Breaking News
Home / اہم ترین / رجب طیب نے مزید تنگ کیا مخالفین کا دائرہ ۔ حکومت مخالف ’’روزنامہ جمہوریت‘‘ پرپابندی۔ پابندی کے خلاف مظاہرین کا احتجاج ۔ سیکورٹی فورسسیزنے برسائےآنسو گیس کے شیل۔

رجب طیب نے مزید تنگ کیا مخالفین کا دائرہ ۔ حکومت مخالف ’’روزنامہ جمہوریت‘‘ پرپابندی۔ پابندی کے خلاف مظاہرین کا احتجاج ۔ سیکورٹی فورسسیزنے برسائےآنسو گیس کے شیل۔

انقرہ7؍نومبر(ہرپل نیوز ؍ایجنسی)ترکی میں آزادی صحافت کی خاطر نکالی جانے والی ایک ریلی میں شامل مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے شیل برسائے ہیں جبکہ ساتھ ہی تیز دھار پانی کا استعمال بھی کیا ہے۔ترک شہر استنبول میں تقریباََ ایک ہزارافرادنے آزادی صحافت کے لیے منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں کیاگیاجب ترک حکام نے روزنامہ جمہوریت کے نو اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ طور پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ان پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ترک صدر کے سیاسی مخالف فتح اللہ گولن کے حامی ہیں، جو ترک حکومت کے مطابق جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ہفتے کے دن جب ان مظاہرین نے روزنامہ جمہوریت کے دفتر کے قریب جانے کی کوشش کی تو سکیورٹی فورسز نے طاقت کااستعمال کیا۔ خبر رساں اداروں نے بتایاہے کہ سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے شیل برسائے اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا تا کہ مظاہرین کو منشتر یا جا سکے۔کئی ناقدین نے کہا ہے کہ ترک حکومت ناکام فوجی بغاوت کے بعد نہ صرف فتح اللہ گولن کے مبینہ حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ کرد نواز سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی HDPکے خلاف بھی کارروائی شروع کیے ہوئے ہے۔ حکومت ان کارروائیوں کو انسداد دہشت گردی کا عمل قرار دیتی ہے۔ترک استغاثہ کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے اسٹاف پر شک ہے کہ وہ نہ صرف امریکا میں مقیم گولن کی حمایت کر رہا ہے بلکہ وہ کرد جنگجوؤں سے بھی ہمدردی رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت ترکی میں صرف ایک اخبار ہی رہ گیا ہے، جو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے۔ترک میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف انقرہ حکومت کے اس کریک ڈاؤن پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ترک صدر کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن دراصل ملک دشمن عناصر کے خلاف کیا جا رہا ہے، جن سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ترکی میں اس حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں جولائی سے اب تک تقریباً 170 میڈیا ادارے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ سو سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اس کارروائی میں جج، اساتذہ، پولیس اہلکار، سرکاری افسران، فوجی اہلکار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار یا ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن حکومت پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے اور اپوزیشن کو دبانے کے لیے اقدامات بھی کر رہے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/8TsCZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے