Breaking News
Home / اہم ترین / راہل گاندگی کو کمان سونپنے کے ساتھ ہی کانگریس نئے دور میں داخل۔ کانگریسیوں میں جشن۔ سینئر لیڈران کی مبارکباد۔ فرقہ پرستی کے ساتھ سختی سے نمٹنے راہل کا عزم

راہل گاندگی کو کمان سونپنے کے ساتھ ہی کانگریس نئے دور میں داخل۔ کانگریسیوں میں جشن۔ سینئر لیڈران کی مبارکباد۔ فرقہ پرستی کے ساتھ سختی سے نمٹنے راہل کا عزم

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)16ڈسمبر۔ راہل گاندھی نے آج کانگریس صدر کے عہدہ کی کمان سنبھال لی ہے۔ پارٹی کے الیکشن افسر ایم رامچندرن نے انہیں یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک تقریب میں صدر ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا۔ تقریب میں مسٹر گاندھی کی والدہ اور کانگریس کی سبکدوش ہونے والی صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، پارٹی کے خزانچی موتی لال ووہرا، پارٹی جنرل سکریٹری جناردن دویدی، پارٹی کے دیگر سینئر لیڈر اور بڑی تعداد میں کارکن موجود تھے۔ اس موقع پر مسٹر گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی واڈرا اور ان کے شوہر رابرٹ واڈرا بھی موجود تھے۔اس دوران 24 اکبر روڈ پر واقع پارٹی ہیڈ کوارٹر کے باہر بڑی تعداد میں کارکن ڈھول تاشوں کے ساتھ جشن مناتے دیکھے گئے۔ کچھ لوگ قبائلی لباس میں ناچ گا کر جشن منا رہے تھے تو کچھ بھولے شنکر اور ہنومان جی کے بھیس میں آئے تھے۔ اتر پردیش کے امیٹھی سے لوک سبھا رکن مسٹر گاندھی ملک کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پرانی سیاسی پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے والے نہرو گاندھی خاندان کے چھٹے رکن ہیں۔ وہ 2013 سے کانگریس کے نائب صدر تھے۔پارٹی صدر کے عہدہ کے لئے ہوئے انتخابات میں مسٹر گاندھی نے 04 دسمبر کو کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے۔ نامزدگی کاغذات کے کل 89 فارم جمع کرائے گئے تھے اور ان کے لئے 890 تجویز کنندگان تھے۔ تمام فارم مسٹر گاندھی کے نام کے بھرے گئے تھے۔ مسٹر رامچندرن نے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 11 دسمبر کو مسٹر گاندھی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہونے کا با ضابطہ اعلان کیا تھا۔

موجودہ سیاسی ماحول میں راہل گاندھی کی قیادت کی ضرورت: منموہن سنگھ:  سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ موجودہ سیاسی منظرنامہ میں کانگریس کو مسٹر راہل گاندھی کی قیادت کی ضرورت ہے اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں پارٹی نئی بلندیاں اور نئی عظمت حاصل کرے گی۔ ڈاکٹر سنگھ نے یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر پر راہل گاندھی کو صدارت کی باگ ڈور دینے کے لئے منعقد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا موجودہ سیاسی منظر نامہ جس طرح کے چیلنجز سے دوچار ہے اس کے مدنظر کانگریس کو مسٹر گاندھی کی قیادت کی ضرورت تھی۔ وہ جوش کے ساتھ پارٹی کو آگے بڑھانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے پوری امید ہے کہ ان کی قیادت میں پارٹی نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔کانگریس کی رخصت پذیر صدر سونیا گاندھی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے اتحاد اور مضبوطی کے لئے انہوں نے مسلسل کام کیا ہے اور گذشتہ بیس سال سے کانگریس ان کی قیادت میں مسلسل مضبوط ہورہی ہے۔ اس دوران انہیں محترمہ گاندھی کی مسلسل رہنمائی حاصل رہی اور ان کی حوصلہ افزائی سے وزیر اعظم کے طورپر انہوں نے منریگا جیسی اہم اسکیمیں شروع کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ملک کے کونے کونے کا دورہ کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ کانگریس ان کی قیادت میں ملک کے عوام کی امیدوں پر کھرا اترے گی۔

کانگریس کا نیا جوش موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل: سونیا گاندھی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج کہا کہ ملک کے سامنے موجودہ وقت میں اتنے بڑے بڑے چیلنجز ہیں جواس سے پہلے کبھی نہیں رہے اور انہیں امید ہے کہ پارٹی کی نئی قیادت اور نیا جوش ان چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل ہے۔ نو منتخب کانگریس صدر راہل گاندھی کو پارٹی کی کمان سونپنے کے لئے یہاں منعقد تقریب میں مسز گاندھی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی قربانیوں کو بامعنی بنانے کے لئے 20 سال پہلے جب انہوں نے کانگریس کی باگ ڈور سنبھالی تھی اس وقت بھی پارٹی کے سامنے کئی بڑے چیلنجز تھے، لیکن آج ملک ان سے بھی بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ مسٹر گاندھی کے جوش کو سمجھتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں مسٹر گاندھی پر ہوئے ذاتی حملوں نے انہیں اور مضبوط اور نڈر بنایا ہے اور انہیں پورا بھروسہ ہے کہ وہ ان چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں گے۔ مسز گاندھی نے کہا کہ وہ کانگریس کارکنوں کے جوش کو بھی جانتی ہیں اور جو بے مثال ہے۔ وہ ملک کے لئے جدوجہد کرنے کو تیار ہیں۔ وہ جھکیں گے نہیں، پیچھے ہٹیں گے نہیں کیونکہ کانگریس کا مقصد ملک اور اس کے اقدار کی حفاظت کرنا ہے۔ مسز گاندھی نے کہا کہ آج ملک کے بنیادی اصول و اقدار پر باقاعدہ حملے ہو رہے ہیں۔ ہمارے ثقافتی ورثہ اور ثقافت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماحول میں کانگریس کو اپنے دل میں جھانک کر کام کرنا ہو گا اور پارٹی کارکنوں کو ایک اخلاقی جنگ جیتنے کے لئے قربانی اور تیاگ کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کو راہل کے صبر و تحمل پر یقین ہے اور وہ پارٹی کواپنی قابلیت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔

مسز گاندھی نے کہا کہ ان کے شوہر اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد وہ اپنے خاندان کو سیاست سے دور رکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن، ملک کے سامنے جو چیلنجز پیدا ہو گئے تھے وہ مسز اندرا گاندھی اور مسٹر راجیو گاندھی کے اصولوں کے خلاف تھے۔ ان چیلنجوں سے لڑنے کے لئے وہ سیاست میں آئیں اور پارٹی صدر کا عہدہ سنبھالا۔ کانگریس کارکنان کی مدد سے پارٹی کو مضبوط کیا اور کئی ریاستوں میں اس کی حکومت بنی۔ مسز گاندھی نے کہا کہ کانگریس قیادت والی متحدہ ترقی پسند حکومت نے ملک کے تمام طبقات کو آگے بڑھانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں منریگا جیسی کئی اہم اسکیمیں شروع کیں اور انتہائی متاثر کن قانون بنائے جس پر انہیں فخر ہے۔

باہمی اخوت اور بھائی چارہ بڑھانے کے لئے کانگریس کے ساتھ آئیں ملک کے نوجوان: راہل:کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) اور وزیر اعظم نریندرمودی پر لوگوں کے مابین منافرت پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے آج نوجوانوں سے ملک میں اخوت اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کانگریس کے ساتھ آنے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر گاندھی نے یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پروگرام میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد صدر کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں پارٹی میں سینئر اور نوجوان لیڈروں کے مابین تال میل قائم کرکے آگے بڑھنے کا عزم کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ،’’میں کانگریس کو گرینڈ اولڈ اور گرینڈ ینگ پارٹی بنانے جا رہا ہوں ۔‘‘ بی جے پی اور مسٹر مودی پر راست حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو بانٹتے ہیں اور تشدد پھیلاتے ہیں اور غصہ کی سیاست کرتے ہیں جبکہ کانگریس پیارومحبت ،بھائی چارہ اور لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے ۔ انھوں نے ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس کام کے لئے کانگریس کے ساتھ آئیں ۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کانگریس سے پاک ہندستان بنانا چاہتی ہے جبکہ ہم سبھی کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ۔ کانگریس ملک کو 21ویں صدی میں لے جانا چاہتی ہے جبکہ وزیراعظم اسے پیچھے لے جانا چاہتےہیں ۔ مسٹر گاندھی نے اپنی تقریر انگریزی میں شروع کی اور درمیان میں کچھ دیر ہندی میں بھی خطاب کیا۔ مسٹر مودی کونشانہ بناتےہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ صرف ایک شخص کی ذاتی شبیہ کو چمکانے اور تعریفوں کے پل باندھنے کے لئے باقی لوگوں کی مہارت ،تجربوں اور علمی صلاحیت کو نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ ایک شخص کو مضبوط کرنے کے لئے خارجہ پالیسی کو تباہ کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو قدیم زمانے میں لے جا رہے ہیں جب خاص شناخت ،کھان پان اور عقیدے کی وجہ سے لوگوں کو قتل کردیا جاتاتھا۔ ایسے بھیانک تشدد سے دنیا میں ہماری شبیہ انتہائی خراب ہوئی ہے ۔ ہندستان کی تاریخ پیارومحبت اور رحم دلی کی رہی ہے لیکن اس طرح کی خوفناک وارداتوں سے ملک کا تانابانا تارتارہوگیا ہے ۔ اس سے ملک کو جونقصان ہورہا ہے اس کی تلافی مشکل ہے ۔اس مخصوص نظریہ میں لوگوں کو اختلاف کرنے کا حق نہیں ہے ۔لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کانگریس سے پاک ہندستان بنانا چاہتی ہے جبکہ ہم سبھی کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ۔بی جےپی پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیاست عوام کی بھلانی کے لئے ہونی چاہئے لیکن آج اس کا استعمال لوگوں کا معیارزندگی بہتربنانے کے بجائے انھیں کچلنے کے لئے کیا جارہا ہے ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ 13سال قبل وہ عام ہندستانیوں کی طرح ایک آدرش وادی کی طرح سیاست میں آئے لیکن آج کی سیاست دیکھ کر ہم میں سے کئی لوگوں کو مایوسی ہورہی ہے کیونکہ اس میں رحم دلی اور سچائی نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پیچھے لے جانے والی طاقتیں اس لئے نہیں جیت رہی ہیں کیونکہ وہ صحیح ہیں بلکہ وہ تخریبی کارروائی اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرنے کی وجہ سے جیت رہی ہیں اور جہاں بھی ہاتھ لگا رہی ہیں اسے داغدار بنا رہی ہیں ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ آج بی جے پی کے لوگ پورے ملک میں تشدد پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اسے روکنے والی صرف ایک ہی طاقت ہے اور وہ ہے کانگریس ۔ بی جے پی اور کانگریس میں فرق بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ،’’ وہ آگ لگاتے ہیں ۔ہم بجھاتےہیں ،وہ توڑتے ہیں ،ہم جوڑتے ہیں ۔ وہ غصہ کرتے ہیں،ہم پیار کرتے ہیں ۔ وہ بدنام کرتےہیں ہم عزت واحترام کے ساتھ اپنا دفاع کرتےہیں ۔ ہم نفرت کے عوض نفرت نہیں کرتے۔ ہم نفرت اور غصہ کی انکی سیاست سے پیار سے لڑیں گے اور انھیں ہرائیں گے ۔‘‘

مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے پاس خوف پیدا کرکے اور لوگوں کی آواز دبا کر اقتدارکو کنٹرول کرنے کی مشینری ہوسکتی ہے لیکن ہمارے پاس عوام کی طاقت ہے ۔کانگریس کا اپنا ایک نظریہ ہے اور وہ دوسروں کے لئے لڑتی ہے جبکہ بی جے پی کا نظریہ خود کے لئے ہے ۔ کانگریس انکے لئے لڑتی ہے جو تنہا نہیں لڑ سکتے۔ اس طبقہ کا تحفظ کرنا آزادی کی لڑائی کا بنیادی جذبہ تھا اور یہی خون آج بھی کانگریس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے چیلنجوں کا سامنا ہمیشہ پیار و محبت سے کیا ہے اور آگے بھی کریگی۔

عہدہ صدارت سنبھالتے ہی راہل کی پارٹی میں اتحاد کی کوششیں تیز ، کانگریسی لیڈروں کو عشائیہ کی دعوت:کانگریس صدر راہل گاندھی نے پارٹی صدرکا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی پارٹی میں یکجہتی کی کوششوں کو اور مضبوط بنانے کے تحت اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کو آج رات کے کھانے کے لئے مدعو کیا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ کانگریس کے لئے انتہائی مشکل مانے جانے والے گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات کے فورا ًبعد پارٹی کی کمان سنبھالنے والے مسٹر گاندھی کی جانب سے اپنے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کو خصوصی ڈنر کے لئے مدعو کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کو متحد رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔اگرچہ مسٹر گاندھی کے ہاتھوں کانگریس کی باگ ڈور کے آنے سے پارٹی میں نوجوان لیڈروں کے قد بڑھنے کا امکان ہے۔ لیکن تمام عمر کے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کو کھانے کے لئے مدعو کرکے شاید وہ یہ اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ ان کی نظر میں پارٹی کے تمام لیڈر اور کارکن، چاہے وہ نوجوان ہوں یا پھر عمردراز، یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ہفتہ کو مسٹر گاندھی نے یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا بھی تھا کہ وہ ملک کی اس سب سے پرانی پارٹی کو نوجوانوں اور بزرگوں کے تعاون سے چلائیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/MFPdT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے