Breaking News
Home / اہم ترین / دفتر مجلسِ بلدیہ بیدر میں دھاندلیاں عروج پر۔سابق کونسلر بیدرایم اے مجید کا بیان

دفتر مجلسِ بلدیہ بیدر میں دھاندلیاں عروج پر۔سابق کونسلر بیدرایم اے مجید کا بیان

بیدر۔(ہرپل نیوز،محمد امین نواز)۔5؍مارچ۔ریاست کرناٹک میں بیدر میونسپل ہی ایک ایساادارہ ہے جہاں پر ہر ماہ اورسال بھر بدعنوانیوں کی بھر مارہوتی ہے لیکن اس قدرسنگین معاملات ہونے کے باوجود نہ حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے اورنہ ہی رابطہ وزیر کوان بدعنوانیوں پر توجہ دے کرادارہ کوعوام کی بلدی ضروریات کوپورا کرنے کیلئے احکام دینے کے فرصت ہے ہرطرف جب بدعنوانیوں کاراج ہوتوایسی صورت میں عوام کے مسائل کس طرح سے حل ہو سکتے ہیں۔ سابق کونسلر بیدرایم اے مجید عرف معین بھائی نے بلدیہ بید رکی زبوں حالی اورمختلف گھپلوں پر اظہارخیال کرتے ہوے انہوں نے پریس کانفریس میں کہا کہ یہاں پر صدربلدیہ نہ ہونے کے باوجودپورے اختیارات نائب صدراستعمال کررہی ہیں جب کہ میونسپل قانون اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا ‘ حتیٰ کہ نائب صدرنے کونسل اجلاس کیلئے ایجنڈہ بھی جاری کردیا تھا،اورجب اس بارے میں ضلع انتظامیہ سے شکایت کی جاتی ہے تب ذمہ داری درپشت کے تحت ڈی سی نے اپنے ماتحت اے ڈی سی اورپی ڈی کومعاملہ کی جانچ کیلئے نامزد کیا اورجب حکومت کے میونسپل اتھاریٹی کو ادارے کے صدراتی عہدے کاناجائز استعمال کے بارے میں تحریری طورپر دریافت کیا جاتا ہے تو حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آتا۔اب صورتحال یہ ہے کہ بلدیہ بغیر صدراورایڈمنسٹریٹر کے چل رہا ہے اورنائب صدر اپنی من مانی کررہے ہیں ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے ۔ ہونا تویہ چاہئے تھا کہ وزیر بلد ی نظم و نسق مسٹر ایشورکھنڈرے اس معاملہ میں دلچسپی لیکرقانون کی دھجیاں اڑانے والوں کی باز پرس کرتے اورصدراتی عہدہ پر کسی کو نامز د کرتے لیکن معلوم نہیں کہ موصوف بلدیہ کو کس انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ صفائی کے کام میں دھاندلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملازمین کے تقررات ہورہے ہیں تاہم ان ملازمین کودوسرے کاموں کیلئے استعمال کیا جارہا ے حتیٰ کہ کبھی وہ انجینئر کا بھی کام کرلیتا ہے بلدیہ میں وہیکلس سے زیادہ ان دنوں ڈرائیورس ہیں اورکہا کہ صفائی کے نام پر سالانہ36لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں اورصفائی کا کام کہاں ہورہا ہے عوام خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔110ملازمیں کو ماہانہ 14ہزارروپئے تنخواہ دی جارہی ہے۔بلدیہ میں ڈھائی سال قبل ہو ئی بدعنوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوے انہوں نے کہاکہ پرانی وہیکلس کوصرف37ہزار روپئے میں بغیر قانونی کارروائی کرتے ہوئے اس کو فروخت کردیا گیا ‘اوراس دھاندلی میں مذکورہ اے ای اوردیگر افراد آرٹی او سے نقلی سرٹیفکیٹ حاصل کرکے یہ کام کیا ہے۔موجودہ کونسلرس کی یہ حالت ہے کہ ایجنڈے کے خدوخال پر سنجیدگی سے غورکرنے کی فکر تک نہیں کرتے لا پرواہی نے شہر کو کئی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ujhUT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے