Breaking News
Home / اہم ترین / دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ملزم کی آپ بیتی کااجراء. کتاب پولس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ہتھکنڈوں کا بھانڈا پھوڑے گی، گلزار اعظمی کو ہے پوری امید

دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ملزم کی آپ بیتی کااجراء. کتاب پولس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ہتھکنڈوں کا بھانڈا پھوڑے گی، گلزار اعظمی کو ہے پوری امید

ممبئی؍(ہرپل نیوز،ایجنسی) 1مارچدہشت گردی کے الزامات سے ایک دہائی سے زائد عرصہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید رہنے کے بعد مقدمہ سے باعزت رہا ہونے والے ایک مسلم معلم کے ذریعہ لکھی’’آپ بیتی‘‘ کا اجراء جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے ہاتھوں ایک پروقار تقریب میں عمل میںآیاجس میں حقوق انسانی اور دہشت گردانہ معاملات میں بے قصور مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء سمیت اردو ، انگریز ی میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔

ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ تقریب میں 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے سے باعزت بری ہونے والے ملزم عبدالواحد دین محمد شیخ ’’بے گناہ قیدی‘‘ کے عنوان سے جیل کے اندر اس پر اور اس کے دیگر ساتھیوں پر ہونے والے مظالم کے متعلق کتاب لکھی ہے جسے فاروس میڈیا نے شائع کیا ہے ۔ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل کتاب کا اجراء صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم احسن اعظمی کی موجودگی میں گلزار اعظمی نے کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سیدارشد مدنی دامت برکاتہم کی ہدایت پر 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے کے ملزمین کو نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک قانونی امداد فراہم کی گئی جس کے نتیجے میں عبدالواحد کی اس مقدمہ سے باعزت رہائی نصیب ہوئی نیز ہمارا ماننا ہیکہ عبدالواحد کی طرح ہی دیگر ملزمین بھی بے قصور ہیں اور بھلے ہی انہیں نچلی عدالت سے پھانسی اور عمر قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں لیکن ہائی کورٹ سے انہیں انصاف ضرور ملیگا۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ عبدالواحد اور دیگر ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کے تعلق سے مرحوم ایڈوکیٹ شاہد اعظمی نے ملزمین کے اہل خانہ کے ہمراہ مولانا سیدارشد مدنی سے ملاقات کی جس کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، اول تو ملزمین کے مقدمات کی پیروی سپریم کورٹ تک ہی کرنے کا یقین دلایا گیا تھا لیکن حالات اور ملزمین کی زبوں حالی کے مد نظر مقدمہ کی پیروی نچلی عدالت میں بھی کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو فی الحال جاری ہے۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ سرکاری دہشت گردی کو آشکار کرنے والی اس چشم کشا کتاب میں آپ کو ’’دہشت گردی ‘‘ کے نام پر برسوں سے کھیلے جانے والے گندے کھیل کی تفصیلات ، آتنگ وادکے حوالے سے حکومت اور اس کی ایجنسیوں کا مکروہ چہرہ ، پولس ، اے ٹی ایس اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے طریقہ کار، ٹارچر ، قانونی داؤ پیچ، عدالتوں کے راز جاننے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے کیسوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ ملے گا، اس کتاب کے ذریعہ بم دھماکہ کیسوں، پولس اور میڈیا کے دعوؤں کو حقیقت بھی معلوم ہوگی۔کتاب کے منصف عبدالواحد دین محمد نے مراٹھی پتر کار سنگھ کے کھچا کھچ بھرے ہال سے انتہائی جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کتاب کو ان ۱۲؍ بے گناہوں کے نام کرتے ہیں جنہیں نچلی عدالت نے پھانسی اور عمر قید کی سزاء سنائی ہے نیز وہ محسوس کرتا ہے اور اس کا پختہ یقین ہیکہ جس طرح وہ بے گناہ اس مقدمہ سے باعزت بری ہوا ہے دیگر ملزمین بھی بے قصور و بے گناہ ہیں اور انہیں بھی ہائی کورٹ سے انصاف ملے گا اوروہ بھی ایک دن میری طرح آزاد فضاؤں میں جی سکیں گے اور عوام کو یہ بتا سکیں گے کہ دوران حراست ان پر اے ٹی ایس نے کیسے کیسے ظلم کے پہاڑے توڑے تھے ۔عبدالواحد نے کہا کہ میں برسوں پولس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ہتھکنڈوں اور ٹارچر کا شکار رہ چکا ہوں اور میں میری اور دیگر مظلوم قیدیوں کی آپ بیتی کے ساتھ پولس ایجنسیوں اور جیل کے عملے کے ہتھکنڈوں کا بھی پردہ فاش کررہا ہوں ۔عبدالواحید نے مزید کہا کہ میں بالخصوص جمعیۃ علماء کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے 7/11 کیس کی پیروی کے لیئے تجربہ کار وکیلوں کا بندوبست کیا اور ٹرائل کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک قانونی دفاع کے اخراجات برداشت کیئے نیز صدر جمعیۃ علماء ہندمولانا سید ارشد مدنی قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے بے گناہوں کی پیروی کے لیئے مضبوط لیگل پینل بنایا ہے جس میں قابل وکلاء شامل ہیں۔عبدالواحد نے 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے کی مختلف مراحل میں پیروی کرنے والے وکلاء ایڈوکیٹ یوگ موہیت چودھری، ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ پرکاش شیٹھی،ایڈوکیٹ افرو ز صدیقی، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ نعیمہ شیخ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ چراغ شاہ، ایڈوکیٹ افضل نواز و دیگر کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ ان کی دن رات کی محنتوں کے نتیجے میں وہ اس مقدمہ سے بری ہوئے ۔ایس ایم مشرف،ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ ارون فریریا ودیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جس طرح عبدالواحید اس معاملے سے بے گناہ رہا ہوا ہے اسی طرح دیگر ملزمین بھی بہت جلد مقدمہ سے باعزت بری ہونگے۔پروگرام میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف ، ایڈوکیٹ مجاہد نے دہلی سے خصوصی شرکت کی اس کے علاوہ و دیگر نے شرکت کی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/dETi8

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے