Breaking News
Home / اہم ترین / دینی مدرسہ کے طالب علم کامدرسہ کے مہتمم نے ہی گلا کاٹ کر کیا تھا قتل

دینی مدرسہ کے طالب علم کامدرسہ کے مہتمم نے ہی گلا کاٹ کر کیا تھا قتل

مہتمم مولانا عثمان اللہ شاہ نظامی نے عبدالنواز کے گلا کاٹنے کے جرم کو قبول کرلیا

چنتامنی:27 /اگست(ہر پل نیوز/ایجنسی) چنتا منی سے متصل چنسندر نامی گاؤں میں واقع مدرسہ دارا لعلوم محمودیہ کے مہتمم عثمان اللہ شریف جو کہ اپنے ہی مدرسہ کے طالب علم عبد النوازقتل معاملے میں گرفتار کئے گئے تھے بالآخر انہوں نے اپنا جر م قبول کر لیا ہے ۔ڈی۔وائی۔ایس۔پی۔کرشنامورتی نے آج آخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ چنتا منی میں10سال قبل مدرسہ محمودیہ کی بنیاد ر رکھی گئی اور یہاں پر اردو عربی کی تعلیم ہورہی تھی جوں جوں علاقے میں ترقی ہوتی گئی زمین کی قیمتیں بھی بڑھتی گئیں اور مدرسہ میں آنے جانے کے لئے راستے مسدود ہوگئے اس بات کو لیکر عثمان ا للہ شریف متفکر ہوئے اور مدرسہ سے متصل فی ا لحال زیر تعمیر عمارت جو کہ نو ر ا للہ خان نامی آدمی کی زیر ملکیت ہے عثمان ا للہ شریف نے حا صل کر نےکرنے کی کئی بار کوشش کیاور جب کسی طرح بات نہیں بنی تومدرسہ کے مہتمم عثمان ا للہ شریف نے پھر ایک خطر ناک پلان بنا یا اور سوچا کہ کیوں نہ کسی طرح عوام کے در میان مدرسہ سے متصل زیر تعمیر عمارت کو منحوس بنا دیا جائے اور عوام کے در میان یہ بات مشہور کردی جائے کہ مذکورہ عمارت میں جنات و خبیث کا بسیرا ہے اور شیاطین و خبیث نے ہی عبد ا لنواز کا قتل کیا ہے اس سے عین ممکن ہے کہ آج نہیں تو کل یہ عمارت انھیں مل جا ئے اور مسدود راہیں کشادہ ہو جائے یہی سوچ کر ایک منصوبہ بند طریقے سے عثما ن ا للہ شریف نے عبد ا لنواز کا قتل کر کے نو را للہ خان کی زیر تعمیر عمارت میں ڈا ل دی گزشتہ تین چار دن سے مسلسل عثما ن ا للہ شریف اپنے جرم سے انکار کر تے رہے لیکن آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائیگی پولیس کے سامنے تین چار دن میں ہی مدرسہ کے مہتمم کے تمام کس بل نکل ہی گئے اور تھک ہار کر انہوں نے اپنا جر م قبول کر لیا نمائندوں کی جانب سے چند پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتےہوئے محکمہ پولیس کے کرشنامورتی و موقع پر موجود دیگر اہلکاروں نے بتا یا کہ اس خطرناک کارروائی کو انجام دینے کے لئے عثما ن ا للہ شریف نے عبد ا لنواز کا انتخاب اسلئے کیا کیوں کہ عبد ا لنواز کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا اور ان کے والدین بہت کم اپنے بچے کی خبر گیری و نگہبانی کر تے تھے دوسری جانب عبد النواز قتل معاملے میں عوام کے در میان جو بہت سی افوا ہیں جا دو منتر ٹو ٹکا کے نام پر گر دش کر رہی تھیں ساری غلط ثابت ہوئیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/9RMOW

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے