Breaking News
Home / تازہ ترین / رشتہ داروں سے قطع تعلق –ایک سماجی قہر- مقبول احمد سلفی

رشتہ داروں سے قطع تعلق –ایک سماجی قہر- مقبول احمد سلفی

یہ ایک اہم مسئلہ ہے ، لوگ آئے دن پوچھتے ہیں کہ میرے فلاں رشتے دار نے مجھ پہ زیادتی  کی ہے یا فلاں رشتہ دار کی طرف سے مجھے تکلیف پہنچ رہی وہ مجھ سے علیک سلیک بند کرچکے ہیں  بلکہ رشتہ بھی توڑچکے ہیں ۔صورت حال ایسی ہوکہ  رشتہ نبھانا مشکل ہو یعنی ایک طرف سے بیحد زیادتی ہے اس سے اپنی رشتہ داری کیسے نبھائی جاسکتی ہے یا یہاں ہمیں کیا کرنا چاہئے  ؟

یہ ایسے مسائل ہیں جن سے اکثر لوگ جوجھ رہے ہیں ، دراصل یہی مسائل گھروں کی تباہی ، گھریلوتنازعات، رشتے کے خون ، صلہ رحمی کےخاتمہ  اور فردوجماعت کی بربادی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔

میں اپنی ناقص نظر سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ ایسے مسائل میں اکثر یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ زیادتی ہوتی ہے جو عام طور سے مشاہدے میں ہے اور منطق بھی یہی کہتی ہے کہ اگر ایک طرف سے ظلم وزیادتی ہو تو معاملہ شدت نہیں پکڑے گااور تنازع کی صورت نہیں اختیار کرے گا۔ اس کی مثال میں یہ واقعہ پیش کرنا سبق آموزہوگا۔

ساس وبہو کی نوک جھونک  کسے معلوم نہیں ۔ایک ساس ہمیشہ اپنی بہوکو کڑوی کسیلی کہا کرتی ، بہوروز ساس کی گالی اور طعنے سنا کرتی ۔ بہوایک دن مولوی صاحب کے پاس گئی اور کہی کہ ایسا کوئی تعویذ لکھ دیں جس سے ساس مجھے گالی نہ دے ۔ مولوی صاحب نے ایک تعویذ لکھ دیا اور کہا کہ جب ساس گالی دینے لگ جائے اس وقت یہ تعویذ منہ ڈال لینا اور کس کے منہ بند کرلینا ،خیال رہے منہ کھلنے نہ پائے ۔ بہو تعویذ لیکر گھر آگئی ۔ اب ہمیشہ کا معمول یہ تھا کہ ساس جب بھی گالی دینے لگ جاتی بہو منہ میں تعویذ لیکر منہ کو کس کے بند کرلیتی ۔ ایک دن ہوا، دو دن ہوا، روز بروز ساس کی گالیاں کم ہوتی گئیں ۔ یہاں تک کچھ دنوں کے بعد گالی نہ کے برابر تھی اور دھیرے دھیرے وہ گالی بھی ختم ہوگئی اور ساس وبہو میں الفت ومحبت پیدا ہوگئی ۔

کہیں میرے اس واقعہ سے یہ نہ سمجھ لیں کہ تعویذ نے اپنا کوئی اثر دکھایا /یا تعویذ استعمال کرنا  جائزہے ۔ نہیں یہاں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کوکوئی گالی دے اور آپ اپنا منہ بند رکھیں یعنی گالی کا جواب نہ دیں  تو معاملہ آگے نہیں بڑھے گا ، وہیں ختم ہوجائے گا۔

گالی گلوج دینا ، ظلم کرنا، کینہ کپٹ رکھنا، بغض وحسد کرنا، غرور وتمکنت کرنا، کسی کو حقارت سے دیکھنا، امیری پر اترانا، عہدہ ومنصب کا بڑکپن ظاہرکرنا، رشتہ داروں کو غریبی ، بیماری،یتیمی ، کم مائگی اور بے سروسامانی کی وجہ سے حقیر سمجھنا – یہ سب سماجی وبائیں ہیں  جو قہربن کر ہمارے سماج وسوسائٹی کے صالح عناصر کا خاتمہ کردیتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اسلام ان تمام باتوں سے روکتا ہے جن سے سماجی بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور مثالی معاشرہ کے لئے رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہمیں اگر پاکیزہ اسلامی معاشرہ چاہئے تو وہاں سے مذکورہ وباؤں کو ختم کرنا ہوگا اور ان کی جگہ الفت ومحبت ، اخوت ومروت ، حسن ظن وحسن تعامل ، بلندکردارو پاکیزہ خیالات، صلہ رحمی و کنبہ پروری  ، اکرام واحترام ،نرمی وبردباری،احسان وسلوک ،انفاق وارمغان کو اپنانا،اوامرکی بجاآوری  کرنااور منہیات کا سد باب کرنا ہوگا۔

سماج میں صرف دوطرفہ ہی زیادتی نہیں ہے بلکہ بہت سی  یک طرفہ زیادتیاں بھی ہیں۔ ساس وبہو کے مسائل ، بھائی وبہن کے مسائل ،والدین کے مسائل ،زوجین کے مسائل ،  اولاد کے مسائل ، سسرالی مسائل ، گھریلومسائل ، رشتہ داروں کے مسائل ۔ ان مسائل میں بعض دفعہ ایک کی طرف سے دوسرے کے اوپر بہت زیادہ ظلم ہوتا ہے ، بلاکسی سبب کے زیادتی کی جاتی ہے ، دوسری طرف سے مکمل سکوت ہے ، کوئی جوابی کاروائی نہیں پھر بھی ایک طرف سے ستم بالائےستم ہوتے جارہاہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کوئی کتنا صبر کرے، صبر کی کیا انتہا ہے ؟ یا کیا ایسی صورت میں کسی رشتہ دار سے قطع تعلق کیا جاسکتا ہے ؟

میرا جواب یہ ہے کہ صورت حال کچھ بھی ہو اسلام نے اپنے رشتہ داروں سے کبھی بھی قطع تعلق کا حکم نہیں دیا ہے ۔ ہمارے رشتے دار ایک جسم کے مختلف اعضاء کی حیثیت سے ہیں ۔ اگر یہ الگ الگ ہوگئے تو جسم باقی نہیں بچے گا ٹکرا ٹکرا ہوجائے گا۔

آئیے ایک نظر رشتے داری سے متعلق اسلامی احکام دیکھتے ہیں ۔

اولا: اسلام نے ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیایعنی رشتہ داروں سے رشتہ قائم کئے رکھیں ۔

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

ومن كان يؤمن بًالله واليوم الآخر فليصل رحمه (صحيح البخاري:6138)

ترجمہ: جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہئے ۔

ثانیا: صلہ رحمی کی ترغیب کے ساتھ اجر کا وعدہ کیاگیا کیونکہ کبھی کبھار آدمی نفس کی پیروی میں آکر اپنے رشتہ داروں سے مقاطعہ کرلیتا ہے، ایسے لوگوں کو صبر اور ایذاء برداشت کرنے کا اجر نیکی کی طرف راغب کرے گا۔ اس سے متعلق بہت ساری احادیث ہیں چند ایک آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔

(1) نبی ﷺ نے فرمایا:

أَحَبُّ الأعمالِ إلى اللهِ إيمانٌ بالله ، ثم صِلَةُ الرَّحِمِ ، ثم الأمرُ بالمعروفِ و النَّهيُ عن المنكرِ . (صحيح الجامع:166)

ترجمہ: اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اس پر ایمان لانا، پھرصلہ رحمی کرنا، پھر بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من سَرَّهُ أن يُبسطَ له في رزقِه ، أو يُنسأَ له في أَثَرِهِ ، فليَصِلْ رحِمَه( صحيح البخاري:2067)

ترجمہ: جو شخص اپنے رزق میں وسعت اور عمر میں اضافہ پسند کرے وہ صلہ رحمی کرے ۔

(3)ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :

أن رجلًا قال للنبيِّ صلى الله عليه وسلم : أَخْبِرْني بعملٍ يُدْخِلُني الجنةَ . قال : ما له ؟ ما له ؟ وقال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : أَرَبٌ ما له ! تَعْبُدُ اللهَ ولا تُشْرِكْ به شيئًا ، وتُقِيمُ الصلاةَ ، وتُؤْتِي الزكاةَ ، وتَصِلُ الرَّحَمَ .(صحيح البخاري:1396)

ترجمہ:ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا ، آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے۔ ( سنو ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰة دو اور صلہ رحمی کرو۔

ثالثا: دوسری طرف جو لوگ صلہ رحمی نہیں کرتے ، رشتہ داریاں توڑتے ہیں انہیں ڈرایاگیا، سزائیں سنائی گئیں تاکہ دل میں خوف پیدا ہواور قطع تعلق سے رک جائے ۔

(1)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وأبغضُ الأعمالِ إلى اللهِ الإشراكُ باللهِ ثم قطيعةُ الرَّحِمِ( صحيح الجامع:166)

ترجمہ: اوراللہ کے نزدیک سب سے بُرا عمل رب کائنات کے ساتھ شرک کرنا، پھر رشتہ داری توڑنا ہے۔

(2)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ما من ذنبٌ أجدرُ أن يُعجِّلَ اللهُ لصاحبِه العقوبةَ في الدنيا مع ما يدَّخِرُ له في الآخرةِ من البغيِ وقطيعةِ الرحمِ(صحيح ابن ماجه:3413)

ترجمہ: کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اس کا کرنے والا دنیا میں ہی اس کا زیادہ سزا وار ہو اور آخرت میں بھی یہ سزا اسے ملے گی سوائے ظلم اور رشتہ توڑنے کے۔

(3)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إنَّ أعمالَ بَني آدمَ تُعْرَضُ كلَّ خميسٍ ليلةَ الجمعةِ ، فلا يُقْبَلُ عملُ قاطعِ رحمٍ(صحيح الترغيب:2538)

ترجمہ: اولاد آدم کے اعمال جمعرات کی شام اور جمعہ کو اللہ تعالیٰ کو پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رشتہ توڑنے والے شخص کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔

(4)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لا يدخلُ الجنةَ قاطعُ رحمٍ(صحيح مسلم:2556)

ترجمہ: جنت میں رشتہ توڑنے اور کاٹنے والا نہ جائے گا۔

رابعا: بشر ہونے کے ناطے انسان جذبات میں آسکتا ہے ، غصہ کے عالم میں کسی  سے رشتہ توڑ سکتا ہے ۔ اگر ایسا کبھی ہوجائے تو ایک مومن کو دوسرے مومن سے خواہ رشتہ دار ہوں یا عام مسلمان تین دن سے زیادہ قطع کلام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ قطع کلام اور قطع تعلق میں بہت فرق ہے ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی سے تین دن تک قطع کلام کرسکتے ہیں مگر قطع تعلق کبھی نہیں کرسکتے ۔

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا يحلُّ لمسلمٍ أن يَهْجرَ أخاهُ فوقَ ثلاثِ ليالٍ ، يلتقيانِ فيُعرِضُ هذا ويُعرِضُ هذا ، وخيرُهُما الَّذي يبدأُ بالسَّلامِ(صحيح مسلم:2560)

ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زیادہ چھوڑے رکھے وہ دونوں ملیں تو یہ اس طرف منہ پھیر لے اور وہ (اس طرف) منہ پھیر لے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔

خامسا: رشتہ توڑنا موجب جہنم ہے ،لہذا کوئی کسی سے رشتہ نہ توڑے ،یہی وجہ ہے کہ دولوگوں میں قطع تعلق ہو تود وسرے مسلمان ان دونوں بھائیوں کو آپس میں ملانے کی غرض سے جھوٹ بول سکتے ہیں ۔

سیدہ ام کلثو بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں : میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی کہیں اجازت دی ہو مگر تین مواقع پر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:

لا أعدُّه كاذبًا الرجلُ يصلحُ بين الناسِ يقولُ القولَ ولا يريدُ به إلا الإصلاحَ ، والرجلُ يقولُ في الحربِ ، والرجلُ يحدثُ امرأتَه ، والمرأةُ تحدثُ زوجَها.(صحيح أبي داود:4921)

ترجمہ: میں ایسے آدمی کو جھوٹا شمار نہیں کرتا جو لوگوں میں صلح کرانے کی غرض سے کوئی بات بناتا ہو اور اس کا مقصد سوائے صلح اور اصلاح کے کچھ نہ ہو ، اور جو شخص لڑائی میں کوئی بات بنائے اور شوہر جو اپنی بیوی سے یا بیوی اپنے شوہر کے سامنے کوئی بات بنائے ۔

سادسا: آخری مرحلے میں یہ آتا ہے کہ آدمی دوسری طرف سے تکلیف جھیلتا ہے اور اس تکلیف پر صبر کرتا اور خاموشی اختیار کرتا ہے دراصل ایک مومن سے یہی مطلوب ہے جو صبر کا دامن چھوڑدیتے ہیں اور قطع تعلق کا راستہ اپناتےہیں وہ غلط کرتے ہیں انہیں نبی کریم ﷺ کی اس حدیث پر عمل کرنا چاہئے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:

أنَّ رجلًا قال : يا رسولَ اللهِ ! إنَّ لي قرابةً . أصِلُهم ويقطَعوني . وأُحسِنُ إليهم ويُسيئون إليَّ . وأحلمُ عنهم ويجهلون عليَّ . فقال ” لئن كنتَ كما قلتَ، فكأنما تُسِفُّهمُ المَلَّ . ولا يزال معك من اللهِ ظهيرٌ عليهم ، ما دمتَ على ذلك ” .(صحيح مسلم:2558)

ترجمہ: میرے رشتہ دار ہیں لیکن ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ لوگ قطع رحمی سے کام لیتے ہیں، میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں، میں بردباری کا معاملہ کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ زیادتی کا معاملہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:اگر تم ایسے ہی ہو جیسا کہا، تو گویا ان پر قوموں کا افسوس ہے، جب تک تم اپنی اسی حالت پر رہوگے اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی۔

آخر میں خلاصہ کے طور پر یہ کہنا چاہتاہوں کہ جہاں ایک ساتھ کئی افراد رہتے ہیں وہاں آوازپیدا ہونا فطری امر ہے ۔ کسی بات پر اختلاف ہوجائے گا، کسی بات  سے رنجش ہوسکتی ہے ، کبھی یونہی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ، کبھی کسی کے بہکاوے کے شکار ہوسکتے ہیں ۔ ہمارے لئے یہ مناسب ہے کہ جہاں زیادتی ہوجائے وہاں کسی ثالث کے ذریعہ معاملہ حل کرلیں ، جہاں غلط فہمی اور بہکاوے کا امکان ہو وہاں بغیر ثبوت کے کوئی بات تسلیم نہ کریں اور اپنے رشتہ دار کے متعلق حسن ظن ہی رکھیں ، اگر جھگڑالرائی کی نوبت آجائے تو آپس میں صلح وصفائی کرلیں ، حقوق کا معاملہ ہوتو پنچایت کرکے حقوق طلب کریں مگر ہمیں کسی بھی صورت میں کسی بھائی سے قطع تعلق نہیں کرنا ہے خواہ ستم پر ستم کرے ۔ جو صبر کا دامن تھامے گا اور کسی رشتہ دار کی طرف سے ایذاء برداشت کرے گا اللہ اس کے ساتھ ہے اور اس وقت تک اس کے  نامہ اعمال میں اجر لکھتا رہے گاجب تک زیادتی پر صبر کرتا رہے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CaaTZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے