Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر ۷؍ جون ۲۰۱۶ء

خبرونظر ۷؍ جون ۲۰۱۶ء

protest-main akhlaq1

دادری سے دو رپورٹیں

دادری کے گاؤں بساڑا سے ، جہاں مبینہ طور پر بیف رکھنے کے ’’جرم‘‘ میں محمد اخلاق نامی ایک شخص کو مار مار کر ہلاک اور بیٹے کو ادھ مر اکردیا گیا تھا، دو رپورٹیں ایک ہی دن آئی ہیں۔ ایک رپورٹ انگریزی روزنامے اسٹیٹس مین (۲؍جون) کی ہے کہ گاؤں کے عام نواسیوں کو اِس واقعہ پر سخت صدمہ ہے اور وہ اسے بھول جانا چاہتے ہیں۔ گاؤں میں ایسی کوئی بات نہیں چاہتے جس سے وہ تکلیف دہ یادیں تازہ ہوسکیں۔ اخبار کے نامہ نگار ابھے سنگھ نے گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ گاؤں والوں کو محمد اخلاق اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی ہے وہ ان کی لڑکیوں کی شادی میں بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ گاؤں چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ بساڑا کے لوگ سیاسی لیڈروں کی سرگرمیوں سے بہت خوف زدہ ہیں، انہیں اندیشہ ہے کہ یوپی میں الیکشن کے موقع پر سیاسی لوگ پھر کوئی اسکینڈل کرسکتے ہیں۔ وہ خود اپنے گاؤں کے کچھ عناصر کی  سرگرمیوں سے بھی پریشان ہیں، متھرا فارنسک لیباریٹری کی رپورٹ کے بعد ان کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔ گاؤں کے سچن کمار اور دھرمیندر کا کہنا ہے کہ گاؤں میں حالات پرامن ہیں۔ ہندو مسلم دونوں پہلے کی طرح امن ومحبت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

دوسری رپورٹ
دوسری رپورٹ انڈین ایکسپریس اور بعض دوسرے اخباروں کی ہے جس میں پہلی رپورٹ کے بالکل برعکس منظر کشی کی گئی ہے۔ بتایاگیا ہے کہ متھرا فارنسک رپورٹ کے بعد گاؤں میں ایک بار پھر تناؤ پیدا ہوگیا ہے اور گاؤں والے ذبیحہ گاؤ پر محمد اخلاق اور ان کے خاندان کے تمام افراد کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں، وہ ۴۵ لاکھ کی اُس رقم کی واپسی کا مطالبہ بھی کررہے ہیں جو ریاستی سرکار نے محمد اخلاق کے اہل خاندان کو دے رکھی ہے۔ سیاسی لوگ، خاص طور سے بی جے پی کے لیڈر سرگرم ہوگئے ہیں اور متھرا رپورٹ کو بنیاد بنا کر بیان بازی کررہے ہیں ——یہ دو رپورٹیں مختلف اور متضاد ہیں۔ لیکن دیگر ذرائع سے حاصل شدہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائزہ اسٹیٹس مین کے رپورٹر ابھے سنگھ کا ہی درست ہے۔دیگر اخباروں کی رپورٹ ادھوری ہے۔ جو لوگ متھرا کی غیر مصدقہ رپورٹ پر شرارتیں کررہے ہیں وہ ان نوجوانوں کے باپ یا سرپرست ہیں جنہیں قتل وخون کے الزامات میں پکڑا گیا ہے۔ اور گاؤں کے معدودے سیاسی شرپسند اُن کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ورنہ گاؤں کی اکثریت اس باب کو بھول جاناچاہتی ہے۔
اس کا تعلق رپورٹروں کے ذہن سے ہے
انڈین میڈیا میں حالات وواقعات کی متضاد رپورٹنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کا تعلق میڈیا کے مالکان کی طے شدہ پالیسی سے بھی ہے رپورٹروں اور نامہ نگاروں کے اپنے ذہن ، اپنے رجحان سے بھی ہے۔ دادری کی اس رپورٹنگ کا تعلق رپورٹروں کی پسندوناپسند سے ہے۔ اسٹیٹس مین کے رپورٹر نے گاؤں کا دورہ کیا، لوگوں سے بات چیت کی اور جو کچھ دیکھا سمجھا اسے نمایاں کیا جو یقیناً مثبت اور خوش آئند ہے۔ اس میں کوئی سنسنی نہیں ہے۔ ایکسپریس کے رپورٹر نے شرپسندوں کی سرگرمیوں کو اہمیت دی جن میں سنسنی ہے ۔ منفی ذہن رکھنے والوں کی تسکین کا سامان ہے۔ ایف آئی آر کی بات اس طرح رپورٹ کی ہے گویا وہ پورے گاؤں والوں کی طرف سے ہو جب کہ گاؤں کی بڑی اکثریت اس قسم کی حرکات کے خلاف ہے۔ میڈیا کے اس پہلو کا نوٹس لینا پریس کونسل اور سول سوسائٹی کا کام ہے۔ تاہم جو افراد یا حلقے میڈیا کی رپورٹنگ کا معیار بہتر بناناچاہتے ہیں انہیں رپورٹروں اور نامہ نگاروں کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے کہ حالات پر سب سے زیادہ اور فوری طور سے یہی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مسلم میڈیا یہ کام ضرور کرے۔ جو روابط کے ذریعے بہ آسانی ہوسکتا ہے۔ ( پ ر)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/MzXDs

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے