Breaking News
Home / اہم ترین / سابق ممبر پارلیمنٹ سید شہاب الدین کا انتقال۔پیران قبرستان میں سپرد خاک۔ سیاست میں مسلم نمائندگی کے ایک اہم باب کا خاتمہ

سابق ممبر پارلیمنٹ سید شہاب الدین کا انتقال۔پیران قبرستان میں سپرد خاک۔ سیاست میں مسلم نمائندگی کے ایک اہم باب کا خاتمہ

نئی دہلی(ہرپل نیوز ،ایجنسی)4مارچ۔ سابق ممبر پارلیمنٹ‘ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر ریٹائرڈ آئی ایف ایس سید شہاب الدین کا آج یہاں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ان کی نماز جنازہ اور تدفین آج بعد نماز ظہر پنج پیران قبرستان‘ بستی حضرت نظام الدین میں ادا کی گئی۔ مسٹر سید شہاب الدین کی عمر تقریباً82 سال تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ اور چار بیٹیاں ہیں۔ ا ن کے اکلوتے بیٹے کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے۔جھارکھنڈ کے رانچی میں پیدا ہونے والے سید شہاب الدین اپنے زمانے میں انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) کے ٹاپر تھے ، آئی ایف ایس کی حیثیت سے کئی ملکوں میں انہوں نے ہندستانی سفارت خانوں میں خدمات انجام دی تھیں۔ آئی ایف ایس سروس چھوڑ کر وہ سیاست میں آگئے تھے ۔ 1979 سے 1996 تک وہ پارلیمنٹ کے رکن رہے۔ انہوں نے بابری مسجد کی بازیابی کے لئے بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی جس کے وہ سربراہ بھی تھے۔ سید شہاب الدین نے مسلمانوں کی دل آذاری کرنے والی سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ پر ہندستان میں پابندی لگائے جانے کے لئے اہم رول ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ مرحوم سید شہاب الدین نے شاہ بانو کیس میں مسلمانوں کا موقف پیش کرنے میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ طویل عرصہ سے سرگرم سیاست سے دور تھے۔مسٹر سید شہاب الدین کے گھر والوں نے یو این آئی کوبتایا کہ وہ تنفس کے مرض میں مبتلا تھے۔ انہیں گذشتہ18فروری کونوئیڈا کے جے پی اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا تھا ‘ جہاں آج صبح 5بجکر 22منٹ پر انہوں نے آخر ی سانس لی۔ اس وقت ان کی چاروں بیٹیاں اور دیگر اعزہ و اقارب بھی ان کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے 1989 میں انصاف پارٹی تشکیل دی تھی جسے ایک سال کے اندر ہی تحلیل بھی کر دیا تھا۔ وہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے پیروکار کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور ان کی رائے میں حکومت کی ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شراکت داری ہونی چاہئے تھی۔ وہ کئی مسلم اداروں اور تنظیموں سے بھی منسلک رہے ۔ وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے 2004 سے 2007 کے درمیان صدر بھی رہے۔ وہ 1983 سے 2002 کے درمیان اور جولائی 2006 سے ماہانہ جرنل مسلم انڈیا کے ایڈیٹر رہے ۔ وہ تازہ واقعات پر ٹی وی پر ہونے والے مباحثوں میں بھی مسلسل حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے پاکستان سے لے کر سعودی عرب کے کئی اخبارات میں مختلف موضوعات پر کئی مضامین لکھے۔ سید شہاب الدین کی ایک بیٹی پروین امان اللہ، جو سبکدوش آئی اے ایس افسر مسٹر افضل امان اللہ کی بیوی ہیں، فی الحال عام آدمی پارٹی کی بہار کی لیڈر ہیں۔ وہ بہار کی نتیش حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔

سیاست میں مسلم نمائندگی کے ایک اہم باب کا خاتمہ: معروف ملی رہنما سید شہاب الدین کو بستی حضرت نظام الدین کے قریب واقع پنج پیران قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلم سیاست کے ایک باب کا خاتمہ ہوگیا۔ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری سمیت مختلف مسلم مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نیز سماجی مصلح سوامی اگنی ویش سمیت متعدد غیر مسلم افراد بھی موجود تھے۔ ان میں جمیعت علماء ہند کے مولانا محمود مدنی ، مولانا بدرالدین اجمل قاسمی ممبر پارلیمنٹ، جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری، سماجی کارکن کمال فاروقی، آل انڈیا ملی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ڈاکٹر محمد منظور عالم، مولانا ولی رحمانی، جمعیت اہل حدیث کے مولانا شیث تیمی ، مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد، خواجہ محمد شاہد وغیرہ شامل ہیں۔

سید شہاب الدین کی پیدائش 1935 میں جھارکھنڈ کے رانچی میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے زمانے میں بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈ کے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ کیا۔ 1958میں وہ انڈین فارن سروس(آئی ایف ایس) کے لئے منتخب کئے گئے۔ ایک سفارت کار کی حیثیت سے انہوں نے کئی ملکوں میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ان میں سعودی عرب اور امریکہ شامل ہیں۔آئی ایف ایس سروس چھوڑ کر وہ سیاست میں آگئے تھے۔ 1979 سے 1996 تک وہ پارلیمنٹ (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) کے رکن رہے۔ سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے اپنے دور میں انہیں وزارت کی پیش کش کی تھی لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ طویل عرصہ سے سرگرم سیاست سے دور تھے۔ سید شہاب الدین کرپشن کے خاتمے اورقومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے زبردست حامی تھے۔ وہ ایک جہاندیدہ انسان اورمعروف قومی وملی دانشورتھے۔ انہوں نے بھرپور زندگی پائی اور پوری زندگی قوم وملت اور وطن عزیز کی بے لوث خدمت میں لگا دی۔ وہ نہ صرف ایک مفکر تھے بلکہ ایک ایسے سیاست دان تھے جن میں مستقبل کی آہٹ سننے کی صلاحیت تھی اور وہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ تمام کمزور طبقات کی آوازتھے جن کی دور رس نگاہیں آنے والے ہندوستان کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/3DsgC

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے