Breaking News
Home / اہم ترین / دنیا کی کوئی طاقت ہم کو شریعت پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتی: اسد الدین اویسی

دنیا کی کوئی طاقت ہم کو شریعت پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتی: اسد الدین اویسی

حیدرآباد( ہرپلنیوز، ایجسنی)12؍دسمبر۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی طرح ربیع الاول کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ اگر رمضان میں قرآن مجید نازل کیا گیا تو ربیع الاول میں صاحب قرآن دنیا میں تشریف لائے۔ اگر اس دنیا میں رسول اکرمؐ کی تشریف آوری نہ ہوتی تو نہ قرآن ملتا‘ نہ رمضان ملتا‘ نہ کوئی عبادات ہمیں حاصل ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ کے اسم مبارک کی تعظیم سے گناہ گاروں کو بھی بخشش ملتی ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مختلف واقعات کا بھی حوالہ دیا۔ ۔ انہوں نے مجلس کے ہیڈ کوارٹرس دارالسلام میں کل شب منعقدہ جلسہ رحمۃ للعلمین ؐ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی کردار کا مظاہرہ کریں اور غریبوں و ضرورت مندوں کی مدد کریں ۔ حضور اکرم ؐ نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ کمزوروں اور مظلوموں کا ساتھ دیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ضرورت نہیں ہے کہ وہ اوروں کے راستہ پر چلیں۔صدر مجلس نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد اب نریندر مودی کی کابینہ کے ایک وزیر نس بندی کی بات کررہے ہیں جبکہ آر ایس ایس چیف ہندووں کو آبادی بڑھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوگئی ہے اس لئے اس طرح کے غیر متعلقہ عنوانات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ نوٹ بندی کے ذریعہ ہندوستان میں انقلاب برپا کرے لیکن اس طرح سے ہندوستان میں انقلاب برپا نہیں ہوگا۔ موجودہ حاکم کل کے محکوم ہوں گے۔ اویسی نے وزیر اعظم کو چیلنج کیا کہ وہ پرانا شہر حیدرآباد کے ایک اے ٹی ایم کے پاس آکر عوام سے یہ بات کہیں کہ وہ ملک کی معیشت کو سدھارنا چاہتے ہیں۔ وہ عوام کا سامنا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ قطاروں میں ٹھہرنے پر مجبور ہیں ‘ الیکشن کے دن بھی وہ قطاروں میں آئیں گے اور حکومت کو سبق سکھائیں گے کیونکہ حکومت کے اس ظالمانہ اقدام سے 3 فیصد مجموعی ترقی (جی ڈی پی) متاثر ہونے کا امکان ہے جس سے 4 لاکھ کروڑ روپئے کی جی ڈی پی میں کمی آئے گی اور 50 دن میں ایک لاکھ 20 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کیا 31 دسمبر کے بعد پٹرول 30 روپئے ‘ ڈیزل 25 روپئے اور چاول 5 روپئے کلو ہوجائیں گے ؟ ۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو پھر معیشت کو کیسے سدھارا جارہا ہے ۔صدر مجلس نے کہا کہ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ دے دی ہے جس کے مطابق 33 فیصد مسلمان بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔ حکومت اقامتی اسکولس قائم کررہی ہے جس میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب صرف 7 فیصد ہے جبکہ ان کی آبادی 13 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو روزگار میں بھی مناسب حصہ ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم کو ہمارا دین غیروں سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ شریعت ہماری پہچان ہے‘ ہماری شناخت ہے۔ شریعت میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم زندہ رہیں گے تو شریعت پر اور مریں گے بھی تو شریعت پر۔دنیا کی کوئی طاقت ہم کو شریعت پر عمل کرنے نہیں روک سکتی۔ مسٹراسد اویسی نے کہا کہ نمرود ‘ فرعون ‘ یزید جیسے کئی حکمران آئے اور چلے گئے‘ وہ اپنے باطل ایجنڈہ میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ موجودہ حکومت اور حکمران بھی ختم ہوجائیں گے کیونکہ ان کے پاپ کا گڑھا بھر چکا ہے ۔مسٹر اسد اویسی نے کہا کہ ڈھائی سال بعد ملک میں بہترین بارش ہوئی اور فصلیں کاٹنے کا وقت ہے ‘ شادیوں کا سیزن ہے ‘ ایسے موقع پر اچانک نوٹ بندی کی وجہ سے ملک میں 95 فیصد سے زائد گھروں میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KpRD6

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے