Breaking News
Home / اداریہ / راستہ ہے تو بس راستہ آپ ؐ کا: از: ایڈیٹر

راستہ ہے تو بس راستہ آپ ؐ کا: از: ایڈیٹر

یہ مہینہ جس سے ہم اور آپ گذر رہے ہیں محسنِ انسانیت حضرت محمد ﷺ کی پیدائش اور دنیا سے پردہ کئے جانے والے اہم واقعات کے لئے مشہور ہے ،آپ ؐ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے ضلالت وگمراہی میں غلطاں و پیچاں انسانیت کو حق و ہدایت کی سیدھی راہ دکھائی اور جھنم کے دائمی عذاب سے نجات کا راستہ بھی بتلایا۔درود و سلام ہو پیارے رسول ﷺ پر۔

قرآن کریم میں پیارے رسول ﷺ کی زندگی کو ہمارے لئے اسؤۃ اور نمونہ قراردیا گیا ہے ،معیشت ،معاشرت،طریقت ،میدان جنگ ،سیاست ،معاملات ،الغرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں آں حضور ﷺ کی ذات میں رہنمائی نہ ہو۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

راہِ طریقت ، راہِ شریعت،امن واخوت جنگ و جدل

ذاتِ محمد ؐ راہ نما ہر منزل ،ہر میدان میں ہے

اسکی روشنی میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر قول وعمل ہمارے لئے رہنما خطوط مہیا کرتاہے ،دور حاضر میں عام انسان سے لیکر حکومتوں تک جو انارکی اور انتشار پایا جاتا ہے اس کا دائمی اور پائیدار حل اسلامی تعلیمات اورآپ ؐ کے ارشادات اور سب سے بڑھ کر آپ کی سیرت مبارکہ میں پنہاں ہے اس وقت دنیا میں جن مشکلات اور مسائل کا ہوا کھڑا کیا گیا ہے اس کا یقینی حل سیرت مبارکہ میں موجود ہے ۔معاشرتی مسا ئل میں میاں بیوی اور بچوں اوروالدین کے درمیان جو خلیج حائل ہوتی جارہی ہے اس کے لئے سیرت رسول ﷺ سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے ،معاشی مسائل جیسے فاقہ کشی ،بھوک مری،اور غذائی اجناس کی کمی کی وجہ سے خودکشی کی وارداتوں وغیرہ پر قابو پانے کے لئے غور کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ ﷺ نے ذخیرہ اندوزی نہ کرنے اور مسکینوں کی دستگیری کرنے کی جو تلقین فرمائی ہے اس سے ہم کو سوں دور ہیں جس کی وجہ سے یہ مسائل کھڑے ہورہے ہیں۔عالمی منظر نامے پر سابقہ دس سالوں سے دہشت گردی ،شدت پسندی کی وجہ سے عالمی برادری سراسیمگی وحیرانی کی تصویر بنی ہوئی ہے اور ان مسائل کے لئے اسلام کے شفاف دامن امن کو داغدار بنانے کی جو منصوبہ بند سازشیں ہوئی اورہورہی ہیں وہ ہر خاص وعام پر واضح ہے جسکی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔اسلام پر شدت پسندی اور خونخواری کا الزام لگا کر عالمی برادری اس کے خلاف منظم ہورہی ہے اور قیام امن کے مسئلہ کو لیکر اپنی پریشانی کا اظہار کرچکی ہے وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جس مذہب پر وہ یہ الزام تراشی کررہے ہیں اس کے بانی نے ہمیشہ ہی جنگ پرامن و صلح کو ترجیح دی ہے اور کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے، صلح حدیبیۃ اور فتح مکۃ بطور مثال کافی ہیں ،اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں اسلامی ممالک سے انقلاب کی جو گونج سنائی دے رہی ہے اس سے نام نہاد مسلم حکمران حواس باختہ ہیں ،اسلامی انقلاب ان کی آمریت یا مطلق العنان جمہوریت پر لگام کسنے کو ہے اور ایسے میں مشرق وسطی اور خلیجی ممالک ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہیں ،ایسے مشکل ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کیا جائے اورآپ ؐکی حکمت عملی کو اپنے لئے حرز جاں بنایا جائے ،بگڑتے ہوئے حالات میں اس کا مطالعہ اور اس پر مکمل عمل آوری سے امید ہے کہ دنیا ایک بار پھر خیر القرون کا سا امن وچین حاصل کرے گی ۔کاش کہ انسانیت کامیابی کی ا س شاہ کلید کو مسائل حیات کے ہر قفل پر آزمائے اور تمام پریشانیوں سے دائمی چھٹکارا حاصل کرے اسی لئے کہا گیا ہے کہ

روشنی ہے تو بس روشنی آپ کی

راستہ ہے تو بس راستہ آپ کا

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ksQaM

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے