Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر ۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء مہاراشٹر سے ایک اہم آواز

خبرونظر ۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء مہاراشٹر سے ایک اہم آواز

خبرونظر  ۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء

مہاراشٹر سے ایک اہم آواز
مہاراشٹرمیں بے قصور مسلم نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کے خلاف مہاراشٹر ہی سے ایک اہم آواز آئی ہے ۔ یہ آواز ہے مراٹھا لیڈر شرد پوار کی جن کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس (اینٹی ٹیررزم اسکواڈ) مسلم نوجوانوں کوغیر قانونی طریقے سے گرفتار کررہا ہے اوران کا تعلق خواہ مخواہ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ ) سے جوڑرہا ہے ۔ یہ گرفتاریاں مراٹھواڑہ علاقے میں خاص طور سے کی جارہی ہیں۔ ۳۱؍اگست کے انڈین ایکسپریس کے مطابق ۲۸۔ مسلم گروپوں کے ایک وفد نے مسٹر پوار سے ملاقات کی اورتفصیل سے بتایا کہ اے ٹی ایس مسلم نوجوانوں کوبلا وجہ گرفتار کرکے کس طرح ان کی اوران کے اہل خاندان کی زندگیاں برباد کررہا ہے ۔ مسٹر پوار کا کہنا ہے کہ پولیس مشینری ان لوگوں کے خلاف لازماً کارروائی کرے جوفی الواقع قصوروار ہیں لیکن مسلم نوجوانوں کواس طرح دہشت زدہ نہ کیا جائے اورنہ بلا ثبوت ان کا تعلق اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ جوڑا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ دہشت گرد اورجرائم پیشہ افراد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ مسٹر پوار نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اس مسئلے پر وہ وزیر اعظم کے ساتھ بات کریں گے اورضرورت ہوئی تواسے ملک گیر سطح پر بھی اُٹھائیں گے ۔ مسٹر پوار نے اس موقع پر مراٹھا نوجوانوں کی بے چینی کا ذکر بھی کیا جوریزرویشن کے سوال پر ریاست کے کچھ حصوں میں حکومت کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔
سیاسی پہلو
ایکسپریس کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ بعض حلقے شرد پوار کے اس بیان کوسیاسی پہلو سے دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے مطابق مسٹر پوار نے یہ مسائل مہاراشٹر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کوذہن میں رکھ کر اُٹھائے ہیں ۔ مسلم نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کا مسئلہ نیشنل لیول پر اُٹھانے کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر پوار کے دماغ میں آئندہ سال ہونے والے یوپی کے انتخابات ہیں (مہاراشٹر میں بمبئی سمیت دس بڑی  میونسپل کارپوریشنوں ، ۲۶۔ضلع پریشدوں ، اور ۱۹۶۔ میونسپل کونسلوں کے انتخابات آئندہ مار چ سے پہلے پہلے ہونے والے ہیں جس کے لئے ریاستی سیاسی پارٹیاں ابھی سے سرگرم ہوگئی ہیں) ——اگر ایسا ہے بھی تو ہندوستانی سیاست میں یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے ۔ دوسری پارٹیاں بھی یہی کررہی ہیں۔ مسلم گرفتاریوں کے پیچھے بھی سیاسی مقاصد ہی کارفرما ہیں ۔ مسلم کمیونٹی کوہراساں کئے جانے کا مقصد بھی نام نہاد اکثریتی فرقے کے ووٹ حاصل کرنا ہے ۔ لہٰذا ایک بڑا سیاسی لیڈر اگر مسلم ووٹوں کو ذہن میں رکھ کر ان کے ساتھ انصاف کی بات کرتا ہے تو یہ کوئی عجب اورانوکھی بات نہیں۔ اہم یہ ہے کہ مسٹر پوار نے مسلم نمائندوں کی شکایات نہ صرف توجہ اورہمدری کے ساتھ سنیں، بلکہ انہیں حکومت کے سامنے اُٹھانے کا وعدہ بھی کیا۔
یہ قابلِ ستائش ہے
مسلم نمائندوں کا یہ کام بھی قابل ستائش ہے کہ وہ اپنی کوششوں کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کے بااثر افراد کوبھی متوجہ کررہے ہیں۔ شرد پوار ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں‘ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اورمرکز میں وزیر بھی رہ چکےہیں ۔ انہیں ذاتی تجربہ اورمشاہدہ ہے کہ سرکاری ایجنسیاں کس طرح کام کرتی ہیں اور سیاست اور حکومت ِ وقت ان پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے ۔ بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کے مسئلے کا تعلق ملکی وقار سے بھی ہے۔ جولوگ مسلم کمیونٹی سے کدورت رکھتے ہیں انہیں اپنے وقتی سیاسی مفاد کے تحت تو یہ سب بہت اچھا لگتا ہے لیکن انجام کار یہ ملک کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے ۔ بیس کروڑ کی آبادی کواس طرح ہراساں کرکے آپ ملک کی خدمت نہیں ، ملک کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں ۔ اہل سیاست وحکومت کویہ بات شرد پوار جیسے سینئر لیڈر ہی سمجھا سکتے ہیں ۔ کرنے کا ایک کام اوربھی ہے ۔ شرد پوار  اوراُن جیسے ذمہ دار کویہ بات بتائی جائے کہ یہ داعش یا اسلامک اسٹیٹ کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس کا کسی بھی طبقے کے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ مفروضہ اسلام مخالف طاقتوں نے اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کرنےکے لئے کھڑا کیا ہے ۔ اُسے ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ کا نام دینے کے پیچھے بھی ایک گہری اوردو ر رس سازش ہے ۔ یہ بات پورے ملک کوبتانے کی ضـرورت ہے ۔ (پ ر)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/n2oRv

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے