ان کے لئے اب بھی موقع ہے کہ کچھ اہل علم کی مدد سے بورڈ کے سامنے اپنا موقف مضبوطی کے ساتھ پیش کریں، اور یہ بھی بتائیں کہ اس اختلاط کو وہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں، تمام انسانی برادریوں کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب اس سے بچیں۔

روز مرہ کی زندگی میں

روزمرہ کی زندگی میں مسلم افراد کو چھوٹے چھوٹے مواقع اکثر ملتے ہیں جن کی بنیاد پر اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا کوئی نہ کوئی پہلو وہ لوگوں کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ بھی کم نہیں کہ وہ اپنے شعار پر علانیہ قائم رہتے ہیں۔ ایک بار ایرانی کھلاڑی نے بھی یہی کیا تھا۔ کسی تقریب میں اس نے ملکہ الیزبیتھ سے ہاتھ ملانے سے یہی کہہ کر انکار کردیا تھا کہ اس کا دین اس کی اجازت نہیں دیتا ، ملکہ کے عملے کے لوگ چیں بجبیں ہورہے تھے، لیکن ملکہ صرف مسکراکر رہ گئی تھیں— جرمنی کے مسلم دانشور ڈاکٹر مراد ہاف مین جرمنی ہی میں کسی تقریب میں شریک تھے، مگر ضیافت کے وقت الگ تھلگ بیٹھ گئے تھے۔ میزبانوں یا خدمت گزاروں میں کوئی ان کے پاس آکر پوچھنے لگا:’’ کیا آپ بیمار ہیں؟‘‘  کہا ،’’نہیں، مسلمان ہوں اور میرا روزہ ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ وہ شخص متاثر ہوا ہوگا اور جاننا بھی چاہتا ہوگا کہ روزہ کیا ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ بعض نازک مواقع پر اپنے کسی چھوٹے بڑے عمل سے اپنے مسلم ہونے کی شہادت دینا ہی اپنی جگہ ایک اہم بات ہے، پھر اگر اس کی وضاحت کا موقع ملتا ہے یا موقع پیدا کیا جاتا ہے تو یہ اور بڑی بات ہے۔ سوئٹزر کے والدین کو یہی موقع ملا ہے۔ ( پ ر)

 

 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/drnub

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے