Breaking News
Home / اہم ترین / خبرونظر 25-06-2016 گلبرگ۔ ا صل’’ مجرم‘‘ کون ؟

خبرونظر 25-06-2016 گلبرگ۔ ا صل’’ مجرم‘‘ کون ؟

gulberg

گلبرگ۔ ا صل’’ مجرم‘‘ کون ؟

جن لوگوں نے احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے مقدمے کا فیصلہ بغور پڑھاہے ، اگران سے پوچھا جائے کہ فیصلے کی روشنی میں اس قتل عام کا اصل ’’مجرم‘‘ کون ہے ؟ سب کا جواب ایک ہی ہوگا— احسان جعفری — خصوصی عدالت کے جج پی بی دیسائی کے مطابق ۲۸؍فروری ۲۰۰۲ء کوہزاروں کا جو ہجوم گلبرگ  رہائشی سوسائٹی پر جمع ہوا تھا ، اس کا ارادہ کسی کومارنے یا جانی نقصان پہنچانے کا نہیں تھا ، وہ لوگ گلبرگ سوسائٹی کےباہر صرف پتھراؤ کررہے تھے، گاڑیوں کوآگ لگانے اوراقلیتی فرقے کی جائداد کونقصان پہنچانے کی کوشش کررہے تھے ۔ جج کے مطابق ہجوم قتل وخون اورجانی غارت گری پر اُس وقت اتر آیا جب احسان جعفری نے اپنے مکان سے اس پر فائرنگ شروع کردی اور لوگ مرنے لگے ۔ عدالت کے نزدیک جعفری نے ہجوم کو مشتعل کردیا تھا۔ یعنی اگر جعفری فائرنگ نہ کرتے توہجوم تھوڑا بہت مالی نقصان پہنچا کر واپس جلا جاتا کسی کو جان سے نہ مارتا ۔ جج نےاس مقدمے میں۱۱۔ کو عمر قید، ایک کو دس سال کی اور۱۲۔ کو سات سات سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ اس سے قبل ۳۶ ملزمین کو بری کردیا گیا تھا ۔ یہ فیصلہ پورے ۱۴سال بعد آیا ہے ۔ جج نے قاتلوں کوموت کی سزا اس لئے نہیں سنائی کہ عدالت کے نزدیک یہ لوگ ’’سماج کے لئے خطرہ نہیں ہیں ، صرف ان کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔‘‘
کوئی بذلہ سنج کہہ سکتا ہے؟

اِس فیصلے پر کوئی بذلہ سنج کہہ سکتا ہے کہ جج کے نزدیک احسان جعفری بے قصور اُس وقت قرار پاتے جب وہ نہ صرف یہ کہ فائرنگ نہ کرتے بلکہ ہجوم کا والہانہ خیر مقدم کرتے ، اگر گل پوشی بھی کردیتے تو بہت اچھا ہوتا اور پھر خود کو، اپنے اہلِ خانہ کواورگلبر گ سوسائٹی کے دیگر نواسیوں کوبڑے احترام سے ہجوم کے سامنےپیش کردیتے کہ جس طرح چاہے، مارے ، جس طرح چاہے کاٹے، جیسے چاہے آگ لگائے، جس طریقے سےچاہے  انسانوں کوجلائے، کوئی مزاحمت نہیں ہوگی — کیا خو ب — جج کے اِن دلچسپ ریمارک پر نقادِ اعظم عامر عثمانی مرحوم کے اشعار یاد آرہے ہیں

   ؎
کیوں ہوئے قتل ، ہم پر یہ الزام ہے
قتل جس نے کیا ہے وہی مدعی
قاضیٔ شہر نے فیصلہ دے دیا
لاش کو نذر زنداں کیا جائے گا
اب وکیلوں میں یہ بحث چھڑنے لگی
وہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی
وہ جو خنجر میں ہلکا سا خم آگیا
اِس کا تاوان کس سے لیا جائے گا

شہید کی بیوہ کا کر ب
شہید احسان جعفری کی بیوہ محترمہ ذکیہ جعفری نے ( اللہ انہیں اوراُن کے اہلِ خاندان کوصبر جمیل اورمزید ہمت وحوصلہ عطا فرمائے )فیصلے پر اپنا کرب ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے ’’ اُس دن گلبرگ سوسائٹی میں جوکچھ ہوا ، اسے عدالت نے نہیں دیکھا اس لئے کہ عدالت وہاں موجود نہیں تھی ، میں وہاں موجود تھی ، اس لئے میںنے سب کچھ دیکھا کہ مہلک ہتھیاروں سے مسلح ہزاروں کی غضبناک بھیڑ کس طرح بے قصور ‘ معذور ‘ مجبور‘ نہتے انسانوں کوہلاک کررہی تھی، کس طرح ایک حاملہ خاتون کومارا گیا ، معمروں اور بچوں کوکس بیدردی کے ساتھ قتل کیا جارہا تھا۔ میرے معذور شوہر کوکس طرح گھر سے گھسیٹ کر لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور پھر کس طرح آگ میں جھونک دیا گیا ———۔‘‘ (انڈین ایکسپریس ۱۸؍جون) اس فیصلے پر تعجب کا مقام اس لئے نہیںہے کہ اس سے قبل کئی مقدمات میں اصل مجرموں کوچھوڑ کر مظلوموں اوربے قصوروں کودھرے جانے کے کئی فیصلے متواتر آچکے ہیں۔ سازشیوں کوسماج اورسیاست میں وقار حاصل ہوگیا ہے ۔ گلبرگ سوسائٹی کے خصوصی جج کہتے ہیں کہ اِس کے پیچھے کوئی سازش نہیں تھی۔ کیوںنہیں تھی؟ پورے گجرات میں آگ لگانے کی جوسازش کی گئی تھی، گلبرگ سوسائٹی اُسی کا حصہ تھی—— بہرحال، مسلم قیادت نام کی کوئی   چیز اگر موجود ہے تواسے اِ س فیصلے کوملک کے پورے منظر نامے کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ( پ ر)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/4rkZY

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے