Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر ۴؍ جون ۲۰۱۶ء

خبرونظر ۴؍ جون ۲۰۱۶ء

2012_11img25_Nov_2012_PTI11_25_2012_000118B32-600x338جب عیسائیت دو لخت ہوگئی

سنہ ۱۵۱۷ءمیں کیتھولک عیسائی فرقے کے پیشوائے اعظم (پوپ) نے اپنا ایک نمائندہ جرمنی بھیجا کہ وہاں سے ایک خطیر رقم لوگوں سے بطور چندہ وصول کرکے لائے تاکہ اس رقم سے ویٹی کن میں ایک شاندار سینٹ پیٹرچرچ تعمیر کیا جاسکے۔ جرمنی کے بڑے پادری نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لکھا کہ کیتھولک چرچ ہمارے عقیدے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ پادری نے یہ نوٹ اپنے چرچ کے صدر دروازے پر لٹکا دیا۔ یہ قدیم کیتھولک چرچ کے خلاف بغاوت تھی۔ اُسی دن عیسائی فرقہ دو حصوں میں بٹ گیا اور پروٹیسٹنٹ ریفارمیشن کی بنیاد پڑگئی، لیکن دراصل یہ قدیم چرچ اور عقیدے کو بدعنوان مذہبی رہنماؤں سے بچانے کی کوشش تھی۔ اس فرقے کے قیام کو ۴۹۹ سال ہوچکے ہیں۔ آئندہ سال پورے پانچ سو سال ہوجائیں گے۔ جس پادری نے یہ بغاوت کی تھی اس کا نام مارٹن لوتھر ہے۔ آج مغربی عیسائی دنیا کا بہت بڑا حصہ پروٹسٹینٹ ہے — —— تاریخ کے اس اہم واقعے کا ذکر انگریزی کے مشہور مبصر آکارپٹیل نے اپنے تازہ آرٹیکل ’’(انڈیا میں دھرم کاروباری ہے‘‘۔ (ایشین ایج۲۹؍ مئی) میں کیاہے۔ موضوع یہ ہے کہ عیسائیت کی طرح یہاں کے اکثریتی دھرم کو بھی اس کے ذمے داروں نے کاروبار بنا رکھا ہے۔

اپنے بھارت ورش میں

اور آکار پٹیل کو یہ تاریخ ۲۵؍ مئی کے اخباروں میں دو خبریں پڑھ کر یاد آئی (۱) آندھرا پردیش کے مندروں کی آمدنی میں ۲۷ فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے جسے ریاستی وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے لوگوں میں بڑھتے ہوئے پاپ سے تعبیر کیا ہے کہ لوگ پاپ کرتے ہیں اور پھر مندروں میں چڑھاؤں کے ذریعے انھیں دھونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ (۲) راجستھان میں اودے پور کے ایک قدیم مندر کے پجاری شردھالوؤں سے گیارہ گیارہ روپے لے کر انہیں ’’پاپ مکت‘‘ کردینے کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ آکارپٹیل کا کہنا ہے کہ مندروں کو دھرم کے ذمے داروں نے بھاری آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔جو جتنازیادہ چڑھاوا چڑھائے گا ، اتنی ہی زیادہ اس کی پذیرائی ہوگی۔ بھاری رقم یا سونا لے کر بغیر قطار کے دیوی دیوتا کے درشن کرائے جاتے ہیں۔ یہ ویساہی ہے جیسا کہ پانچ سو سال پہلے تک عیسائی فرقے کے اندر ہوتا تھا۔ اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ دوماہ قبل جب وہ کاشی گئے تو قدم قدم اور بات بات پر انھیں دکشنا دینی پڑی۔ مندروں کے پجاری شردھالوؤں کو شردھالو کی بجائے گاہک سمجھتے ہیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ’’اگر ہم اس کی اصلاح کی کوشش کریں تو شاید پانچ سو سال لگیں گے۔ ہم صرف خواہش کرسکتے ہیں کہ پانچ سو سال نہ لگیں‘‘۔

 

غیر سنجیدگی کا نتیجہ

خلاصہ  آکار پٹیل کے تبصرے کا یہ ہے کہ دھرم کے نام پر شردھالوؤں سے پیسے اینٹھنا ایک عالمگیر عمل ہے اور ہمارے ملک میں کچھ زیادہ ہی ہے۔ عام لوگ تو یقیناً اپنے عمل میں مخلص ہوتے ہیں لیکن دھرم کے ذمے دار اور دھارمک استھلوں کا نظم چلانے والے اسے مالی منفعت کے ذرائع سمجھتے ہیں —— ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ اُس دھرم کے ذمےداروں اور انویائیوں کا ہے جس سے آکار نے بحث کی ہے۔  باہر کے لوگوں کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہوسکتا۔ تاہم اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے آکار پٹیل جیسے مبصرین بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہاں مالی منفعت کے علاوہ دھرم کو انسانوں کے مابین نفرت وعداوت پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کیاجاتا ہے اور بہت بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے حتیٰ کہ انتخابات میں رائے دہندگان کو دھرم کی بنیاد پر تقسیم کرکے ان کی حمایت حاصل کی جاتی ہے۔ یہ عمل اس سے کہیں زیادہ نقصاندہ ہے جو محض مالی منفعت کے لئے کیا جاتا ہے۔ دھرم کے ساتھ یہ سلوک اس لئے کیا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اگر آکار جیسے لوگ اس کا احساس رکھتے ہیں تو پھر ان کی کوشش لوگوں کو سنجیدہ بنانے کی بھی ہونی چاہئے ۔ اگر اس پر ملک گیر بحث ہوتو بہت ہی اچھا ہے۔ (پ ر)

 

 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/QmMdv

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے