Breaking News
Home / اہم ترین / راجستھان میں گئو رکشکوں نے کی مسلم نوجوانوں کی بے رحمانہ پٹائی۔ایک کی موت۔ قتل کے بعد معاملہ میں سنسنی خیزانکشاف،لواحقین کا دھرنا

راجستھان میں گئو رکشکوں نے کی مسلم نوجوانوں کی بے رحمانہ پٹائی۔ایک کی موت۔ قتل کے بعد معاملہ میں سنسنی خیزانکشاف،لواحقین کا دھرنا

قتل کو حادثہ بنانے کیلئے لاش کو پٹری پر ڈال دیا گیا ۔ ملزمین کی گرفتاری تک اہل خانہ کا لاش لینے سے انکار

الور(ہرپل نیوز،ایجنسی)13نومبر۔ راجستھان کے الور میں پہلو خان کے قتل کا معاملہ ابھی تک پوری طرح ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ اب مزید دو مسلم گئو پالکوں کی بے رحمی سے پٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے ، جس میں ایک مسلم نوجوان کی جائے واقعہ پر ہی موت ہوگئی ہے ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کثیر تعداد میں میو برادری کے لوگ اسپتال پہنچ گئے اور انہوں نے واقعہ کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا۔خبروں کے مطابق الور ضلع سے پک اپ وین میں گائے ل کر گھاٹ مکا گاوں جارہے دو مسلم گئو پالکوں کی مشتعل افراد نے بے رحمی سے پٹائی کردی اور ایک کو گولی ماردی ۔ عمر خان نامی مسلم نوجوان کی جائے واقعہ پر ہی موت ہوگئی جبکہ دوسرا طاہر ہریانہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ مقتول عمر خان کی لاش کو الور کے راجیو گاندھی اسپتال کے مردہ گھر میں رکھا گیا ہے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں میو برادری کے لوگ الور کے راجیو گاندھی اسپتال پہنچے اور انہوں نے دونوں کی شناخت کی ۔ برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ مل کر ہندتوادی تنظیموں سے وابستہ افراد نے گائے لے کر جارہے نوجوانوں کی پٹائی ہے اور اس کے بعد گولی مار کر قتل کردیا ۔ برادری کے لوگوں نے واقعہ کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ گووند گنج تھانہ میں اس سلسلہ میں ایف آئی آر درج کروائی جارہی ہے۔مبینہ گئو رکشکوں کے ذریعہ عمر کے قتل اور طاہر کی شدید پٹائی کے معاملہ میں کئی سنسنی خیز انکشافات ہورہے ہیں ۔ پولیس کے رول پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ ادھر مسلم میو برادری سے وابستہ افراد میو پنچایت الور کی قیادت میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ مظاہرین ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں ۔لواحقین کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں پولس اہلکار بھی ملوث ہیں کیوں کہ پولس نے مسلسل اس واقعہ کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ متاثرین کے لواحقین کے مطابق گایوں کو ذبح کے لئے نہیں لے جا یا جا رہا تھا ،کیوں کہ تمام گائیں دودھ دینے والی ہیں۔ادھر میو پنچایت الور کے ترجمان قاسم میواتی کا کہنا ہے کہ جب تک پولس اہلکار اور دوسرے ملزمین کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا تب تک وہ لاش نہیں لیں گے اور دھرنا اسی طرح جاری رکھیں گے۔قابل ذکر ہے کہگئورکشا کے نام پر دودھ کا کاروبار کرنے والے مسلمانوں پر ہوئے اس حملہ کی خبرکے سامنے آنے سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

کیا ہے پوراواقعہ : عمر خان اور طاہر راجستھان کے الور ضلع سے پک اپ گاڑی میں گایوں کو لے کر بھرت پور کے گھاٹ مکا گاؤں جا رہے تھے۔ دیر رات ان کے ساتھ مبینہ گئو رکشکوں نے مار پیٹ کی اور پھر گولی مار دی۔حملے میں ایک نوجوان عمر خان کی موت ہو گئی ہے جبکہ زخمی طاہر کا ہریانہ کے فیروز پور جھرکا کے ایک نجی اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حملہ کرنے کے بعد نیم جان حالت میں عمر کو ریل کی پٹری پر ڈال دیا گیا اور قتل کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولس نے بھی رات میں ہی عمر خان کی لاش کو مورچری میں رکھوا دیا، جس کی وجہ سے پولس پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔غور طلب ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی پولس نے اس کی اطلاع مہلوک کے گھروالوں کو نہیں دی۔موقع سے کسی طرح جان بچا کر بھاگ جانے والا طاہر بھی خوفزدہ ہے اور ابھی تک ٹھیک سے بات نہیں کر پا رہا ہے۔معاملہ کی اطلاع کے بعد کافی تعداد میں میو سماج اور میو پنچایت الور سے وابستہ افراد الور کے راجیو گاندھی جنرل اسپتال پہنچے جہاں مہلوک عمر خان کی لاش مورچری میں رکھی گئی ہے۔میو پنچایت کا الزام ہے کہ پولس کے ساتھ ہندو نواز تنظیموں کے لوگوں نے گائے لے جا رہے مسلم نوجوانوں کے ساتھ مار پیٹ کی اور ایک نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

ایس پی کی وضاحت :ادھر الور کے ایس پی راہل پرکاش کا کہنا تھا کہ ’’یہ بات صحیح نہیں ہے کہ رپورٹ درج نہیں کی گئی، مقدمہ تو اسی روز درج کر لیا گیا تھا۔ ‘‘ واردات کے پیچھے گئورکشکوں کا ہاتھ ہونے اور ریل کی پٹری پرعمرخان کوڈال کرحادثہ ظاہرکرنےکولےکرا​نہوں نے کہا کہ ’’یہ سب باتیں تو تفتیش کے بعد ہی پتہ چل سکیں گی‘‘۔

خیال رہے کہ الور ضلع کے بہروڑ میں رواں سال تین اپریل کو گئو رکشکوں نے پہلو خان نام کے ایک مسلم شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا تھا ۔ اس سلسلہ میں چھ افراد کے خلاف رپورٹ درج کروائی گئی تھی ۔ مگر سی بی سی آئی ڈی نے سبھی کو کلین چٹ دیدی ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ اس واقعہ میں منلوث لوگ کب تک گرفتار ہو نگے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZgW78

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے