Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر (۱۶؍ جون ۲۰۱۶ء)

خبرونظر (۱۶؍ جون ۲۰۱۶ء)

Hasina Wajid

بنگلہ دیش میں

بنگلہ دیش  میںآزاد خیال افراد اور ہندوفرقے کے لوگوں پر حملوں کے پیچھے کون ہے؟ وہاں کی حکومت تو یہی کہتی آرہی ہے کہ کٹرپنتھی مسلمان اور ان کے گروپ ہیں، کبھی کبھی القاعدہ ،  اسلامک اسٹیٹ حرکت المجاہدین کے نام بھی لئے جاتے ہیں۔ لیکن اب وہاں کے وزیرداخلہ اسدالزماں خاں نے کہا ہے کہ اِن واقعات میں اسرائیل اور کچھ دوسری غیرملکی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ بی بی سی کی ۶؍ جون کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیرداخلہ نے زور دے کر کہا کہ ان کے پاس اس کے شواہد موجو د ہیں کہ ان کا ملک بین الاقوامی سازش کا ہدف بن گیا ہے اور غیرملکی ایجنسیاں اسے کمزور اور غیر مستحکم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اسدالزماں خاں نے اُس خبر کا حوالہ بھی دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری اسلم چودھری نے اسرائیل کی لکود پارٹی کے ممبر میندی این سفادی سے نئی دہلی میں ملاقات کی تھی۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سفادی اسرائیلی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے اور اسلم چودھری نے اس سے حسینہ سرکار کا تختہ الٹنے میں مدد کی بات کی تھی ۔ (یہ رپورٹ ۱۳؍ مئی کے انگریزی روزنامے ہندو میں تصویر کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ تصویر میں اسلم چودھری اور سفادی کی گل پوشی کرتے ہوئے ایک تیسرے شخص کو جو غالباً انڈین ہے، دکھلایا گیا تھا۔)
انکشاف حیرت انگیز ہے

اسدالزماں خاں کا یہ انکشاف اِس لحاظ سے بھی حیرت انگیز ہے کہ ان کی وزیراعظم شیخ حسینہ ھنوز یہی کہے جارہی ہیں کہ اقلیتی افراد اور بلاگرس پرحملوں میںاپوزیشن پارٹیوں کا ہاتھ ہے۔ وزیرداخلہ اسدالزماں خاں کے بیان کے دو دن بعد ۸؍ جون کو ڈھاکہ کی پریس کانفرنس میں انھوں نے اپنی یہی بات دہرائی، وہ اُسی دوران سعودی عرب کے دورے سے واپس آئی تھیں۔ حسینہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں، ان کے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔ گویا ایک حساس مسئلے پر وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے موقف میں واضح تضاد ہے۔ اب پتہ نہیں وزیرداخلہ اپنے بیان پر قائم رہتے ہیں، اس کی لیپا پوتی کرتے ہیں یا یہ کہہ کر دامن چھڑاتے ہیں یہ اُن کا ذاتی بیان تھا یا یہ کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا حالانکہ الفاظ ومعانی میں کوئی ابہام نہیں ہے ——— بہرحال حکومت کی اندرونی سیاست جو بھی ہو، بنگلہ دیش کی صورتحال کی حقیقت وہی ہے جو اسدالزماں خاں نے بیان کی ہے۔ بنگلہ دیش ایک غریب ، پسماندہ، محتاج اور مجبور ملک ہے۔ وہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے، اس میں وہاں کی حکومت کا ہاتھ کم، غیرملکی ایجنسیوں کا رول زیادہ ہے۔ اسرائیلی دہشت گردی کے پرمسلم دنیا میں خاص طور سےپھیلے ہوئے ہیں۔

غیرجانبدارانہ انکوائری ہو

باخبر حلقے جانتے ہیں کہ توسیع پسند اور استحصالی قوتیں چھوٹی اور کمزور مملکتوں کا استحصال کس طرح کرتی ہیں، وہاں انتشاربرپا کرکے کس طرح اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں اور خود یہ مملکتیں اپنی کمزوریوں کو چھپانے یا اپنے ظالمانہ اقدامات کو درست ٹھہرانے کے لئے غیرملکی ایجنسیوں کا سہارا کس طرح لیتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں اسلامی نظام حیات میں یقین رکھنے والے مسلمان اور ان کی تنظیمیں اور وہ سیاسی پارٹیاں جو کسی نہ کسی درجے میں اسلامی اصولوں پر عمل کرتی ہیں، خاص طور سے زد میں ہیں۔ لہٰذا انھیں بدنام اور کمزور کرنے اور ان کے خلاف سرکاری جبر کا جواز پیدا کرنے کی غرض سے یہ سب کیا جارہا ہے۔ آزاد خیال افراد، بلاگرس اور ہندو عیسائی اقلیتوں کے افراد کو مسلمان نہیں ، حکومت کے اشارے پر غیرملکی ایجنسیوں کے ایجنٹ ہلاک کررہے ہیں۔ اگر اسدالزماں خاں اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں تو وہ یہ حقیقت بہ آسانی دنیاکے سامنے لاسکتے ہیں ۔ انہیں کسی آزاد اور غیر جانبدار بین الاقوامی وفد کو بلاکر اس سے حقائق کا پتہ لگوانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرسکیں تو مملکت بنگلہ دیش کے لئے یہ ان کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ (پ ر)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/g9dJ6

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے