Breaking News
Home / اہم ترین / ذاکر نائیک پر شکنجہ کسا، آئی آر ایف کو بیرون ملک سے ملنے والی فنڈنگ کی تحقیقات شروع

ذاکر نائیک پر شکنجہ کسا، آئی آر ایف کو بیرون ملک سے ملنے والی فنڈنگ کی تحقیقات شروع

ڈاکٹر ذاکر نائک کو بحث کا موضوع بنانا دستوری تحفظ کے خلاف: جماعت اسلامی ہند نے کیا اظہار افسوس

pressmeet-oct13

نئی دہلی،9جولائیہرپلنیوز/آئی این ایس انڈیا)معروف اسلامی مبلغ ذاکر نائیک پر مرکز کی جانب سے شروع کی گئی تفتیش کا شکنجہ کستا جارہا ہے۔ذاکرنائیک کے این جی او اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (آئی آر ایف)کو بیرون ملک سے ملنے والے فنڈ کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ان ان کے لیکچرز کی سی ڈی کی بھی تحقیقات شروع کر دی گئی۔مرکز نے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب مہاراشٹر حکومت نے 50سال کے معروف اسلامی مبلغ کے ان لیکچرز کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جن پر تنازعہ پیدا ہوا ہے۔آئی آر ایف کی سرگرمیاں مرکزی وزارت داخلہ کی نظروں میں تب آئیں جب یہ الزام لگے کہ اس ادارے کو مل رہے غیر ملکی فنڈ کا استعمال سیاسی سرگرمیوں اور لوگوں میں بنیاد پرست و پیدا کرنے کے لئے کیا گیا۔وزارت داخلہ کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ فارن کنٹربیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے)کے تحت رجسٹرڈ آر آر ایف کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا حکم دیاگیاہے۔افسر نے بتایا کہ وزارت داخلہ آئی آر ایف کو بیرون ملک سے ملنے والے پیسے کے ذرائع کا بھی پتہ لگائے گی۔

دوسری جانب جماعت اسلامی ہند نے عالمی شہرت کی حامل، ہندوستان کی معروف شخصیت ڈاکٹر ذاکر نائک کو حکومت کے بعض افراد اور میڈیا کے کچھ گوشوں کے ذریعہ منفی انداز میں موضوع گفتگو بنانے کی جس طرح کوشش کو دستور میں عقیدہ واظہار خیال کی ضمانت و تحفظ سے متصادم ، غیر ضروری ، لایعنی اور افسوس ناک عمل قرار دیتے ہوئے اس سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔

پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے نائب امیر جماعت جناب نصرت علی نے فرمایا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کےخیالات سے بعض افراد کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وہ ملک کے دیگر مذاہب کی سینکڑوں معروف شخصیات کی طرح اس دور کے تمام ممکن ذرائع ابلاغ کے توسط سے ملکی اورعالمی سطح پر دستور ہند کے حدود کی پاسداری کرتے ہوئے شائستہ، مہذب اورعلمی انداز میں اسلام کے پیغام توحید ، رسالت اور آخرت کو انتہائی خوش گوارماحول میں پیش کرتے رہے ہیں، جس کو ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے کروڑوں افراد برسوں سے توجہ اور دلچسپی کے سے سنتے رہے ہیں اور ان میں کبھی دستور و اخلاقیات کے خلاف کوئی بات محسوس نہیں کی گئی ۔ حیرت ہے کہ اب اچانک ان کی انسانی خدمات کے تجزیہ کی ضرورت کا ذکر کرکے اور اسے ایک خاص رنگ دے کرملک میں پہلے سے کشیدہ فرقہ وارانہ ماحول کو مزید خراب کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے۔ اگر اس مشق کو بعض حلقوں کی جانب سے وقتی سیاسی مفادات کے پیش نظر دادری ، اٹالی، کیرانہ، مسلم اداروں کے اقلیتی کردار ، یکساں سول کوڈ وغیرہ جیسے عنوانات کا تسلسل قرار دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔

جماعت کے کل ہند نائب امیر نے کہا کہ حکومت اور میڈیا کے لیے وقتی اور عارضی مفادات کے حصول کی غرض سے ایسے اقدامات اور طرز عمل مناسب نہیں ہیں، جن سے دستور کی روح پر ضرب پڑتی ہو، ملکی روایات کی خلاف ورزی ہوتی ہو اور ملکی و عالمی سطح پر وطن عزیز کی تصویر مسخ ہو تی ہو۔ جناب نصرت علی نے فرمایا کہ ملک میں بنیادی نوعیت کے کئی مسائل ہیں ۔ مثلاً بیرون ملک سے کثیر کالا دھن ملک میں لانے سے لے کر غربت و افلاس کے ازالہ اور تعمیر و ترقی کے سینکڑوں ادھورے کام جن کی طرف توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔ حکومت ان کی طرف مخلصانہ توجہ کرے تو زیادہ مناسب ہے اور یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/aSTaE

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے