Breaking News
Home / اہم ترین / دس ڈسمبر اردو زبان کے فردوسی میر ببر علی انیس کا یوم وفات – از: ابوالحسن مفاز بھٹکل

دس ڈسمبر اردو زبان کے فردوسی میر ببر علی انیس کا یوم وفات – از: ابوالحسن مفاز بھٹکل

میر انیس 1803 محلہ گلاب باڑی فیض آباد میں پیدا ہوئے تھے- ان کے والد میر مستحسن خلیق، دادا میر حسن، پر داد امیر ضاحک قادرالکلام تهے، یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی تھی- میر انیس نے ابتدائی تعلیم میر نجف علی فیض آبادی سے اور مولوی میر حیدر علی لکھنؤی سے حاصل کی- بچپن ہی سے انہیں شاعری کا شوق تھا، پہلے حزیں تخلص رکھتے تھے پهر ناسخ کے کہنے پر انیس رکها- ابتدا میں غزلیں لکهنا شروع کیں پهر والد کی ہدایت پر اس صنفِ سخن کو سلام کیا- مرثیہ گوئی کی جانب راغب ہوئے اور اس صنفِ سخن کو معراج تک پہنچا دیا-
شروع شروع میں میر انیس مرثیہ پڑهنے کے لیے ہر سال لکھنؤ جایا کرتے تھے مگر پینتالیس برس میں جنگ آزادی کی تباہی کے بعد وہ لکھنؤ چهوڑ کر کچھ عرصہ کاکوروی میں مقیم رہے- پهر امن و امان کے بعد لکھنؤ واپس تشریف لے گئے اور محلہ سبزی منڈی میں رہائش اختیار کی- میر ببر علی انیس 10 دسمبر 1874 کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے اور اپنے گهر پہ ہی مدفون ہیں
1963 میں انکے مزار پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کروایا گیا
مرزا دبیر نے آپ کی تاریخ وفات اس شعر سے نکالی

آسماں بے ماہ کامل، سدرہ بے روح الامین
طور سینا بے کلیم اللہ، منبر بے انیس–!!!

جو انکے لوح مزار پر کندہ ہے- میر انیس نے اردو میں نہ صرف رزمیہ شاعری کی کمی کو پورا کیا بلکہ اس میں انسانی جذبات اور ڈرامائی تأثر کے عناصر کا اضافہ کر کے اردو مرثیہ کو دنیا کی اعلیٰ ترین شاعری کی صف میں لا کھڑا کیا- انہوں نے منظر نگاری، کردار نگاری، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کئے-
انیس نے مرثیہ کی صنف کو آسمان تک پہنچا دیا یہاں تک کہ مرثیہ اور انیس مترادف الفاظ بن گئے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/9rj5N

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے