Breaking News
Home / اہم ترین / دواراکین اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی کرناٹک میں بی جے پی کی پریورتن یاترا کا آغاز۔ایکشن میں اپوزیشن ۔سیاسی ناٹک اور پچھتاوا ریالی بتا کر سی ایم اور ایچ ایم نے کیاطنز

دواراکین اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی کرناٹک میں بی جے پی کی پریورتن یاترا کا آغاز۔ایکشن میں اپوزیشن ۔سیاسی ناٹک اور پچھتاوا ریالی بتا کر سی ایم اور ایچ ایم نے کیاطنز

بنگلورو،( ہرپل نیوز ایجنسی)3نومبر۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اقتدار پر آنے کی کوشش کے طور پر بی جے پی نے آج اپنی پریورتن یاترا کی شروعات کی۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شا نے پارٹی کو اقتدار پر لانے کیلئے جدوجہد کے اعلان کے ساتھ اس ریلی کی شروعات کی۔ بنگلور انٹرنیشنل ایگزی بیشن سنٹر کے میدان میں منعقدہ اس یاتراکے افتتاحی جلسہ میں بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنوں نے شرکت کی، جہاں لیڈروں نے کرناٹک کو کانگریس سے آزاد کرانے کا عزم کیا۔ امیت شا کی قیادت میں شروع ہونے والی یاترا ریاست بھر میں 75 دنوں تک جاری رہے گی۔کل سے اس یاترا کی قیادت ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کریں گے۔ بی جے پی لیڈروں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی بدنظمی کی وجہ سے عوام کافی پریشان ہیں۔اسی لئے جلد از جلد اس حکومت کو بے دخل کرکے بی جے پی کواقتدار پر لانا چاہئے۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اگلے 75دنوں تک چلنے والی ریلی میں ایک لاکھ موٹر بائیک سوار حصہ لیں گے۔ ریاست کے سبھی 224 اسمبلی حلقوں میں یہ یاترا جائے گی اور ہر حلقہ میں پارٹی کارکنوں سے رابطہ کیا جائے گا۔ دن میں یڈیورپا روزانہ کم از کم تین عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ اس پریورتن یاترا کا اختتام 25جنوری کو وزیر اعلیٰ سدرامیا کے اسمبلی حلقہ چامنڈیشوری میں ہوگا ،جہاں وزیراعظم مودی مہمان خصوصی ہوں گے۔ 8؍نومبر کو یہ یاترامرکیرہ پہنچے گی اور 10نومبر کو ٹیپو جینتی کی مخالفت کیلئے یہاں جلسہ کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم ریاستی حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہ ہونے کے سبب کورگ ضلع چھوڑ کر ریاست بھر میں یہ یاترا جاری رکھی جائے گی۔ 28جنوری کو بنگلور میں یاترا کا اختتام ہوگا۔ یاترا کے افتتاحی جلسہ میں کرناٹک میں بی جے پی امور کے انچارج مرلی دھر راؤ ، مرکزی وزراء اننت کما ر ،سدانند گوڈا ، ریاست میں بی جے پی کے انتخابی انچارج مرکزی وزیر ریلویز پیوش گوئل پریورتن یاترا کی ذمہ دار رکن پارلیمان شوبھا کارند لاجے ، بی جے پی لیڈران آر اشوک ، جگدیش شٹر ، ایشورپا اور دیگر نے شرکت کی۔یوگیشوراور راجیو بی جے پی میں شامل:آج بی جے پی کی پریورتن یاترا کے افتتاحی جلسہ کے موقع پر ریاستی اسمبلی کے دو اراکین سی پی یوگیشور چن پٹن اور راجیو کڑچی بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کی موجودگی میں ان دونوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ بی ایس آر کانگریس ٹکٹ پرکڑچی میں گزشتہ انتخابات میں منتخب ہونے والے راجیو نے باضابطہ بی جے پی کو اختیار کیا۔ جبکہ چن پٹن اسمبلی حلقہ سے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد کانگریس کے اسوسی ایٹ ممبر بننے والے سی پی یوگیشور نے حال ہی میں کانگریس کی بنیادی رکنیت کو خیر باد کہہ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔اس دوران بی جے پی لیڈروں نے دعویٰ کیا کہ مزید 20اراکین اسمبلی بشمول تین موجودہ وزراء وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں 28جنوری کو بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔

پریورتن یاترا بی جے پی کا ایک سیاسی ناٹک:سدرامیا:وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج سے بی جے پی کی طرف سے شروع کی گئی پریورتن یاترا کو ایک بڑا سیاسی ناٹک قرار دیا او ر کہاکہ ریاست میں اقتدار پر رہتے ہوئے بی جے پی نے جو پاپ کئے ہیں اس یاترا کے ذریعہ وہ دھونے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے جو ناممکن ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرناٹک کا ووٹر بہت ہی دانشمند ہے اسی لئے وہ اس طرح کی ڈھونگی یاتراؤں کے پھسلاوے میں نہیں آئے گا۔ اپنی رہائش گاہ پراعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ہمراہ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پریورتن یاترا نکالنے کیلئے حکومت نے اجازت دے دی ہے، لیکن اس یاترا کے دوران بی جے پی لیڈروں نے اگر مذہب ، ذات پات کی بنیاد پر انتشار اور انسانوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی، فرقہ وارانہ ماحول خراب کیا تو ریاستی حکومت ریلی کو دی گئی اجازت واپس لے لے گی۔انہوں نے کہاکہ سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی ایسی کسی بھی ریلی کی ضرورت نہیں ہے۔ چامنڈیشوری حلقہ میں انہیں ہرانے کیلئے بی جے پی کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ پچھلے 35سال سے چامنڈیشوری کے عوام ان کا ساتھ دیتے آرہے ہیں۔ اس بار بھی انہیں توقع ہے کہ عوام کا ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی نے پچھلے پانچ سال کے دوران ریاست میں جو کرپشن کیا ہے اسے ریاست کے عوام نے فراموش نہیں کیا ہے۔ اپنی مدت اقتدار میں یڈیورپا اور ان کے جانشینوں نے کوئی ترقی نہیں کی ، لیکن ہر دن کرپشن کا ایک نیا گھپلہ ضرور سامنے آتا ، جس میں یڈیورپا کا ڈی نوٹی فکیشن ، ریڈی برادران کی غیر قانونی کانکنی ، منگلور کی بندرگاہ سے خام لوہے کی لوٹ نیز اور بھی بہت سارے گھپلے شامل ہیں۔ پریورتن یاترا کی قیادت کرنے والے یڈیورپا اور افتتاح کرنے والے بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کی جوڑی پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ یہ دونوں بھی جیل یاترا کرچکے ہیں۔ سدرامیا نے کہاکہ یڈیورپا جب کرناٹکا جنتاپارٹی کے صدر رہے تو اس وقت انہوں نے بی جے پی قائدین پر کیا کیا نکتہ چینی کی تھی پہلے ان بیانات کو یاد کرلیں اور پھر یاترا کے دوران اپنی زبان کھولیں ۔ انہوں نے کہاکہ مہادائی مسئلہ کو سلجھانے کیلئے انہوں نے گوا کے وزیراعلیٰ کو مکتوب لکھا ،لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی، اس کے بعد وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرکے گذارش کی گئی تو انہوں نے بھی نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کے دائرہ سے باہر اس مسئلہ کو سلجھانے کیلئے مرکزی حکومت کو کرناٹک کا ساتھ دینا ہوگا۔

بی جے پی کی پریورتن نہیں پچھتاوا یاترا نکلی ہے:رام لنگا ریڈی : بی جے پی کی طرف سے آج سے شروع کی گئی پریورتن یاترا پر طنز کرتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ یہ پریورتن یاترا نہیں، بلکہ پچھتاوا یاترا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ریڈی نے کہاکہ 2008 میں ریاستی عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا ، عوام کواس وقت توقع تھی کہ بی جے پی اچھی حکومت دے گی ،لیکن چند ہی دنوں میں بی جے پی نے اپنے کرپشن ، آپسی رسہ کشی اور نظم وضبط کی بگڑتی صورتحال کو قابو میں کرنے میں ناکامی کے ذریعہ عوام کی ان امنگوں کو جھٹلا دیا۔ پانچ سال کے دوران بی جے پی کو تین وزرائے اعلیٰ بدلنے پڑے ، ان میں سے ایک وزیر اعلیٰ جیل پہنچ گئے، ان کے ساتھ بی جے پی کے کئی لیڈر بھی جیل یاترا کرچکے۔ اب انتہائی بے شرمی سے بی جے پی ریاست کے عوام سے دوبارہ اقتدار مانگ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو پہلے 2008اور2013کی مدت کے دوران ریاست میں مچائی گئی تباہی کیلئے عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی سدرامیا حکومت نے انتہائی فراخدلی سے کسانوں کے قرضے معاف کئے ہیں ۔بی جے پی کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ مرکزی حکومت کے فنڈز سے ریاستی حکومت نے کسانوں کے قرضے معاف کئے ہیں۔ پڑوسی ریاستوں کو جہاں مرکزی حکومت نے ہزاروں کروڑ روپے دئے ہیں کرناٹک کے ساتھ خشک سالی کے متاثرین کی مدد کے معاملہ میں کھلی ناانصافی کی گئی ہے۔ ریاست کی مرکز میں نمائندگی کرنے والے چار وزراء ہیں لیکن چاروں کاویری ، مہادائی اور دیگر سنگین آبی تنازعات کو سلجھانے اور کرناٹک کو انصاف دلانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے بی جے پی کی طرف سے جو یاترا شروع کی گئی ہے اس کیلئے پولیس حکام کی طر ف سے اجازت دی گئی ہے۔تاہم یاترا کے دوران اگر نظم وضبط کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی تو کسی کے مقام اور مرتبے کی پرواہ کئے بغیر کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کیلئے بی جے پی کو راست طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ سماج میں نفرت پھیلانے کے علاوہ بی جے پی کے کسی بھی قائدنے ریاست کی ترقی میں حائل رکاوٹوں اور ان کو دور کرنے کیلئے اقدامات پر کوئی سنجیدہ بحث نہیں کی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/C6csk

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے