Breaking News
Home / اہم ترین / داعیان حق کے خلاف قوت سلطانی کا شکنجہ ۔ تحریر:اظہرالدین۔سینئر صحافی اورنگ آباد

داعیان حق کے خلاف قوت سلطانی کا شکنجہ ۔ تحریر:اظہرالدین۔سینئر صحافی اورنگ آباد

موجودہ حالات میں اسلام اور اسلام کے ماننے والے عالمی سطح پر کس کرب واضطراب سے گذررہے ہیں یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہر ذی شعور اس سے واقف ہے ایک طرف شام میں لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کا سلسلہ جاری ہے لاتعداد لوگ ملک بدر کردیئے گئے پوری دنیا میں اس پر صدائے احتجاج بلند ہوا یہ سلسلہ ابھی جاری ہی تھا کہ میانمار میں نہتے ، ناتواں، بے بس روہنگیا مسلمانوں کی حکومت کی سرپرستی میں نسل کشی نے پوری امت کو خون کے آنسو رلادیا معصوم شیرخوار اور بے یار ومددگار لاکھوں بچے یتیم و یسر کردیئے گئے حکومت کی سرپرستی میں بے سہارا نوجوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا اور ان کی لاشوں کو گدھوں کے حوالے کردیا جارہا ہے دنیا اس ظلم کے خلاف چیخ رہی ہیں لیکن ظالموں کے ماتھے پر شکن بھی نہیں آرہی ہیں ، عراق، لیبیا ، مصر اور فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ایسے حالات میں اگر کسی ملک نے جرائت مندی کا مظاہرہ کیا تو وہ ترکی ہے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے میانمار حکومت پر نہ صرف عالمی دباؤ بنایا بلکہ مظلوموں کی داد رسی بھی کی لیکن مجموعی طور پر حالات اطمینان بخش نہیں ہیں ایک طرف ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف جزیرۃ العرب میں پانچ ملکوں کی جانب سے قطر پر پابندی نے عالم اسلام کو سکتے میں ڈال دیا ہے قطر پر یہ الزام ہیکہ وہ ایران سے قربت بڑھا رہا ہے اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے انھیں پناہ دے رہا ہے یہ الزام امریکہ یا اسرائیل لگاتا تو بات سمجھ میں بھی آتی لیکن سعودی عرب کی حکومت اور ان کے حلیف ممالک کی جانب سے ایسے الزامات کا عائد کیا جانا اپنے آپ میں مضحکہ خیز ہے ، سعودی حکمرانوں کے موقف سے سب اچھنبے میں ہیں ایسے میں ترکی نے قطر کی حمایت کا اعلان کرکے ثالثی کی کوشش کی لیکن انھیں بھی تاحال کامیابی نہیں مل سکی ایسے حالات میں سر زمین ہند سے تعلق رکھنے والے جید عالم دین اور دارالعلوم ندوۃ العلما کے استاد حدیث مولانا سلمان حسینی ندوی کے ترکی عمان اور قطر دورے کو لیکر میڈیا میں آئی ایک خبر حیران کن تھی میڈیا نے اسے جعلی سرخیوں میں شائع کیا کہ سعودی حکومت کی مخالفت کی بنا پر مولانا سلمان حسینی ندوی کو عمان چھوڑنے کا حکم دیا گیا جب اس معاملے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلاکہ عمان کے حکمرانوں نے مولانا محترم کی عزت و توقیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مولانا کے مجوزہ دورے کے مطابق عمان میں انھیں دو دن قیام کرنا تھا اور وہاں سے وہ ترکی روانہ ہوئے اس بیچ نہ انھیں عمان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا خود مولانا سلمان ندوی نے اس تعلق سے العربیہ میں شائع خبر کو پروپگنڈے سے تعبیر کیا مولانا محترم سے ٹیلیفونک گفتگو میں مولانا کی زبانی جو بات کھل کر سامنے آئی وہ کچھ اسطرح تھی ’’سلطنت عمان سے ہمارے قدیم روابط ہیں خاص طور پر مفتی اعظم شیخ خلیلی اور ان کے نائب شیخ کالعان اور کلیۃ العلوم اسلامیہ اور کلیۃ العلوم شرعیہ کے مہتمم سے دیرینہ روابط ہیں وہ مولانا سید ابو الحسن حسینی ندوی کے بڑے محبان میں سے ہیں ان کی کتابوں کی عبارتوں کی عبارتیں انھیں ازبر ہیں ان کا جو تعلق ہے ندوۃ العما سے وہ بالکل گھریلوں اور برادرانہ ہیں اور سلطنت عمان کا بڑا حلقہ ہے جن سے قربت ہیں اس سے پہلے بھی کئی موضوعات پر بات ہوتی رہی ابھی سفر کے دوران بھی کھل کر بات ہوئی سارے علما کے سامنے اور پورے اعتماد کے ساتھ بات ہوئی پھر بعض جملے جو آج خلیجی بحران کے سلسلے میں ہیں ان پر سعودیہ کے لوگوں نے اعتراضات کیے تو سلطنت عمان کے ذمہ داروں کی طرف سے یہ کوشش کی گئی کہ اپنے پہلو کو صاف رکھا جائے تو کسی نے یہ بیان بھی دیدیا کہ انھیں یہاں سے جانے کا آرڈر دیدیا گیا یہ بالکل غلط ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے وہاں میں جتنی بھی دیر رہا بہت ہی کرام کے ساتھ رہا اعزاز کے ساتھ رہا اور بڑے اعزاز کے ساتھ رخصت ہوا اور وہاں سے ترکی کا سفر ہوا اور پھر قطر میں اہم ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی، مولانا سلان ندوی نے مزید کہا کہ جہاں تک موجودہ مسائل کی بات ہے تو معاملات حساس ہیں چھیڑچھاڑ کا ماحول ہے ، آپ جانتے ہیں کہ قطر مظلوم ہے اور قطر کے ساتھ عمان ہے تو وہ بھی مظلوم ہے اور کویت بھی بے چارہ بیچ بیچ میں ہے ایسے حالات میں کچھ باتیں گرماگرم کی جاتی ہیں لیکن وہ حقیقت کے خلاف ہیں ۔
اب سوال یہ اٹھتا ہیکہ پھر العربیہ پر فرضی خبر کیسے شائع کی گئی اور اردو میڈیا نے اسے کیوں اچک لیا دراصل مولانا سلمان ندوی کا شمار ملک ہی نہیں عالمی سطح پر اکابرین امت میں ہوتا ہے مولانا محترم کی بے باکی اور حق گوئی کا ایک زمانہ معترف ہے مولانا سلمان حق کی خاطر جان کٹانا جانتے ہیں سلطنت عمان کے کلیۃ العلوم میں آپ کا خطاب غیر معمولی تھا حق اور باطل کوواضح کرنے والا تھا مولانا نے ظالموں کو آئینہ دکھایا جس کی وہ تاب نہیں لاسکے اتنا ہی نہیں مولانا سلمان ندوی نے ان کے فکری استاذ محترم اور معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی سے ملاقات کی یہ ملاقات ؔ حکمرانوں کو کیسے راس آتی پھر چاپلوس میڈیا اپنے آقاؤں کے اشارے پر سرگرم ہوگیا بات یہی نہیں رکی بلکہ العربیہ نے مولانا سلمان ندوی کی مخالفت میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے شروع کردیئے یہ سب کیوں ہورہا ہے اس کے پیچھے کے اغراض ومقاصد کیا ہے اب دنیا اس سے بھلی بھانتی واقف ہوچکی ہے ایسے میں مجھ جیسا ایک عام مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہیکہ مسلم حکمرانوں کو مظلوم مسلمان کیوں نظر نہیں آتے روہنگیا کے مسلمانوں کا کرب انھیں کیوں بے چین نہیں کرتا شام میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے لاکھوں ملک بدر ہوگئے ان کے حق میں آواز اٹھانے والا کیا صرف ترکی واحد مسلم ملک ہے دوسروں کو کیا ہوگیا کیوں مظلوموں کے حق میں آواز نہیں اٹھتی کیا مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں ہوگیا کہ گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں اور مسلم حکمرانوں کو احساس تک نہیں ہوتا پھر ایسا کیا تھا کہ ایک عالم دین نے آئینہ دکھایا تواس کی تاب نہ لاسکے عجب بات ہیکہ انسانی جانیں تہ تیغ ہورہی ہیں لیکن ان کی حس بیدار نہیں ہوئی لیکن ایک آواز حق نے ان کی نیند اڑادی ایک قول حق پر وہ چیں بہ چیں ہوگئے لیکن علما کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنے والوں کو یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

The short URL of the present article is: http://harpal.in/9fbaR

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے