Breaking News
Home / بزم ادب / رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی ایک عہد ساز شاعر

رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی ایک عہد ساز شاعر

 از: سعدیہ اقبال اردو اسکالر  
jigar

شیخ محمد علی سکندر جگر مرادآبادی کی پیدائش بنارس میں1890 میں ہوئی تھی۔ جگر کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔ بزرگوں کا وطن دہلی تھا اور مورث اعلیٰ مولوی محمد سمیع شاہ جہاں کے استاد تھے۔ نہ جانے کس بات پر عتاب شاہی کے شکار ہوئے اور مرادآباد میں جاکر سکونت اختیار کرنی پڑی۔جگر کو شاعری ورثے میں ملی تھی ان کے داداجان حافظ محمو نور شاعر تھے اور نور تخلص کرتے تھے۔والدمحترم مولوی علی نظیر نظر بھی شاعر تھے گھر پر عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مگر باقاعدہ تعلیم سے محروم رہے۔ ہائی اسکول تک انگریزی کی تعلیم حاصل کی مگر اس کے بعد نہ تو علم بڑھانے کی کوشش کی اور نہ ہی خواہش ۔جگر نے اپنے کلام کی اصلاح ابتداءمیں چندے منشی حیات بخش رسا سے لی، لیکن پھر داغ سے رجوع کیا، داغ کی وفات کے بعد کچھ دن منشی امیر اللہ تسلیم سے بھی اصلاح لی۔ لیکن اصغر گونڈوی سے زیادہ اثر قبول کیا۔

                جگر کی نظر حسن پسند تھی، آگرہ میں اٹکی ، بدنامیاں کمائیں، یاردوستوں کی صحبت نے مئے خوار بنا دیا۔ تلاش معاش نے چشمہ بیچنے والی ایک کمپنی کی ایجنسی دلادی اور شہر شہر گھوم کر چشمہ بیچنے لگے، جگر مرادآبادی نے 14، 15 سا ل کی عمر میں شعرکہنا شروع کر دیا تھا ۔ تلاش معاش کے دوران شاعری نے بال و پر نہیں نکالے تھے اورنہ ہی قدر دانوں کی ٹیم تیار ہوئی تھی۔ خود بھی تجربہ کم تھا اور بیوی بھی نو عمر تھی گذر بسر مشکل سے ہو رہی تھی آخر صبر کرتے کرتے تھک گئی اور انہیں سماج میں بے مقام کر دیا اور اسی لاابالی پن میں پندرہ برس بعد دوسری بیوی بھی انہیں چھوڑ کر اصغر گونڈوی کے نکاح میں چلی گئی۔

                جگر مرادآبادی ایک رومانی شاعر ہیں اور ساری عمر حسن و عشق کے نغمے گائے۔ وہ حسن کو ایک قدر مطلق مانتے ہیں اور ان کے یہاں حسن ایک ماورائی پر چھائیں نہیں بلکہ ایک زندہ و تابندہ حقیقت ہے۔

                جگر مرادآبادی کی زندگی خاصی رنگین، دلچسپ اور پُرکیف رہی، ان کی صحت منددیوانگی کے پیچھے سودوزیاں کا پیمانہ تھا ۔ان کی جوانی دیوانی تھی ۔ان کے یہاں ساقی و صہبا دونوں سے گہری وابستگی تھی۔ ان کی رندی ان کی ادبی زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ اس سے ان کی زندگی میں ایک صداقت پیدا ہوگئی ہے جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دلکش اور فطری ہے۔انہوں نے عشق کیا اور عشق نے انہیں خالص بنا کر ان کی آواز میں لَے اور شخصیت میں گداز پیدا کر دیا۔

                جگر کا تعلق شرفاءکے متوسط طبقہ سے تھا۔ جس سے جگر کو محبت ، تہذیب، شرافت کی پرستش ، ایک مذہبی شعور، چند اخلاقی قدر یں اور ایک مبہم سی انسان دوستی ورثے میں ملی تھی۔

                1920 سے 1938 تک جگر کے شباب کازمانہ تھا ۔ یہ تمام وقت انہوں نے شعر گوئی اور شعر خوانی میں بسر کیا۔ حالانکہ جگر مرادآبادی مشاعروں کی طرح پربہت کم شعر کہا کرتے تھے۔ اور کسی کی فرمائش پر شعر کہنا تو ان کے لئے تو اور مشکل تھا۔ فرماتے تھے کہ جس کا جی چاہے وہ مجھے شاعر سمجھے یا نہ سمجھے لیکن میں اس قسم کے مقابلے اور امتحان کے لئے تیار نہیں ہوں۔ مگر جب مئے نوشی اور مشاعروں میں شرکت شروع کی تو مشاعرے صرف اور صرف جگر کے نام پر کامیاب ہونے لگے۔ مشاعرے میں مدہوش جگر کو لوگ ہاتھوں ہاتھ سنبھال کر اسٹیج تک لاتے اور پھر سامعین خود جگر کے کلام کی شیرینی اور درد مند آواز سن کر مدہوش ہوجاتے۔ جگر کا کلام اور ترنم سارے ہندوستان پر چھا گیا۔ لفظوں کے انتخاب اور استعاروں کی ندرت ، محاوروں کا بر محل استعمال، خیال کی باریکی اور اشعار کے تغزل نے جگر کو مقبول عام بنا دیا ۔ جگر مرادآبادی کی پوری شخصیت مشاعروں کی عام فہم اور شگفتہ لیکن ہلکی پھلکی ذہنی فضا میں پروان چڑھی اور اسی سطح پر ابھری، جگر جس بھی مشاعر ے میں شریک ہوتے تھے مشاعرہ وہی لوٹتے تھے۔

                شاعری کے بارے میں جگر نے اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے لکھا”میری شاعری غزل تک ہی محدود ہے اور چونکہ حسن و عشق میں میری زندگی ہے اس لئے بعض مستثنیات کو چھوڑ کر کبھی دوسرے میدان میں قدم رکھنے کی جرا ت نہ کر سکا۔“ غزل کے بارے میں وہ کہتے ہیں ”غزل کا مزاج نہایت لطیف و نازک ہوتا ہے اس کی جامعیت کا یہ عالم ہے کہ لطافت و نزاکت مزاج اور اختصار و ایجاز کے باوجودہر موضوع اس کے زیر سایہ آجاتا ہے اور اپنے تمام محاسن اور قوت کے ساتھ۔۔۔۔ پوری دیانت داری کے ساتھ میں غزل ہی کو ایک شریف ترین اور پاکیزہ ترین صنف تصور کرتا ہوں۔“

                جگر نے شاعری میں بعض متردک الفاظ مثلاً انکھڑیاں، بِن گھبرائے ہے وغیرہ کو پھر سے رائج کیا۔ اور متروک ترکیبوں کو استعمال کرنے کے ساتھ نئی نئی ترکیبوں کو ایجاد کیا جیسے آفتاب اٹھا، بے تاب بمفہوم بے تابانہ، حسن بمعنیٰ محبوب، بربمعنیٰ لیکن وغیرہ اور محاوروں کو ایک خاص قسم کی جدت اور ندرت پیدا کرنے کے لئے استعما ل کئے۔

                جگر مرادآبادی نے غزل کی صالح روایات کو جذب کرکے انہیں ایک لطیف تبسم اور دلکش رمزبنادیا ہے ۔ مگر ان روایات کے ساتھ اور ان کی شاعری ایک نئی صحت مند، شگفتہ اور پُرکیف اشاریت رکھتی ہے۔ جو اس کی اپنی تخلیق کردہ ہے۔ حسرت و جگر سے غزل کو سرمستی واپس مل گئی جو زندگی کی تلخیوں میں کھو گئی تھی۔ وہ کیف و انبساط پھر ہاتھ آگیا جو زندگی کی روح ہے اور جس کی وجہ سے زندگی روشن اور گوارا ہے۔ جگر مرادآبادی داغ و حسرت دونوں سے زیادہ مہذب اور لطیف تغزل رکھتے ہیں۔ جگر کے یہاں محبت کا تصور پاکیزہ اور لطیف ہے۔ جو تصور زندگی سے قریب کرتا ہے اورزندگی بسر کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ جگر کا اصلی کارنامہ فخر غزل ہے ۔اگر چہ ان کے کلام میں داغ کا اثر بہت نمایاں ہے تاہم صاحب ذوق محسوس کر سکتا ہے کہ وہ اس میدان میں ایک طرز خاص کے موجد ہیں۔ تغزل شعر کی جان ہوتا ہے یہی وہ صفت ہے جس سے کلام میں تاثیرپیداہوتی ہے جگرکے کلا م کا اصل جوہر تغزل ہی ہے جس نے جگر کو رئیس المتغزلین کا لقب عطاکیا۔

                بیسویں صدی میں اردو کے چار ستون فانی، حسرت ، اصغر اور جگر ہیں لوگوں نے جگر کو نمایاں اور انفرادی خصوصیت کا مالک قرار دیا ہے حسن و عشق کی جو شکلیں جگر کے کلام میں ہیں کسی اور کے یہاں ملتی ہی نہیں ہیں۔ جگر کے یہاں سوزوگداز ، سرمستی وشادابی او ر وجد کی کیفیت ملتی ہے۔ جگر فن موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے تھے انہوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشعار میں جادو بھر دیا۔

پاس ادب سے چھپ نہ سکا حسن راز و عشق

جس جا تمہارا نام سنا سر جھکا لیا

نازک سی توجہ میں اشارات کا دفتر

ہلکے سے تبسم میں عنایات کا عالم

تو محبت کو لازوال بنا

زندگی کو اگر نہیں ہے ثبات

حسین و سادہ ہے کس درجہ شاعر فطرت

ہنسے تو غنچہ وگل روپڑے تو شبنم ہے

اللہ اللہ ہستی شاعر

قلب غنچے کا آنکھ شبنم کا

اللہ اللہ ترے غم کی وسعتیں

کوئی عالم درد سے خالی نہیں

یہی زمیں ترا مسکن یہی ترا مدفن

اس زمین سے تو مہر و ماہ پیدا کر

لاکھ آفتاب پاس سے ہوکر گذر گئے

ہم بیٹھے انتظار سحر دیکھتے رہے

آکہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہے دل

جیسے ہر شئے میں کسی شئے کی کمی پاتا ہوں میں

ان کے جاتے ہی یہ حیرت چھاگئی

جس طرف دیکھا کیا دیکھا کیا

یاد ہے اب تک جگر آغاز عشق

شب ہمہ شب وہ خیال آرائیاں

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھوں اے واعظ

میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو شراب اٹھا

ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

عشق ہے ہر موئے تن سے نغمہ زن

بج رہی ہیں ہر طرف شہنائیاں

اللہ اللہ عشق کی رعنائیاں

حسن بھی لینے لگا انگڑائیاں

شباب رنگیں،جمال رنگیں،وہ سر سے پاتک تمام رنگیں

تمام رنگیں بنے ہوئے ہیں تمام رنگیں بنارہے ہیں

شراب آنکھوں سے ڈھل رہی ہے نظر سے مستی ابل رہی ہے

چھلک رہی ہے اچھل رہی ہے پئے ہوئے ہیں پلارہے ہیں

یہ ناز حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر

نظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں

جو تیرے عارض و گیسو کے درمیاں گذرے

کبھی کبھی وہ لمحے بلائے جاں گذرے

میرا کمال شعر بس اتنا اے جگر

وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جس کو زمانہ بنا گیا

نگاہوں سے بچ کر کہاں جائیگا

جہاں جائیگا ہمیں پائیگا

وہ ہمارے قریب ہوتے ہیں

جب ہمارا پتہ نہیں ہوتا

مجاز ہو کہ حقیقت یہاں تو حال یہ ہے

ترے حضور سے اٹھے ، ترے حضور آئے

یہاں تک جذب کرلوں کاش ترے حسن کامل کو

تجھی کو سب پکار اٹھیں گذر جائوں جدھر ہوکر

اک لفظ محبت کا ادنیٰ سا فسانہ ہے

سمٹے تو دے عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

جنوں کے سخت مراحل بھی تری یاد کے ساتھ

حسیں حسیں نظر آئے جواں جواں گذرے

حسن کافر شباب کا عالم

سر سے پا تک شراب کا عالم

یوں زندگی گذار رہا ہوں ترے بغیر

جیسے کوئی گناہ کیے جا رہا ہوں میں

                جگر ایک خوددار آدمی تھے یہی خودداری انہیں فلمی دنیا سے واپس لے آئی۔ جگر کے چار شعری مجموعے ”داغ جگر“، ”شعلہ طور“، ”آتش گل“ اور ”یادگار جگر“ ہیں۔

                9 ستمبر1960ء کی صبح اردو دنیا کے لئے ایک قیامت صغریٰ ثابت ہوئی ۔اردو شاعری کی جان ، غزل کا حسن، مشاعرے کا روح رواں اور اردو ادب کا میر کارواں جگر مرادآبادی یہ کہتے ہوئے ہم سے جدا ہوگیا۔

                                دل کو سکون روح کو آرام آگیا                              موت آگئی کہ یار کا پیغام آگیا

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KX65A

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے