Breaking News
Home / اہم ترین / دہلی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ ۔ عبد الواحد سدی باپا کی حراست میں سات دن کی توسیع

دہلی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ ۔ عبد الواحد سدی باپا کی حراست میں سات دن کی توسیع

وکیل ایم ایس خان نے ثبوت نہ ہونے کی بات کہہ کر سات دن کی مزید پولیس حراست کی مخالفت کی

دہلی ائرپورٹ پر گرفتار نوجوان عبد الواحد
دہلی ائرپورٹ پر گرفتار نوجوان عبد الواحد

نئی دہلی27مئی(ہرپل نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے آج انڈین مجاہدین کے الزام میں گرفتار عبد الواحدسدی باپا کی این آئی اے کی حراست سات دن کے  لئے بڑھا دی جب ایجنسی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم کو فنڈز کی منتقلی کے سلسلے میں اس سے حراست میں اور پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت ہے۔سات دن کی این آئی اے کی حراست ختم ہونے کے بعد کرناٹک میں بھٹکل کے رہنے والے 32سالہ عبدالواحد سدی باپا کو خصوصی جج راکیش پنڈت کے سامنے پیش کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ این آئی اے نے کہا کہ ملزم نے دولت کے لین دین کے سلسلے میں کچھ حقائق کا انکشاف کیا ہے،اس سے اور پوچھ گچھ کا امکان ہے،ملزم کو سات دن کے لئے پولیس حراست میں بھیجا جاتا ہے،اسے چار جون کو دوبارہ پیش کیا جائے۔سدی باپا کی 15دن کی اور ریمانڈ کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی جانچ ایجنسی(این آئی اے)نے عدالت سے کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے حوالہ کے ذریعے بہت سے لین دین کا ہینڈلر تھااین آئی اے نے کہا کہ سدی باپا کے انکشاف کے بعد کئی ٹیموں کو ممبئی جیسے مقامات پر دولت کے لین دین کی تحقیقات کے لئے بھیجا گیا ہے۔این آئی اے نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ دبئی سمیت کئی دیگر مقامات پر بھی دولت کے لین دین کے سلسلے میں تحقیقات کی ضرورت ہے اور ٹیموں کو ان جگہوں پر جلد بھیجا جائے گا۔این آئی اے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مدعا علیہان کے وکیل ایم ایس خان نے عدالت کے سامنے کہا کہ صدیقی باپا کو دبئی میں 2014میں اس سے پہلے ہندوستانی حکومت کی درخواست پر پکڑا گیا تھا اور حکومت دو ماہ تک اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دے سکی،اس کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔وکیل نے کہا کہ اب تک اس کے بعد آپ نے کیا نیا ثبوت جمع کیا ہے،ملزم کو اس کے بجائے عدالتی حراست میں بھیجا جانا چاہیے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/HRE5S

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے