Breaking News
Home / اہم ترین / راہل گاندھی کا مودی حکومت پر تیکھا حملہ، مہنگائی کے مسئلے پروزیر اعظم کو لیاآڑے ہاتھوں

راہل گاندھی کا مودی حکومت پر تیکھا حملہ، مہنگائی کے مسئلے پروزیر اعظم کو لیاآڑے ہاتھوں

نئی دہلی، 28؍جولائی( ہرپل نیوز/ایجنسی) : ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے معاملے پر آج لوک سبھا میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے حکومت پر تیکھا حملہ کیا۔ انہوں نے لوک سبھا میں کہا کہ آپ اسٹاراپ انڈیا اور میک ان انڈیا پر جھوٹے وعدے کر سکتے ہیں ، لیکن مہنگائی پر نہیں۔ یہ مسئلہ عوام سے وابستہ بڑا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کے بارے میں جھوٹے وعدے نہیں کئے جا سکتے ہیں۔کانگریس کے نائب صدر راہل نے پی ایم مودی کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جو وعدہ انہوں نے کیا تھا، وہ بھول گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مجھے پی ایم مت بنائیں، ایک چوکیدار بنائیں۔ آج اسی چوکیدار کی ناک کے نیچے دال کی چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ وزیر اعظم بن گئے ہیں، بڑے آدمی بن گئے ہیں، آپ کیوں چوكیداري کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ مودی جی کھوکھلے وعدے کرنے ہیں ، کیجئے ، مگر اس ہاؤس کو تاریخ بتا دیجئے جب مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ این ڈی اے کے دو سال پورے ہونے پر راہل نے کہا کہ اس دوران بڑے بڑے ستارے آئے، پروگرام ہوا ، لیکن مہنگائی پر بات نہیں ہوئی۔ پورے جشن میں مہنگائی پر ایک لفظ سنائی نہیں دیا۔ راہل نے اشیا کی قیمتیں بتاتے ہوئے کہا کہ دال 200 روپے کلو ہو چکی ہے۔ ٹماٹر 2014 میں 18 روپے تھا، آج 300 فیصد دام بڑھ گیا ہے۔ آلو 2014 میں 23 روپے کا تھا ، آج 28 روپے کا ہو چکا ہے۔ اڑد کی دال 70 روپے کی تھی، آج 160 روپے کی ہو چکی ہے۔ تورکی دال کچھ ہی مہینے پہلے 230 روپے کی ہو گئی تھی، وہ 75 روپے کی ہوا کرتی تھی۔ آج 180 روپے ہے۔راہل نے کہا کہ میں صرف دام کی بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ میں دال میں جو چوری ہو رہی ہے، اس کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ یو پی اے کے وقت کسان کو ایم ایس پی اور مارکیٹ ریٹ میں 30 روپے کا فرق ہوتا تھا۔ این ڈی اے کے وقت میں ایم ایس پی 50 روپے کی ہے، لیکن وہی کسان مارکیٹ میں اپنی دال کو 180 روپے میں خریدتا ہے۔ مطلب 50 روپے میں وہ فروخت کرتا ہے اور مارکیٹ سے 180 روپے میں خریدتا ہے۔ مودی جی آپ سمجھائیے کہ یہ 100 روپے جو جا رہے ہیں، وہ کس کے ہاتھ میں جا رہے ہیں؟۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/lHnOd

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے