Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر 13-06-2016

خبرونظر 13-06-2016

Ronald

امریکی امید و ار او ر مسلم جج

ڈونالڈ ٹرمپ ، جوری پبلکن پارٹی کی جانب سے امریکی صدارت کے امیدوار ہیں یا ہوسکتے ہیں اور اوٹ پٹانگ باتیں کرکے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ، کہتے ہیں کہ انہیں مقدمات کے سلسلے میں کسی مسلم جج پر اعتبار نہیں ہے ، کسی مسلم جج کے سامنے ان کا مقدمہ پیش ہوتو انہیں یقین ہے کہ وہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ بات ۶ ؍جون کو ایک ٹی وی شو میں کہی۔ تناظر اُن کے ریمارک کا میڈیا نے یہ بتایا ہے کہ ٹرمپ کی متنازع یونیورسٹی کا مقدمہ نیویارک ڈسٹرکٹ کورٹ میں زیر سماعت ہے اور جسٹس گونزالو کورینل جن کا پیدائشی تعلق میکسیکو سے ہے ، اس کی سماعت کررہے ہیں ٹرمپ نے اپنے ایک پچھلے بیان میں ان پر عدم اعتماد ظاہر کیا تھا ۔ یہ نہیں معلوم کہ جسٹس گونزالو کورینل مسلمان ہیں، عیسائی ہیں یا مذھباً کچھ اورہیں ۔ لیکن ٹرمپ نے بہر حال اِسی مقدمے کے پس منظر میں صاف صاف کہا کہ انہیں ’’کسی مسلمان جج پر اعتبار نہیں۔‘‘ سبھی جانتے ہیں کہ نیویارک کا یہ ارب پتی بزنس مین امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پرپابندی کی باتیں کرکرکے لائم لائٹ میں آیا ہے ۔ اس طرح یہ بھی معلوم ہواکہ کسی مذہبی اکائی یا ذات برادری کوگالیاں دے کر راتوں رات مقبول بن جانے کا آرٹ صرف ہمارے ملک ہی میں نہیں امریکہ جیسی ’’ ترقی یافتہ‘‘ سوسائٹی میں بھی کام کرتا ہے ۔
عیسائی جسٹس کی گواہی

یہ نہیں معلوم کہ ٹرمپ کواس سے پہلے کتنے مسلم ججوں اورگواہوں سے سابقہ پیش آیا ۔ اندازہ ہے کہ نہیں پیش آیا ۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کینیا کے ایک معتبر اور تجربے کار جسٹس کا تجربہ یاد دلایا جائے ۔ عیسائی جسٹس اَما نوئیل اوکوباسو نے ، جوبیس سال قبل کینیا میں قانونی اصلاحات کمیشن کے چیرمین تھے، ماہرین کی ایک بڑی میٹنگ میں کہا تھا ’’ایک مجسٹریٹ اورہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنےبیس سالہ تجربےمیں میںنے قرآن سے مسلمانوں کے تعلق اوربائبل کے ساتھ عیسائیوں کے رویے میں زبردست تفاوت دیکھا۔ اگر ایک مسلمان کسی مقدمےمیں قرآن کاحلف لے کر گواہی دینے پر راضی ہوتا ہے تویقین کیجئے وہ ۷۵ فیصد حالات میں سچ بولے گا ، لیکن اگر کوئی عیسائی بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلفیہ بیان دیتا ہے تویقین کیجئے وہ صرف اپنا نام صحیح بتائے گا ……..‘‘——— در اصل عیسائی جسٹس کا یہ درد عیسائیت اوربائبل کے لئے تھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ عیسائی بائبل کے ساتھ یہ کھلواڑ بند کریں ، سچے پکے اورباعمل عیسائی بن جائیں اوربائبل سے وہ محبت کریں جومحبت مسلمان قرآن کےساتھ کرتے ہیں۔ عیسائیت کی تبلیغ کرکے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو عیسائی بنائیں ۔ (ملاحظہ ہو ۲۵؍دسمبر ۱۹۸۹ء کا خبرونظر اِسی شمار ے کے صفحہ ۶ پر)
مسلم ججو ں کا کردار
ہرچند کہ اس مثال میں کسی مسلم جج کا نمونہ شامل نہیں ہے، لیکن اندازہ کیا جاسکتاہے کہ جب عام مسلمان عدالتوں میں قرآن کا احترام اس قدر ملحوظ رکھتے ہیں تومسلم جج صاحبان کوئی فیصلہ سناتے ہوئےقرآنی احکام کوذہن میں کس قدر ملحوظ رکھتے ہوں گے ۔ ویسےبھی ایک مسلم جج ملکی دستور اوراسلامی اخلاقیات دونوں کوسامنے رکھتا ہے ۔ مسلم منصفوں اورقاضیوں کے مثالی انصاف سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ حالانکہ امریکہ کے ڈونالڈ ٹرمپ اپنے ذہنی فتور کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ ان سے یہ سنجیدہ بحث کی جائے مگر چونکہ امریکیوں کا ایک طبقہ انہیں پسند کرتا ہے اوراس کے باوجود کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ میکسیکو کے باشندوں کوبھی برا بھلا کہتے ہیں ، عورتوں کی تحقیر کرتےہیں، مسلم دانشوروں کوان کے ذہن تک پہنچنا چاہیے اوربتانا چاہیے کہ اسلام کیا ہے، قرآن کیا ہے ،مسلمان کسے کہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کوئی بات سمجھ میں آجائے ۔ ایسے شخص کومحض اس لئے نظر انداز کرناکہ وہ غیر ذمے دارانہ باتیں کرتا ہے ، مناسب نہیں۔ مسلم داعیوں کوہر حال میں اپنارول ادا کرنا چاہیے۔ برطانیہ کے اسکاٹ لینڈ کی دو مسجدوں نے ٹرمپ کو دورے کی دعوت دے کر اچھا کام کیا ہے۔ (پ ر)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/vJFvi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے