Breaking News
Home / اہم ترین / خبرو نظر (۱۰؍اگست ۲۰۱۶ء) مردم شماری اور قادیانیت

خبرو نظر (۱۰؍اگست ۲۰۱۶ء) مردم شماری اور قادیانیت

مردم شمار ی او ر قادیانیت

۲۰۱۱ء کی مردم شماری رپورٹ کا وہ حصہ، جس میں قادیانی فرقے کو مسلمانوں کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے، انڈین میڈیا کی خصوصی دلچسپی کا باعث رہا۔ میڈیا نے اپنے پڑھنے اور سننے والوں کو زور دے کر بتایا کہ مسلم فرقوں میں یہ فرقہ سب سے زیادہ دبا اور کچلا ہوا ہے۔ ’’اکثریتی سنی فرقے نے اس پر بہت مظالم ڈھائے ہیں اور ….‘‘۔ میڈیا کے مطابق’’ اب سے پہلے کی مرکزی سرکاریں سنیوں کے خوف سے قادیانیوں کے ساتھ انصاف کی جرأت نہیں کرپاتی تھیں، یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں انصاف ملا ہے….‘‘ تبصراتی رپورٹنگ کے بعد ادارتی کالموں کا رخ بھی یہی رہا —— یہ سب تو ہوا ، تاہم سرکاری طور پر ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا قادیانی عقیدے کے لوگوں کو حکومت ہند نے باضابطہ طور پر مسلمانوں کا ایک فرقہ تسلیم کرلیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ مردم شماری کے دوران اس عقیدے کے افراد بھی اپنے آپ کو ’’مسلم‘‘ لکھواتے ہوں، اپنا تعلق دینِ اسلام سے ظاہر کرتے رہے ہوں، اور میڈیا نے محض اسی بنیاد پریہ رائے قائم کرلی۔ اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حکومتِ ہند اور پوری ہندوستانی سیاست قادیانیوں یا احمدیوں پر ہمیشہ کرم فرما رہی ہے لیکن یہ پالیسی ان کے ساتھ خالص ہمدردی سے زیادہ مسلم سوادِ اعظم کی کدورت میں ہے۔

مسلمانوں کا موقف

حکومتِ ہند اور ہندوستانی سول سوسائٹی کے اہل علم جانتے ہیں کہ مسلمانانِ ہند کے لئے قادیانی مسئلہ اُن مسائل میں سے ہے جن پر وہ انتہائی حساس واقع ہوئے ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں جب پاکستان میں اس مسئلے پر زبردست بحث ہورہی تھی جس کے نتیجے میں بالآخر نیشنل اسمبلی نے اس طبقے کے خارج از اسلام ہونے کا قانون منظور کیا تھا۔ اُس دوران یہاں ہند میں قادیانیوں سے ہمدردی اور ان کی ’’مظلومیت‘‘ پر ماتم کا عالم دیکھنے اور غور کرنے کے قابل تھا۔ لیکن اس میں بھی قادیانی گروہ سے ہمدردی سے زیادہ سنی ’’ظالموں‘‘ کے ’’ظلم وسفاکی‘‘ کی مذمت کا پہلو زیادہ ابھرا ہوا تھا۔ اب وہی ذہنیت مردم شماری کی زیر بحث رپورٹ پر دیکھی جارہی ہے۔ اس لئے مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہئے کہ اس سلسلے کے تمام حقائق اربابِ حکومت و سیاست کے سامنے رکھیں اور دلائل کے ساتھ بتائیں کہ مسلمان ان لوگوں کو عقیدے کے لحاظ سے خود سے الگ کیوں سمجھتے ہیں۔ باشندگانِ ملک کو بتائیں کہ اسلام میں عقیدۂ ختم نبوت کی پوزیشن کیا ہے اور مسلما ن اس کی خاطر ہمیشہ سربکف کیوں رہتے ہیں۔

ضرورت کہاں ہے

لیکن  بتانے کی اصل ضرورت ملک کے سنجیدہ اور ذمے دار ارباب حکومت و سیاست کو نہیں، ان لوگوں کو ہے جو محض مسلم دشمنی میں اِن مسائل کو ہوا دیتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹی سی اقلیت ہیں، لیکن اس ملک کی سیاست، سفارت، انتظامیہ اور میڈیا پر قابض ہیں۔اور جو مختلف حربوں کے ذریعے اپنی اکثریت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنگلوں اور بیابانوں میں آباد کروڑوں کی تعداد کو، جس کا کوئی دھرم، کوئی عقیدہ ، کوئی کاسٹ نہیں ہے، یہ لوگ ہندو آبادی میں شمار کرتے ہیں اور اس طر ح مذہبی اقلیتوں پر رعب جھاڑتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ ہیں جو مسلمانوں کے بارے میں دن رات پروپگنڈا کرتے ہیں کہ وہ غیر مسلموں کو مسلمان بناکر اپنی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔ جواب خود قادیانی مسئلے سے واضح ہے کہ مسلمانوں کو غلط اور غیر قانونی طریقوں سے اپنی تعداد بڑھانے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کے نزدیک صحیح عقیدہ اور عمل اصل چیز ہے۔ افراد کم ہوں لیکن صاحبِ کردار ہوں— مسلم ماہرین قانون کو آگے آکر مسئلہ قادیانیت پر مسلم سواد اعظم کے موقف کی تشریح کرنی چاہئے۔ علمائے کرام بھی اس سلسلے میں جذباتی بیان بازی سے گریز کریں اور معقولیت کے ساتھ اپنی بات برادرانِ وطن کے سامنے پیش کریں۔ (پ ر)

بہ شکریہ دعوت آنلائین

http://dawatonline.com/

The short URL of the present article is: http://harpal.in/sye7y

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے