Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر (۲۸؍ستمبر ۲۰۱۶ء) تین صحافیوں کا ضمیر

خبرونظر (۲۸؍ستمبر ۲۰۱۶ء) تین صحافیوں کا ضمیر

تین صحافیوں  کا ضمیر

سنتوش بھارتیہ مشہور صحافی ہیں، ہفت روزہ چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ حال ہی میں وہ دو سینئر صحافیوں ابھے کمار دوبے اور اشوک وان کھیڑے کے ہمراہ کشمیر کے دورے پر گئے تھے۔ دورے کا مقصد وادیٔ کشمیر کی صورتحال کے حقائق کا پتہ لگانا تھا۔ دورے سے واپس آکر بھارتیہ نے اپنے اخبار میں ایک طویل مضمون لکھا اس طرح کہ جو کچھ دیکھا، جو سمجھا ، جو محسوس کیا ، وہ سب من وعن بیان کردیا۔ پہلا تاثر ان تینوں صحافیوں کا یہ ہے کہ کشمیر کے بارے میں انڈین میڈیا جو کچھ بتا رہا ہے اس میں  صداقت بہت کم ہے۔ بھارتیہ کا یہ مضمون دراصل وزیراعظم کے نام ایک کھلے خط کی شکل میں ہے جس میں وزیراعظم سے انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’وادیٔ کشمیر سے متعلق جو خبریں آپ تک پہنچتی ہیں وہ سرکاری افسروں کی اسپانسر شدہ خبریں ہوتی ہیں، اُن میں سچائی کم ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس صحیح صحیح خبریں پہنچیں اور آپ وادی کے حقائق سے صحیح طور سے باخبر ہوجائیں تو مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اِن حقائق کو نظرانداز نہیں کرسکیں گے‘‘۔ غرض خلاصہ ان صحافیوں کے احساسات کا یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ وہ نہیں ہیں جو انھیں بتایا جاتا ہے۔ وہ صرف اپنے انسانی وجمہوری حقوق چاہتے ہیں، پیار اور محبت کے طلب گار ہیں پاکستان نواز نہیں ہیں۔
ایک تجویز

ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک جتنے بھی وفود اور افراد برائے جائزہ بھیجے گئے ان سب نے اپنی رپورٹیں حکومت کو دی ہوں گی لیکن کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ انھوں نے اپنی رپورٹوں میں کیا کہا اور حکومت نے اس پر کیا کارروائی کی۔ ان صحافیوں کی تجویز ہے کہ ایسی تمام رپورٹوں کو سابق چیف جسٹسوں کے ایک گروپ کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ ان کا جائزہ لے کر اپنی تجاویز حکومت کو پیش کرسکیں۔ سنتوش بھارتیہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں یوں تو بہت کچھ کہا گیا لیکن کشمیریوں کے دل جیتنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جبکہ سب سے زیادہ ضرورت اِسی  بات کی تھی۔ ’’کشمیر کی سرزمین ہمارے پاس اس لئے ہے کہ وہاں ہماری فوج ہے لیکن کشمیر کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ کشمیریوں کے دلوں میں ہمارے نظام کے خلاف شدید غم وغصہ ہے اسی لئے وہ سرکاری لوگوں سے بات نہیں کرناچاہتے ‘‘۔ ’’وہ خطرات کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں‘‘ ۔ بھارتیہ کے بقول ’’کشمیریوں کو سب سے بڑا خطرہ قتل عام کا ہے۔ اور میں یہ حقیقت آپ کے سامنے اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ کشمیر کو قتل عام سے بچانے میں آپ کا کردار بہت اہم ہوگا‘‘۔ لکھا ہے کہ کشمیریوں سے ان کے حالات سن سن کر ہم لوگ کئی بار روئے۔

اِس خوش گمانی کی بنیاد

کشمیر کی صورتحال پر اِسی نوعیت کی باتیں انگریزی کے کچھ مبصرین نے بھی کہی ہیں لیکن دبی زبان سے یا اشاروں کنایوں میں۔ واضح اور دو ٹوک انداز میں شاید یہ پہلی تحریرہے۔ اس میں اِس خوش گمانی سے کام لیاگیا ہے کہ اگر وزیراعظم کے سامنے کشمیر کے حقائق مِن وعن آجائیں تو وہ یقیناً کچھ نہ کچھ جرأتمندانہ اقدامات کریں گے جبکہ تاریخی حقیقت کچھ اور ہے۔ کشمیر میں جوکچھ ہورہا ہے وہ رولنگ کلاس کی طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے۔ اس لئے وزیراعظم اگر کچھ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ سنتوش بھارتیہ اور ان کے ساتھیوں کی خوش گمانی غالباً اِس بنیاد پر ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اس وقت وزیراعظم ہی سب سے زیادہ طاقتور ہیں حتیٰ کہ وہ آر ایس ایس پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن بھی رکھتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ کشمیریوں کے دل پیار ومحبت سے جیتنے کا اقدام کرتے ہیں تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ ہرچند کہ خوش گمانی کی بنیاد زیادہ مضبوط نہیں ہے لیکن پھر بھی اس کی حمایت سبھی کو کرنی چاہئے۔ سنتوش بھارتیہ اور ان کے ساتھیوں کو اپنا کیس براہ راست وزیراعظم کے سامنے مزید تیاری اور مضبوطی کے ساتھ پیش کرنا چاہئے۔ حریت کانفرنس کے دو نوں گروپوں کے موقف کو بھی سننے سمجھنے کی کوشش ہو تاکہ جو حل نکلے وہ پائیدار اور دیرپاہو۔ (پ ر)

بشکریہ دعوت آن لائین

http://dawatonline.com/

The short URL of the present article is: http://harpal.in/eUIUc

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے