Breaking News
Home / اہم ترین / خود کفیل خواتین معاشرہ کی ترقی اور تبدیلی کی ضامن: شنہاز سدرت

خود کفیل خواتین معاشرہ کی ترقی اور تبدیلی کی ضامن: شنہاز سدرت

لکھنئو(ہرپل نیوز،ایجنسی) 6 اکتوبر۔ خواتین کی تعلیم  پر زور دیتے ہوئے مشہور سماجی کارکن اور بزم خواتین کی صدر شہناز سدرت نے کہا کہ ان کی خود انحصاری سے ہی معاشرے میں ترقی اور تبدیلی ممکن ہے۔ یہ بات انہوں نے بزم خواتین کے تحت’ خواتین کی تعلیم و خواندگی اور خود کفالت ‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینارکی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی دگرگوں کی حالت کا سب سے بڑا سبب ان کی تعلیم سے دوری ہے اور جب تک وہ اس ہتھیار سے لیس نہیں ہوجاتیں اس وقت تک نہ تو وہ اپنا حق حاصل کرسکتی ہیں اور نہ ہی اپنا دفاع کرسکتی ہیں۔ انہوں نے عورت پر اپنے وجود کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اپنے حق حاصل کرنے کے لئے آگے آنا ہوگااور اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی۔ محترمہ شہناز سدرت نے کہا کہ تین طلاق کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اوراس موقع پر انہوں نے حکومت کے موقف کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس مسئلے سے نجات کیلئے 15 اکتوبر 2016 ء کو مودی جی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں مسلم خواتین پر ہونے والے تین طلاق کے مظالم سے وزیر اعظم کو واقف کرایا تھا۔ انہوں نے اس موقٖع پر موجود خواتین کو ’’سمان کوش‘‘ یوجنا سے بھی واقف کرایا جو کہ طلاق شدہ خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے مخصوص ہے۔ خواتین کے مسائل اور ان کی تعلیم اور ترقی کے لئے کام کرنے والی بیگم سدرت نے کہا کہ بزم خواتین کا مقصد ضرورتمند خواتین کی مدد اْن کی تعلیمی و سماجی میدان میں بہتر مظاہرے اور ان کے مسائل کے ازالے میں مدد کرنا ہے۔ محترمہ شہناز سدرت نے کہا کہ تین طلاق کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اوراس موقع پر انہوں نے حکومت کے موقف کی بھی ستائش کی سیمینار میں مولانا آزاد اردویونیورسٹی لکھنئو کیمپس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عشرت ناہید نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عورت کے دم سے ہی جہاں کائنات کی تمام رونقیں ہیں وہیں وہ سماج میں تبدیلی لانے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اس کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لئے خواتین کا خود کفیل ہونا ضروری ہے اور یہ ضرورت تعلیم حاصل کر نے سے ہی پوری ہو سکتی ہے۔ ہمیں اپنی لڑکیوں پر اعتبار کرنا ہوگا۔ انہیں ہر میدان میں بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی ہوگی تب ہی سماج میں تبدیلی آئے گی۔ ڈاکٹر تسلیم چشتی (صدر شعبہ فارسی، کرامت ڈگری کالج) نے کہا کہ تعلیم اور خود کفالت سے ہی مسلم خواتین کی ترقی ممکن ہے، کیونکہ خواتین خود کفالت صرف علم کے زور پر ہی پاسکتی ہیں۔ مشہور وکیل ریتا پانڈے نے حال ہی میں ہی سپریم کورٹ کے تین طلاق کے فیصلے کو تاریخی بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل خواتین کی جیت ہے اور ہمیں اس بات پر زور دینا چاہئے کہ خواتین سماج میں تبدیلیاں لائیں اور اپنے آپ کو بندشوں سے آزاد کریں۔ سیمینار میں موجود دیگر خواتین مقررین نے تین طلاق، جہیز، خاتون ناخواندگی جیسی غیراسلامی رسموں کے لئے ان کی ناخواندگی کو ہی ذمہ دار بتایا۔ بدلتے ہوئے دَور میں مسلم خواتین کو اصلاح کے لئے آگے آنا چاہئے۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیمینار کا آغاز شاہین اور جعفرین کے ترانوں سے ہوا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/bzf1P

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے