Breaking News
Home / اہم ترین / سدرامیا نے پیش کیااپنا بارہواں بجٹ۔شہر بنگلور کی ترقی کیلئے نئے منصوبوں کا اعلان۔ بجٹ پر مثبت رد عمل

سدرامیا نے پیش کیااپنا بارہواں بجٹ۔شہر بنگلور کی ترقی کیلئے نئے منصوبوں کا اعلان۔ بجٹ پر مثبت رد عمل

بنگلورو۔15؍مارچ(ہرپل نیوز،ایجنسی)15مارچ:سب توقع وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج ریاستی اسمبلی میں اپنا ریکارڈ بارھواں بجٹ ریاست کے تمام طبقات کو مطمئن کرنے کی کوشش کے ساتھ پیش کیا۔ 1.86لاکھ کروڑ روپیوں کے تخمینہ جات پر مشتمل بجٹ میں وزیر اعلیٰ نے ریاستی عوام کی فلاح وبہبود اور مجموعی طور پر ریاست کی ترقی اور انفرااسٹرکچر میں سدھار کیلئے نئے نئے منصوبوں کااعلان کیا ۔سدرامیا نے ریاست میں نئے 49تعلقہ جات کے قیام کا اعلان کیا۔ جو ریاست کے انتظامیہ کو اور بھی فعال بنانے میں معاون ہوسکتے ہیں۔

تعلیمی میدان میں غیر معمولی پیش رفت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت سے انگریزی تعلیم لازمی قرار دینے کا اعلان کیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے سدرامیا نے اس کیلئے ساتویں پے کمیشن کی تشکیل کا بھی اعلان کیا۔ حالانکہ یہ توقع کی جارہی تھی کہ سدرامیا کوآپریٹیو اداروں سے کسانوں کی طرف سے لئے گئے قرضہ جات معاف کرنے کااعلان کریں گے، اس کے برعکس سدرامیا نے کسانوں کے بلاسود قرضہ جات کی حد میں اضافہ کا اعلان کیا اور ہر کسان تین لاکھ روپیوں تک کا قرضہ بغیر سود کے حاصل کرسکے گا۔

حسب معمول وزیر اعلیٰ نے اپنے محبوب اہندا طبقے کی فلاح وبہبود کی طرف اس بجٹ میں خصوصی توجہ دی ہے، خاص طور پر پہلی بار اقلیتوں کے بجٹ کی رقم کو دوگنا سے زیادہ بڑھادیا ہے۔گزشتہ سال کے بجٹ 1477 کروڑ کے مقابل امسال اقلیتوں کو 2750 کروڑ روپیوں کے بجٹ کا اعلان کیا، جس کے ذریعہ اقلیتی طبقے کی ہمہ جہت ترقی کے ساتھ شہر بنگلور میں ایک عالیشان اردو ہال کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے سدرامیا نے محکمۂ اقلیتی بہبود کے تمام دفاتر کو یکجا کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد بھون کی تعمیر کیلئے 20 کروڑ روپے دینے کااعلان کیا۔اس بھون میں محکمۂ اقلیتی بہبود کے تمام دفاتر کے علاوہ ایک اردو کنونشن ہال ، آڈیٹوریم اور ثقافتی مرکز موجود رہے گا۔

تملناڈو میں آنجہانی جئے للیتا کی طرف سے شروع کی گئی اما کینٹین کے طرز پر سدرامیا نے شہر بنگلور میں بی بی ایم پی کے تمام 198 وارڈوں میں نما کینٹین شروع کرنے کا اعلان کیا، جہاں پر پانچ روپیوں میں ناشتہ اور دس روپیوں میں دوپہر کاکھانا دیا جائے گا۔ بنگلور میں انفرااسٹرکچر کے پراجکٹوں کو اور مستحکم کرنے کے اعلانات کرتے ہوئے سدرامیا نے کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایرپورٹ تک میٹرو خدمات شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس پر 4200 کروڑ روپے بجٹ میں مہیا کرائے گئے ہیں۔ چونکہ مرکزی حکومت کی طرف سے جولائی میں گوڈز اینڈ سرویسس ٹیکس (جی ایس ٹی) لاگو ہونے والا ہے، اسی لئے وزیراعلیٰ نے اپنے اس بجٹ میں زیادہ تر ٹیکس تجاویز پیش نہیں کئے، اور جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد ہی اس پر توجہ دینے کااعلان کیا۔

سنگین خشک سالی سے بدحال کسانوں کی مدد کیلئے وزیراعلیٰ نے جہاں انہیں بلاسود قرضہ دینے کااعلان کیا، تو دوسری طرف خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے بھی انہوں نے خصوصی توجہ دی۔ کسانوں کو مدد دینے کیلئے محکمۂ ٹرانسپورٹ کی طرف سے انہیں رعیت سارتھی اسکیم کے تحت ٹریکٹر ڈرائیونگ کی تربیت مفت دینے کا بھی اعلان کیا۔ اولمپک میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کیلئے پانچ کروڑ روپیوں کا انعام ، معمر افراد کے پنشن میں اضافہ ، منتخب نمائندوں کے اعزازیہ میں اضافہ کے علاوہ وزیراعلیٰ نے اپنے تمام محکموں کی طرف توجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ سدرامیا نے ریاست بھر میں مختلف ہاؤزنگ اسکیموں کے تحت پورے سال کے دوران چھ لاکھ مکانات تعمیر کرانے کا اعلان کیا۔اس میں خاص طور پر شہر بنگلور میں وزیراعلیٰ خصوصی ہاؤزنگ اسکیم کے تحت ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کرائی جائے گی۔ ریاست بھر میں شہری ترقیات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس محکمہ کو 18ہزار کروڑ روپیوں کا بجٹ مختص کیاہے۔

نئی تعلیمی پالیسی : وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کیلئے حکومت نے چند قدم اٹھائے ہیں، پہلی سے آٹھویں جماعت تک زیر تعلیم بچوں کے تعلیمی معیار کی جانچ ، گرمیوں اور دیگر چھٹیوں کے موقع پر بچوں کیلئے ریفریشر کورس ،پہلی سے دسویں جماعت تک کیلئے اگلے تعلیمی سال سے نئے تعلیمی نصاب کا نفاذ ، نویں سے بارھویں جماعت تک کیلئے این سی ای آر ٹی کے تعلیمی نصاب کا استعمال ،پہلی جماعت سے تمام سرکاری اسکولوں میں پہلی جماعت سے انگریزی تعلیم شروع کرنے کا وزیراعلیٰ نے اعلان کیا۔ ریاست میں مزید ایک ہزار ہائی اسکول اور پی یو کالجوں کی شروعات کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ ایس ایس ایل سی اور پی یو سی امتحانات میں جامع اصلاحات بھی کی جائیں گی۔ آئندہ جولائی سے تمام سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو ہفتہ میں پانچ دن دودھ مہیا کرایا جائیگا۔ سرکاری اسکولوں کے یونیفارمس کوہندوستانی تہذیب سے ہم آہنگ کرتے ہوئے لڑکیوں کو اسکرٹس اور شرٹس پہننے کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے حکومت نے تمام سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے چوڑی دارکو یونیفارم کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکولوں کی تعمیر اور انتظامیہ میں سدھار کیلئے شکشنا کرن نامی ایک اسکیم متعارف کروائی گئی ہے، محکمۂ بنیادی وثانوی تعلیمات کیلئے رواں سال 18266 کروڑ روپیوں کا بجٹ مختص کیاہے۔

تفریحی شعبہ:تفریحی شعبہ میں کنڑا کے دخل کو بڑھانے کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہوئے سدرامیا نے اعلان کیا کہ ریاست بھر کے تمام ملٹی پلکسوں میں فلموں کی نمائش کیلئے ٹکٹ کی زیادہ سے زیادہ قیمت دو سو روپے ہوگی، ہر ملٹی پلکس میں روزانہ دوپہر دیڑھ سے ساڑھے سات بجے تک صرف کنڑا فلموں کی نمائش لازمی ہوگی۔ سدرامیا نے کہاکہ شہر میں ڈاکٹر راجکمار میموریل حکومت کی طرف سے تعمیر کیاجاچکا ہے، انہی خطوط پر میسور میں وشنو وردھن میموریل تعمیر کیاجائے گا۔

نوٹ بندی کے اثرات: وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے لاگو کی گئی غیر منصوبہ بند نوٹ بندی کی وجہ سے ریاست میں اثاثوں کے رجسٹریشن میں 25 فیصد کمی آئی ، جس کی وجہ سے ریاست کے خزانے کو 1350کروڑ روپیوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ریاستی حکومت کو توقع تھی کہ اس شعبے میں 9100کروڑ روپیوں کی آمدنی ہوگی، لیکن مارچ کے اختتام تک یہ آمدنی صرف 7750 کروڑ روپے ہوگی۔ اس سے 13,500کروڑ روپے کے قرض کے تخمینے کی رقم کے ساتھ 2.5ملین کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں  نے کہا کہ امداد باہمی کی ا نجمنوں کے ذریعہ صفر فیصد شرح سود پر خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو قرضہ جات دئے جائیں گے ۔انہو ں نے کہا کہ حکومت ڈی سی سی بینکس اور نبارڈ کے تعاون سے انٹرنیٹ کنکشن رکھنے والوں کو مائیکرو اے ٹی ایم کم پی او ایس مشینیں اور پی اے سیز کی 25فیصد مالیتی امداد پر سپلائی کرے گی۔

سدارامیا نے کہا کہ 509.55کرور روپے کے تخمینی صرفہ سے کاویری طاس کے علاقہ میں 374نہروں کو ترقی دینے کے کام شروع کئے جائیں گے ۔ تعلیم کے شعبہ میں انہوں نے کئی اسکیمات کا اعلان کیا جن میں شکشنا کرانہ پروگرام کے تحت بائیو میٹرک حاضری سمیت ٹکنالوجی کا موثر استعمال شامل ہے، تاکہ اسکول انتظامیہ اور حکمرانی میں بہتری لائی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ رائچور اور یادگیر اضلاع کا احاطہ کرنے والی رائچور یونیورسٹی قائم کی جائے گی اور شفافیت لانے کیلئے قانونی ترمیمات کئے جائیں گے، تاکہ کرناٹک اسٹیٹ یونیورسٹیز رولس 2000 کی عام شق کا نفاذ کیا جاسکے ۔دیہی نوجوانوں کی مہارت میں اضافہ کے لئے انہو ں نے ہر دیہی علاقہ میں 4کروڑ روپے کے صرفہ سے 25نئے سرکاری پالی ٹکنکس کے قیام کا اعلان کیا۔انہو ں نے کہا کہ سرکاری ' امدادی 'میڈیکل ' انجینئرنگ ' پالی ٹکنک اور فرسٹ گریڈ کالج میں داخلہ پانے والے طلبہ کو مفت لیاپ ٹاپس بھی فراہم کئے جائیں گے ۔اس سے 1.5لاکھ طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ حکومت کا مقصد وسط مدتی مالیاتی منصوبہ پر عمل کرنا ہے، تاکہ اعلی تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر کے تفاوت کو دور کیا جاسکے ۔انہوں نے 2017-18کیلئے نئے محاصل کے بغیر خسارہ بجٹ پیش کیا۔ سدارامیا جو فینانس کا قلمدان بھی رکھتے ہیں ' نے کہا کہ نئے مالیاتی سال میں 182,119کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی۔جملہ مصارف کا تخمینہ 186,561کروڑ لگایا گیا ہے ۔ اس میں سرمایہ کے مصارف 33,630 کروڑ روپے اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے 8176کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ 2017-18کے لئے مالیاتی خسارہ کا تخمینہ 33,359کروڑ روپے رکھا گیا ہے جو ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار کا 2.61فیصد ہے ۔

سدارامیا نے کہا کہ ریاست کی 2017-18کیلئے ٹیکس کی آمدنی 89,957کروڑ روپے ہوگی۔ جاریہ مالیاتی سال کے لئے 9.42فیصد نظر ثانی شدہ تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ سدارامیا جنہوں نے آئندہ برس ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مختلف شعبوں میں نئے پروگراموں اور اسکیمات کا اعلان کیا ' کہا کہ ساحلی اور ملناڈ کے تمام تعلقہ جات تک کرشی بھاگیہ اسکیم کو توسیع دی جائے گی۔اس سے 600کروڑ روپے کا جملہ فائدہ ہونے کی توقع ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ کرناٹک رعیت سرکھشا پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا ریاست کی 31.5لاکھ ہیکٹرس اراضی کا احاطہ کرے گی۔ریاست کے وسائل اور مرکز کی امداد سے 845کروڑ روپے کی جملہ امداد حاصل کی جائے گی۔ انہو ں نے کہا کہ 5ہیکٹرس تک کی اراضی کے لئے 90فیصد اور 50فیصد سبسیڈی پر ڈرپ اوراسپرنکلر اریگیشن یونٹس کی تقسیم عمل میں لائے جائے گی، تاکہ 1.8لاکھ ہیکٹر اراضی پر پانی کا موثر استعمال کیا جاسکے ۔انہو ں نے کہا کہ کرشی بھاگیہ اسکیم پر محکمہ باغبانی میں پہلی مرتبہ عمل کیا جائے گا۔صحت اورتعلیم کے شعبہ کے لئے سدارامیا نے ہیلتھ انشورنس اسکیمات کا اعلان کیا ۔ان میں تمام خاندانوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج میں شامل کیا گیا ہے اور یشسوینی اسکیم کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ ان اسکیمات کو محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے تحت لایا گیا ہے ۔انہو ں نے دیون گری ' رامانگرم ' ٹمکورو' وجے پورہ اور پولار میں 5سوپر اسپیشالٹی اسپتالوں کے قیام کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی 40فیصد امداد سے کلبرگی ' میسوراور بیلگاوی ریونیو ڈیویژن میں 310کروڑ روپے کے صرفہ سے 250 بستروالے سوپر اسپیشالٹی اسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

مفت وائی فائی کی سہولت: آئی ٹی اور اس سے متعلق شعبوں میں نوجوانوں کی مہارت میں بہتری کے لئے دو بڑی اسکیمات کا اعلان کیااور ریاست کے تمام گرام پنچایتوں میں وائی فائی کی سہولت شروع کی جائے گی۔کرناٹک اسمبلی میں 2017-18کے بجٹ کی پیشکشی کے موقع پر وزیراعلیٰ سدارامیا جو فائنانس کا بھی قلمدان رکھتے ہیں ' نے کہا کہ نئی اسکیم یوگا کے تحت ریاست میں آئی ٹی ' الکٹرانکس ' اینی میشن اور دیگر شعبوں میں 110,000نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نجی عوامی شراکت داری کے ذریعہ کرناٹک کی ا سٹیٹ الکٹرانک کارپوریشن کی زیر قیادت تمام گرام پنچایتوں میں مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

بی سی آئی سی نے کرناٹک کے بجٹ کو ترقی پسند قرار دیا
بنگلور چیمبر آف انڈسٹری اینڈ کامرس (بی سی آئی سی ) نے ریاست کے بجٹ کو ترقی پسند بجٹ قرار دیا اور کہا کہ دیہی۔ شہری ترقی پر مساوی توجہ دی گئی ہے ۔اس بجٹ میں علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے بالخصوص محاصل کے شعبہ میں ریاستی بجٹ صحیح سمت میں ہے ۔یہ جی ایس ٹی پر عمل میں آگے رہنے کے تئیں ایک اور قدم ہے ۔مرکزی بجٹ 2017کی مقرر کردہ سمت میں ریاستی بجٹ نے بھی دیہی ترقی پر توجہ دی ہے ۔تعلیم ' صحت ' آبپاشی ' خاندانی بہبود ' کھیل کود ' باغبانی ' سیریکلچر ' آبی وسائل ' طب وغیرہ ہر شعبہ میں بجٹ میں الاٹمنٹ کیاگیا ہے ۔آئندہ سال کے انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے انہیں مقبول کی گئی ہے ۔ بنگلور چیمبر آف انڈسٹری اینڈ کامرس میں ریاستی حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر کی ترقی بالخصوص بنگلور کے اطراف ترقی کی سمت کی ستائش کی ، تاکہ بنگلور کے برانڈ تا عالمی برادری میں تحفظ کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ سلک بورڈ اور کے آر پورم کے درمیان ریل لنک کے آغاز کی منظوری ایک اہم قدم ہے ۔ اس سے بنگلور وکے آئی ٹی شعبہ میں کام کرنے والوں کی پریشانیوں کو دور کیا جاسکتا ہے ۔اسی طرح نما میٹرو کے دوسرے مرحلہ کے آغاز سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے ۔ بی ایم ٹی سی ' ڈی ایم آر سی ایل ' بی ڈی اے اور بی بی ایم پی کے لئے رقمی الاٹمنٹ اور بیشتر تجاویز اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حکومت بنگلور میں انفراسٹرکچر کی ضروریات کی تکمیل کی طرف توجہ دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں ریاست میں نئی سرمایہ کاری کو یقینی طور پر راغب کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت یونیورسٹیز ' تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی تجویز رکھتی ہے تاکہ آئی ٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس اور فنشنگ اسکول قائم کئے جاسکیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/sLNRf

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے