Breaking News
Home / اہم ترین / رائے بریلی کے این ٹی پی سی پلانٹ میں حادثہ: مرنے والوں کی تعداد 29 ہوگئی

رائے بریلی کے این ٹی پی سی پلانٹ میں حادثہ: مرنے والوں کی تعداد 29 ہوگئی

را ئے بریلی / لکھنؤ۔)ہرپل نیوز، ایجنسی)2نومبر۔ اترپردیش میں رائے بریلی کے اونچاهار میں واقع نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی) کی 500 میگاواٹ کی ایک یونٹ میں کل بوائلر پھٹنے کے حادثہ میں جھلسے تین اور مزید لوگوں کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی جبکہ 60 سے زائد لوگوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ رائے بریلی کے چیف میڈیکل افسر ڈی کے سنگھ نےیہاں بتایاکہ رائے بریلی ضلع اسپتال میں نو زخمیوں کا علاج چل رہا ہے جبکہ زخمی 55 لوگوں کو کل رات لکھنؤ کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا هے۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے۔لکھنؤ میں واقع شیاما پرساد مکھرجی (سول اسپتال) کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آشوتوش دوبے نے بتایا کہ کل رات یہاں سنگین حالت میں جھلسے 30 لوگوں کو لایا گیا تھا جس میں ایک کومردہ حالت میں اتارا گیا جبکہ صبح آٹھ بجے تک تین اور لوگوں نے دم توڑ دیا۔ دیگر 24 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں لائے گئے لوگوں میں 50 سے 100 فیصد جھلس ہوئے ہیں۔

رائے بریلی کے این ٹی پی سی پلانٹ میں حادثہ: مرنے والوں کی تعداد 29 ہوگئی

اس کے علاوہ کنگ جارج میڈیکل کالج (كے جی ایم یو) کے ٹراما سینٹر کے انچارج ڈاکٹرایس این شنکھ وار نے بتایا کہ ٹراما سینٹر میں کل 12 لوگوں کو لایا گیاجس میں ایک کی موت ہو گئی جبکہ 11 کے علاج چل رہا ہے۔ سنگین حالت میں کچھ لوگوں کو ایس جی پی جی آئی میں داخل کرایا گیا ہے۔لکھنؤ سے نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس (این ڈی آر ایف) کی 32 ارکان کی ٹیم کل سے ہی امدادی کام میں مصروف ہے۔ جائے حادثہ پر سیاہ اور گرم راکھ کی وجہ سے امدادی کام کرنے میں دقت آ رہی ہے۔ جائے حادثہ پر ملبہ پھیلا ہوا ہے اور کچھ لوگوں کے وہاں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے زخمیوں سے ملاقات کی۔ رائے بریلی ان کی ماں اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کا پارلیمانی حلقہ ہے۔ توانائی کے مرکزی وزیر آر کے سنگھ کے بھی یہاں پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔ سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کے جلد صحتیاب ہونے کی دعا کی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/rrdKx

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے