Breaking News
Home / اہم ترین / ذاکر نائک اور ان کے اداروں کے خلاف کارروائی مودی حکومت کی منظم سازش کا حصہ: ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں

ذاکر نائک اور ان کے اداروں کے خلاف کارروائی مودی حکومت کی منظم سازش کا حصہ: ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں

نئی دہلی، ( پریس ریلیز) نومبر:ملی گزٹ کے ایڈیٹر اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے مبلغ  اسلام  ڈاکٹر ذاکر نائک اور ان کے اداروں پر ٹوٹنے والی مصیبت پر بالعموم ملت میں چھائی خاموشی پر تشویش ظاہر کی ہے۔  پریس ریلیز کے مطابق،انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ سے آنے والی ایک جھوٹی خبر کا بہانہ بنا کر ان کے خلاف ایک ماحول بنایا گیا حالانکہ اس خبر کی تردید اگلے ہی دن ہوگئی تھی ۔ دھیرے دھیرے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کے ادارے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن اور دیگر تعلیمی اور خیراتی اداروں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ ان اداروں کے آفسوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے ،ان کے عالمی معیار کے اسکول پر بھی قبضہ کی تیاری ہوری ہے اور ان کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈکارنر نوٹس جاری کرکے دنیا کے کسی بھی حصے سے ان کو گرفتار کرکے ہندوستان لانے کی تیاری شروع ہوچکی ہے تاکہ ان کو کئی سال جیل میں رکھ کر ملت کو بدنام کیا جاسکے۔

 ایڈیٹر نے کہا کہ ذاکر نائک کے خلاف حملہ مودی سرکار اور ان کے حامیوں کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایجنڈے کا حصہ ہے۔مسلم پرسنل لاء پر حملہ، مسجدوں اور قبرستانوں پر حملے ، آئے دن فساد، لوجہاد، گھر واپسی، گائے اور گائے کے گوشت کے نام پر قتل وغارت  گری ایک منظم سازش کا حصہ ہیں۔ متحرک مسلمانوں کو خاموش کرنے اور ان کو سبق پڑھانے کے اس پلان کے تحت اس سے پہلے بھی علماء کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگاکر بند کیا جاتا رہا ہے۔اس کا تازہ شکار ذاکر نائک ہیں۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام  نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے اس سازش کو نہ پہچانا اور اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی تو جلد ہی یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچے گی اور تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ مذہب، مسلک اور علاقوں میں یہ آگ کوئی تفریق نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ ضرورت ہے کہ معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور موجودہ حکومت کو صاف طریقے سے بتا دیا جائے کہ یہ جارحانہ رویہ ملت کو قبول نہیں ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/e6hD1

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے