Breaking News
Home / اہم ترین / رام مندر معاملے میں تیزی ۔ یوگی نے کہا رام مندر بنانے کی پہل ہوگی۔ تو اکھاڑہ پریشد سربراہ نریندر گری نے کیا دعوی ، 6 دسمبر سے پہلے شروع ہوسکتا ہے رام مندر کی تعمیر کا کام

رام مندر معاملے میں تیزی ۔ یوگی نے کہا رام مندر بنانے کی پہل ہوگی۔ تو اکھاڑہ پریشد سربراہ نریندر گری نے کیا دعوی ، 6 دسمبر سے پہلے شروع ہوسکتا ہے رام مندر کی تعمیر کا کام

الہ آباد (ہرپل نیوز،ایجنسی)14نومبر۔ اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے سربراہ مہنت نریندر گری نے دعوی کیا ہے کہ اجودھیا میں عالی شان مندر کی تعمیر کا کام 6 دسمبر سے پہلے شروع ہوسکتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ نریندر گری نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سبھی فریقوں سے بات چیت کے ذریعہ رام مندر کے حق میں جلد ہی کوئی مثبت نتیجہ سامنے آسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شیعہ اور سنی وقف بورڈ کے سربراہ سے عام اتفاق رائے کو لے کر ان کی بات چیت ہوئی ۔ وہیں جلد ہی سبھی اہم فریقوں سے بات چیت کرکے مندر کی تعمیر کا فیصلہ عام اتفاق رائے سے ہوسکتا ہے۔ اس کیلئے اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد مسلسل سبھی فریقوں سے بات چیت کررہا ہے۔خیال رہے کہ الہ آباد کے باگھمبری مٹھ میں اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی پہنچ رہے ہیں ، جہاں وہ اکھاڑہ پریشد کے سربراہ مہنت نریندر گری سے رام مندر کی تعمیر کو لے کر بات چیت کریں گے ۔ اکھاڑہ پریشد کے سربراہ مہنت نریندر گری کا کہنا ہے کہ سنی وقف بورڈ کی جانب سے بھی مثبت پہل کی جارہی ہے۔

ایودھیا میں رام مندر بنانے کی پہل ہوگی: یوگی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اور ہندویوا واہنی لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو رائے پور میں کہا کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش پر رام مندر بنانے کی پہل ہو گی۔ وزیر اعلی بننے کے بعد یہ رائے پور کا ان کا پہلا دورہ ہے۔انہوں نے کہا میں بھگوان رام کے ننیہال آیا ہوں۔ جائے پیدائش پر رام مندر بنانے کی پہل کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں 5 تاریخ سے روزانہ سماعت ہوگی۔ رائے پور میں انہوں نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی ڈاکٹر رمن سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ریاستوں کے درمیان مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے بات چیت کی گئی۔

16 نومبر کو اجودھیا میں شری شری روی شنکر فریقین سے کریں گے ملاقات: بابری مسجد -رام مندر تنازع کو آپسی گفت و شنید سے حل کرنے کیلئے اب آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر 16 نومبر کو اجودھیا کا دورہ کریں گے ، جہاں وہ ہندو اور مسلم دونوں ہی فریقوں سے ملاقات کرکے اس معاملہ پر تبادلہ خیال کریں گے ۔خیال رہے کہ اس سے پہلے 11 نومبر کو نرموہی اکھاڑہ کے دنیندر داس نے بنگلور میں شری شری روی شنکر سے ملاقات کی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ داس نے شری شری سے اجودھیا تنازع میں ثالثی کیلئے اجودھیا آنے کی گزارش بھی کی تھی۔اطلاعات کے مطابق شری شری روی شنکر 15 نومبر کو لکھنو میں کچھ فریقوں سے بات چیت کرنے کے بعد 16 نومبر کو اجودھیا میں ہندو اور مسلم فریقوں سے ملاقات کریں گے اور ان سے مل کر درمیانی راستہ راشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس میٹنگ میں مسلم فریقوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین سید وسیم رضوی بھی بنگلورو میں شری شری روی شنکر سے ملاقات کرچکے ہیں ۔ ملاقات کے بعد وسیم رضوی نے کہا تھا کہ ہم اجودھیا میں ہی رام مندر کی تعمیر کے حق میں ہیں۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے سبھی فریقوں سے کہا تھا کہ بہتر ہوگا کہ سب آپس میں مل کر بات کریں اور کوئی حل نکال لیں ۔ تاہم زیادہ تر فریقوں کا کہنا ہے کہ آپسی سمجھوتہ سے حل مشکل ہے ۔ حال ہی میں شری شری روی شنکرنے اس معاملہ میں ثالثی کی پیشکش کی تھی ۔ تاہم اس کی شدید مخالفت بھی کی گئی تھی ۔ اس معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت دسمبر میں ہوگی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ICjSI

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے