Breaking News
Home / مضامین / راہ حجاز کو مسافر کی تلاش از:حسن ندوی مدنی

راہ حجاز کو مسافر کی تلاش از:حسن ندوی مدنی

راز حرم سے اقبال شاید باخبر ہے ہیں  اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ

موجودہ سعودی حکومت اس وقت عالمی بحران سے دو چار ہورہی اور یمن کے ساتھ جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کی اقتصادی شرح میں حد درجہ کمی آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ملک کو امریکہ سے قرض لیکر ان مسائل سے چھٹکا را پانے کی کوشش کرنے پڑ رہی ہے ،تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کاجو سب سے بڑا ذریعہء آمد ہے وہ ہے پیٹرول لیکن مجبور ہوکر اسے اس میں بھی آدھے سے زائد حصہ امریکن کمپنیوں جیسے آرامکو وغیرہ کو اور امریکی انتظامیہ کو ایک معاہدہ کے تحت بھرنا پڑتا ہے یہ وہ معاہدہ ہے جس کو شاہ فیصل نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا تو امریکی حکمرانوں نے انہیں موت کی گھاٹ اتر وادیا تھا اور مجبور ہوکر شاہ فہد بن آل سعود کو اس معاہدہ پر دستخط کرنی پڑ ی تھی آج اسی کی بھگتان نے سعودی کو اس موڑ پہ لا چھوڑا ہے کہ اب دوسروں کا قرضدار ہوگیا ہے اور حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ اسلامی اور خاص طور سے عرب ممالک کو ڈوبانے اور الجھانے اور انہیں نیست و نابو د کرنے کی سازشیں آج سے چار سال پہلے سے شروع ہوچکے تھیں جن میں یکے بعد دیگرے تونس اور لیبیا اور مصر اور پھر اب شام اور یمن و عمان پھنستے چلے آئے یہ باضابطہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی کہ ان ممالک میں آپسی انتشار وخلش اور بغض عداوت کی آگ بھڑ کا کر مسلمانوں کا لہو سر عام بہا یا جائے اور انقلابی رنگ دیکر اسکی تائید کی جائے، یہ سب وہ شاطرانہ چال بازیاں اور مکرو فریب ہیں جو آہستہ آہستہ گریٹر اسرائیل کی بنیا دیں مضبوط کر رہی ہیں تانکہ اسرائیل اپنے وجود کے دائرے سے باہر نکل کر دنیا میں عظمت اور شان وشوکت والا ملک بن جائے،خیر ان میں صف اول میں حجاز مقدسہ بلکہ سعودی عرب نمایاں مقام کا حامل ہے چونکہ اسلا م اور اہل اسلا م کا مر جع ومنشا اور منبع ہی یہی ہے ، دشمنان اسلام کی مستقل نظریں اس وقت سعودی عرب و اطراف پر ٹکی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انکے مقاصد در آمد ہونے پر کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آئے پھر بھی سعودی حکومت ہمت و دانشوری سے کام لے رہی ہے لیکن جب تک اسلامی ممالک ایک پلیٹ فورم پر جمع نہیں ہونگے تب تک یہ مسائل پیش آتے رہینگے اب وہ یاں تو جنگی شکل میں آئیں یا پھر اقتصادی شرح میں کمی کی شکل میں آئیں یا ں پھر آپسی اور اندرونی مشاجرت و مخالفت کی شکل میں آئیں ، اور معلوم ہونا چاہئے کہ یہ مسئلہ صرف سعودی عرب یا عالم عرب کا نہیں بلکہ ملت اسلا میہ کا ہے اور یقیناًعرب کا نقصان پوری ملت کا نقصان ہے شاید اسی لئے حکومت ترکی اوربعض دیگر غیور اسلامی حکومتیں ایک قدم پر مملکت حبیبہ کے لئے کھڑی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ تمام ممالک حکومت سعودیہ کا ساتھ دیں انکی مدد کریں اور انہیں اس بحران سے نکالنے میں انکی مددواعانت کریں اور عالمی عدالت یا اقوام متحدہ میں جو عالم عرب یا عالم اسلام کی ملحقہ تنظیمیں سرگرم ہیں انکی توجہ اس جانب مبذول کرائیں اور عرب و اسلا م کے موجودہ بڑے رہنماؤں کو اس پہلو سے آگاہ کرایا جائے چونکہ انکی نصرت میں ہی آپکی بقا ہے ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسلامی خلافت کی طرح اسلامی حکومتیں بھی ایک متعین و محدود دائرے میں سمٹ کر رہ جائینگی اور اسلامی ریاستوں کے نشانات یہاں تک کہ مستقبل کے امکانات بھی ختم ہو جائینگے اور جیسے آج اندلس کی زہرا یا مسجد قرطبہ یا بیت المقدس یا دیگر اسلامی تابندہ نقوش اپنے اسلاف کی میراث کو یاد کرتے ہیں اور انکی در ودیوار آج ملت اسلامیہ سے اشکوں سے فریاد کر تی ہیں اور اپنی تاریخ کے سنہرے دور کو یاد کر انہیں بھلائی نہیں بھول پاتیں کہیں وہ دور وہ زمانہ اور وہ وقت دیگر ممالک پہ بھی نہ آجا ئے اور وہ مکاں سے لا مکاں ہوجائیں اور اس شعر کے مصداق ہوجائیں کہ :
اٹھائے کچھ ورق لالہ نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
اپنی داستاں کو اپنی حفاظت و معیت میں آپ رکھیں اور اپنی تہذیب و ثقافت سے خود کو اور اپنی قوم کو آشکار ا کریں اور اسلامی مملکت اور اسلامی دائرہ حکومت کو اپنے ہاتھوں سے نہ جانے دیں اور وقت کو فرصت جانتے ہوئے حق کا پیغام عام کریں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/vYlGk

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے