Breaking News
Home / اہم ترین / درگا پوجا۔محرم جلوس: دوفرقے کے افراد ایک ساتھ مل کر اپنے اپنے تہوار کیوں نہیں منا سکتے ؟ کلکتہ ہائی کورٹ

درگا پوجا۔محرم جلوس: دوفرقے کے افراد ایک ساتھ مل کر اپنے اپنے تہوار کیوں نہیں منا سکتے ؟ کلکتہ ہائی کورٹ

کلکتہ(ہرپل نیوز،ایجنسی)20 ستمبر۔ محرم کے جلوس کے پیش نظر درگا پوجا کی مورتی بھسان سے متعلق ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے آج کلکتہ ہائی کورٹ کی  دو رکنی بنچ نے سوال کیا ہے کہ آخر دو کمیونیٹی کے افراد ایک ساتھ مل کراپنے تہوار کو کیوں نہیں منا سکتے ہیں؟۔جب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم ہے تو پھر حکومت دو فرقوں کے درمیان مذہبی دوریاں کیوں پیدا کررہی ہے ؟ خیال رہے کہ ممتا بنرجی نے یکم اکتوبر کو یوم عاشورہ کے پیش نظر 30ستمبر کی شام 6بجے سے یکم اکتوبرتک درگا پوجا کی مورتی بھسان پر پابندی عاید کردی تھی۔ اس کے بعد 2اکتوبر سے مورتی بھسان اجازت دی گئی تھی ۔چوطرفہ تنقید کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت نے 30ستمبر کو 10بجے رات تک مورتی بھسان کے وقت میں اضافہ کردیا تھا۔ کار گزار چیف جسٹس آر کے تیواری نے کہا کہ’’ وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول ہے تو پھر حکومت کس چیز سے ڈر رہی ہے؟‘‘۔ریاستی ایڈوکیٹ جنرل کشور دتہ نے جمعہ کو ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ 30ستمبر کو مورتی بھسان کے وقت میں چار گھنٹے کا اضافہ کرتے ہوئے رات دس بجے تک کی مدت مقرر کی ہے۔حکومت نے از سر نو ہدایت نامہ جاری کردی ہے ۔ کلکتہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت عرضی دائر کرتے ہوئے عرضی گزار نے عدالت سے کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کا فیصلہ دو فرقوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے والا ہے ۔ اس کے علاوہ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ دو فرقے کے لوگ ایک ساتھ مل کر اپنے اپنے تہوار کو امن و شانتی کے ساتھ نہیں منا سکتے ہیں ۔ ڈویژن بنچ نے ممتا حکومت سے وضاحت طلب کی کہ اگر درگا پوجا کی مورتی بھسان کا سلسلہ رات 1.30بجے تک جاری رکھا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟اس پر ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مورتی بھسان کا سلسلہ نصف رات تک جاری رہا تو اسی وقت دوسرے فرقے کے لوگ محرم کا جلوس نکالیں گے ۔ اس کی وجہ سے آپس میں جھڑپ ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس جواب پر ڈویژن بنچ نے دریافت کیا کہ حکومت نے کتنے محرم جلوس کو اجازت دی ہے ۔اس پر ایڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ حکومت نے صرف دو آرگنائزیشن کو تعزیہ کا جلوس نکالنے کی اجازت دی ہے ۔ اس جواب پر ڈویژن بنچ نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف جلوس کی وجہ سے پورے درگا پوجا کی مورتی بھسان کے وقت کو محدود کردیا گیا ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے کہا کہ ہمارے احکامات کی غلط تشریح کی جا رہی ہے اور ہمارا مقصد امن و شانتی کو برقرار رکھنا ہے ۔مگر افواہیں پھیلا کر بدگمانیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ڈویژن بنچ نے کہا کہ اس پر فیصلہ کل آئے گا۔ بی جے پی اور وشوہندو پریشد نے ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کے فیصلے کو مسلمانوں کے ووٹ بینک سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ ممتا بنرجی مسلم ووٹ بینک کی خاطر ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کررہی ہیں۔جب کہ ریاستی حکومت کو مورتی بھسان کیلئے وقت اور جگہ متعین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔حکومت صرف روڈ کا تعین کرسکتی ہے۔بی جے پی کی دلیل تھی کہ چوں کہ ممتا بنرجی کو اپنی حکومت اور پولس پر بھروسہ نہیں ہے اس لیے وہ مذہبی جذبات کو مجروح کررہی ہیں ۔ریاستی بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ ممتا بنرجی کو مرکز سے مدد لینی چاہیے۔ تاہم وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے دائیں بازو کی جماعتوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ریاست میں امن و امان کی فضا خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔وزیرا علیٰ نے کہا تھا کہ یہ لوگ عوام کو غلط معلومات فراہم کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت گزشتہ پانچ سالوں سے انتظامات کررہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ تہوار کے اس موسم کو امن و شانتی کے ساتھ منائیں جیسے پرم ہنس رام کرشنا اور سوامی ویکانند کا طریقہ کار رہا تھا۔ تمام مذاہب کا احترام کیا جائے گا ۔محرم اقلیتی فرقہ کا ایک تہوار ہے ۔ ہمیں اس کااحترام کرنا چاہیے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/9wxDh

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے