Breaking News
Home / اہم ترین / دھماکہ سے دھل گیا ترکی ،شادی کی تقریب میں ہوا دھماکہ،۵۱ باراتی ہلاک،داعش کا ہاتھ ہونے کا شبہ

دھماکہ سے دھل گیا ترکی ،شادی کی تقریب میں ہوا دھماکہ،۵۱ باراتی ہلاک،داعش کا ہاتھ ہونے کا شبہ

رجب طیب ایردوآن نے کہا، ممکنہ طور پر شدت پسند ملیشیا اسلامک اسٹیٹ کا ہاتھ ہے

انقرہ21اگست(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)ترکی میں ہفتے کی شب شادی کی ایک تقریب اُس وقت ماتم کدے میں تبدیل ہو گئی جب ایک بم حملے میں کم ازکم50افرادہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ممکنہ طور پر اس حملے کے پیچھے شدت پسند ملیشیا اسلامک اسٹیٹ کا ہاتھ ہے۔یہ تقریب شامی سرحد کے قریب ترک صوبے غازی انتیپ کے اسی نام کے شہر میں کھلے آسمان تلے منعقد ہو رہی تھی۔ یہ شہر ترکی اور شام کی سرحد سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے۔ صوبائی گورنر علی یرلی قایا کے مطابق یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا۔ کھلے آسمان تلے منعقد ہونے والی اس تقریب کو غالباً ایک خود کُش بمبار نے نشانہ بنایا۔استنبول میں ترکی کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر منگل کی رات تین خود کش حملہ آوروں کی طرف سے کیے گئے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اکتالیس ہو گئی ہے جن میں کم از کم تیرہ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر اس حملے کے پیچھے شدت پسند ملیشیا اسلامک اسٹیٹ کا ہاتھ ہے۔ اپنے ایک بیان میں ایردآون نے کہا کہ امریکامیں موجود مبلغ فتح اللہ گولن، جو بقول اُن کے پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے ذمہ دار ہیں اور داعش کے درمیان جوممکنہ طور پر غازی انتیپ کے حملے کی ذمہ دار ہے کوئی فرق نہیں ہے۔ اس بیان میں ایردوآن نے کہاکہ ہمارے ملک اورہماری قوم کا ان حملے کرنے والوں کے لیے ایک ہی پیغام ہے اور وہ یہ کہ تم کامیاب نہیں ہو گے۔نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ تقریب غازی انتیپ نامی شہر کے شاہین بے نامی علاقے میں منعقد ہو رہی تھی، جہاں کُردوں کی اکثریت ہے۔ اسی بناء پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے جہادی عناصر کارفرما ہو سکتے ہیں۔ بہت سے جہادی کُردوں کو اپنا سب سے بڑا حریف مانتے ہیں کیونکہ شامی سرزمین پر شدت پسند ملیشیا آئی ایس کے خلاف جنگ میں کُرد جنگجو انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔شادی کی اس تقریب میں بھی بچوں اور خواتین سمیت کُردوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ کُردوں کی حامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ((HDPنے بتایا ہے کہ اس تقریب میں اُس کے اپنے بھی کئی ارکان شریک تھے۔یہ حملہ اُسی روزہواہے جس روز ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے شام کی جنگ میں آئندہ زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کااعلان کیاتھا۔اس حملے پر اپنے رد عمل میں بن علی یلدرم نے کہا کہ غازی انتیپ اس حملے کے بعد بھی اُسی جذبے کا مظاہرہ کرے گا،جس کا مظاہرہ اُس نے 1921ء میں کیاتھا جب اس شہر نے آزادی کی جنگ میں فرانسیسی افواج کو شکست دی تھی اور جس فتح کی بدولت اس شہر کے نام کے ساتھ غازی کے لفظ کا اضافہ ہو گیا تھا: ہمارا صدمہ بہت بڑا ہے لیکن اپنے اتحاد اور اتفاق سے ہم اس طرح کے بزدلانہ حملوں کو ناکام بنا دیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KX4IZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے