Breaking News
Home / اہم ترین / دستور بدلنے کے معاملے میں اننت کمار ہیگڈے کے متنازعہ بیان کو لیکر ملک بھر میں زبردست بوال۔ پارلیمینٹ میں بھی ہنگامہ آرائی ۔ ہیگڈے کے استعفی کے مطالبہ پرکانگریس بضد

دستور بدلنے کے معاملے میں اننت کمار ہیگڈے کے متنازعہ بیان کو لیکر ملک بھر میں زبردست بوال۔ پارلیمینٹ میں بھی ہنگامہ آرائی ۔ ہیگڈے کے استعفی کے مطالبہ پرکانگریس بضد

نئی دہلی، (ہرپل نیوز ،ایجنسی))27۔دسمبرمرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کی طرف سے گزشتہ دنوں دئے گئے متنازعہ بیان کی مخالفت میں پارلیمنٹ میں بدھ کو کانگریس کے اراکین نے جم کر نعرے بازی کی۔جس کی وجہ سے سیشن کے آغاز کے بعد 12بجے تک لوک سبھا کی میٹنگ ملتوی کردی گئی۔جیسے ہی کانگریس کے ارکان نے سوال کا آغاز شروع کیا۔حزب مخالف نے بیان کے خلاف چیئرمین کے سامنے نعرے بازی شروع کردی۔ہیگڈے کے بیان کو لے کر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ ہوا، جس کے بعد دونوں ایوانوں کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دیا گیا اور اس کے بعد اسی معاملے پر ایوان میں ہنگامہ دیکھا گیا۔حزب اختلاف کے ارکان ’’وزیرکوبرخواست کرو‘‘کے نعرے لگارہے تھے۔ہیگڈے کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ اگر کسی شخص کو آئین پر یقین نہیں ہے تو اسے پارلیمنٹ کے رکن ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔جیسے ہی کانگریس کے ارکان نے سوال کا آغاز شروع کیا، انہوں نے ہیگڈے کے بیان کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے درمیان میں آکر نعرے لگانے شروع کردیئے۔غور طلب ہے کہ بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے حال ہی میں کرناٹک کے کوپل ضلع میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ جو لوگ خود کو سیکولر اور دانشور مانتے ہیں ان کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی اور وہ اپنی جڑ سے نا واقف ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ آئین کو تبدیل کرنے کے لئے اقتدارمیں آئے ہیں۔

ہیگڑے کو آئین اور آئین کی تمہید پر کوئی اعتماد نہیں ، کابینہ سے فوری طور پر ہٹایا جائے : غلام نبی آزاد

کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آئین تبدیل کرنے سے متعلق مرکزی وزیر مملکت اننت کمار ہیگڑے کے بیان کو قابل اعتراض اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے ان سے پارلیمنٹ اور ملک سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں کرنے پر انہیں کابینہ سے برخاست کردیا جانا چاہئے۔ مسٹر آزاد نے یہاں پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا کہ مسٹر ہیگڑے کے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ ان کا آئین اور آئین کی تمہید پر کوئی اعتماد نہیں ہے اس لئے انہیں کابینہ میں برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسٹر ہیگڑے کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آکر اور پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے کیوں کہ یہ معاملہ صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی تشویش کا سبب ہے کہ ایک وزیر آئین پر یقین نہیں رکھتا ہے جب کہ وہ خود آئین کا حلف لے کر وزیر بنتا ہے۔ اگر وہ معافی نہیں مانگے تو انہیں کابینہ سے برخاست کردینا چاہئے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر ہیگڑے پہلے بھی ممبر پارلیمنٹ کے طور پر اس طرح کے بیان دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے مودی حکومت نے انہیں انعام کے طور پر وزارت کا عہدہ دیا ۔ ایسی امید کی جارہی تھی کہ وزیر بننے کے بعد وہ اس طرح کے بیانات نہیں دیں گے لیکن انہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اب وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ ایسے شخص کو وزیر بنے رہنا چاہئے یا نہیں۔مسٹر آزاد نے کہا کہ مسٹر ہیگڑے نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اس لئے اقتدار میں آئی ہے کیوں کہ اسے آئین تبدیل کرنا ہے اور جو لوگ سیکولرازم پر اعتماد کرتے ہیں ان کے ماں بات کا پتہ نہیں ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ سیکولرزم آئین کا بنیادی سطون ہے اور سب کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سمیت اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں یہ معاملہ اٹھایا ہے اور اس معاملے کے سلسلے میں راجیہ سبھا کے چےئرمین ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس پر کل تک کا وقت مانگا ہے۔ خیال رہے کہ مسٹر ہیگڑے کے استعفی کے مطالبہ پر آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہنگامہ کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر ہوئی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/qGDOT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے