Breaking News
Home / اہم ترین / سدرامیا نے پیش کیا اقلیت نواز بجٹ:اقلیتوں کیلئے 2750کروڑ روپیوں کا فلاحی بجٹ؛ متعدد نئی اسکیموں کا اعلان ، مولانا ابوالکلام آزاد بھون کی تعمیر کا منصوبہ

سدرامیا نے پیش کیا اقلیت نواز بجٹ:اقلیتوں کیلئے 2750کروڑ روپیوں کا فلاحی بجٹ؛ متعدد نئی اسکیموں کا اعلان ، مولانا ابوالکلام آزاد بھون کی تعمیر کا منصوبہ

بنگلورو۔(ہرپل  نیوز،ایجنسی)15؍مارچ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج ریاستی اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ میں امیدوں کے عین مطابق اقلیتی طبقات کی فلاح وبہبود کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان کی ترقی کیلئے 2750 کروڑ روپیوں پر مشتمل پروگراموں کا اعلان کیا۔ ان میں اہم ترین بنگلور میں مولانا ابوالکلام آزاد بھون کی تعمیر ہے، جہاں پر محکمۂ اقلیتی بہبود کے دفاتر ، ایک آڈیٹوریم ، اردو کنونشن ہال اور دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی۔اس کیلئے سدرامیا نے بجٹ میں بیس کروڑ روپیوں کی رقم مختص کرنے کااعلان کیا ہے۔

آج اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ میں سدرامیا نے کہاکہ اوقافی اداروں کے انتظامیہ اور عملے کی تربیت کیلئے بنگلور میں ایک مخصوص تربیتی مرکز قائم کیا جائے گا۔ اقلیتی طبقے کے ڈراپ آؤٹ طلباکو دوبارہ تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اگلے دو سال کے دوران ریاست بھر میں 200 مولانا آزاد ماڈل اسکولس قائم کئے جائیں گے، یہ اسکول ان مقامات پر قائم ہوں گے، جہاں پر اردو اسکول بند کردئے گئے ہیں۔ ملازم پیشہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بنگلور اور دیگر کارپوریشنوں کی حدود میں دس برسر روزگار خواتین ہاسٹلس ، فی ہاسٹل دو کروڑ روپیوں کی لاگت پر تعمیر کئے جائیں گے۔ شادی محل اسکیم کے تحت اوقافی ، نیم سرکاری اداروں اور ٹرسٹوں کو سبسیڈی مہیا کرائی جارہی تھی، آئندہ وقف ان اداروں کیلئے شادی محل یا کمیونیٹی ہال محکمہ کی طرف سے تعمیر کرایا جائے گا۔ ضلع سطح پر اس کی سبسیڈی کی رقم دو کروڑ روپے ہوگی اور تعلقہ سطح پر ایک کروڑ روپے ، اقلیتی طبقات سے وابستہ معذورین ، یتامیٰ ، معمر افراد اور ایڈز مریضوں کی امداد میں سرگرم رضاکار اداروں کیلئے مالی تعاون، عیسائی اداروں کے طرز پر فراہم کیا جائے گا۔ آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم اور آئی آئی ایس سی جیسے قومی تعلیمی اداروں کیلئے منتخب طلبا کو ایک وقت کی ترغیبی رقم دو لاکھ روپے دئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے ریاست بھر میں بیس نئے اقلیتی مرارجی دیسائی اقامتی اسکول ، پانچ پی یو کالج ، دو آدرش اسکول، 25پوسٹ میٹرک بوائس اینڈ گرلس ہاسٹلوں کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ طلبا کو اقامتی اسکولوں میں دئے جانے والے کھانے کے الاؤنس میں سو روپے کااضافہ کیا جائے گا۔ 100 اقلیتی ہاسٹل اور اقامتی اسکولوں میں ڈجیٹل لائبریریاں قائم کی جائیں گی۔ فروغ ہنر پروگرام کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو صحافت میں تربیت سے آراستہ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی مسلح فورسز میں شمولیت کیلئے 1000 امیدواروں کوبنیادی تربیت سے آراستہ کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ریاست بھر میں ائمہ وموذنین کو دئے جانے والے ماہانہ اعزازیہ میں اضافہ کا اعلان کیا اور کہاکہ پیش امام کو ماہانہ ملنے والا اعزازیہ 3100سے بڑھا کر چار ہزار روپے کردیا گیاہے، جبکہ مؤذنین کو ملنے والا اعزازیہ 2500 روپیوں کی بجائے تین ہزار روپے ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اقلیتی طبقے سے وابستہ چھوٹے کسانوں کو جدید ترین زرعی آلات 50فیصد سبسیڈی پر مہیا کرائے جائیں گے۔ آٹو سرویس ، آؤٹ موبائل ،بدری اور ریشم پالن کی تربیت کیلئے نوجوانوں کو ترغیب دینے کا سدرامیا نے اعلان کیا۔ منے ملیگے اسکیم کے تحت سدرامیا نے تجارت کیلئے پانچ لاکھ روپیوں کے قرضہ 50فیصد سبسیڈی کے ساتھ مہیا کرانے کا اعلان کیا۔ اقلیتی طبقات سے وابستہ 500افراد کو بینک قرضہ جات کے ذریعہ ٹیکسی کی خریداری پر ریاستی حکومت کی طرف سے تین لاکھ روپیوں کی سبسیڈی کا بھی وزیراعلیٰ نے اعلان کیا۔ اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن کیلئے 330کروڑ روپیوں کے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ اس میں سے 150کروڑ روپے قومی اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن سے حاصل کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے کے ایم ڈی سی کو کاؤنٹر گیارنٹی دینے کافیصلہ کیا ہے۔خلیجی ممالک سے بے روزگار ہوکر لوٹنے والے افراد کیلئے حکومت نے خود روزگار اپنانے میں مدد کیلئے اسکیم رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ حکومت منگلور میں مجوزہ حج بھون کی تعمیر کیلئے دس کروڑ روپے مہیا کرائے گی۔ مجموعی طور پر اقلیتوں کی فلاح وبہبود کی پر مشتمل پیش کئے گئے بجٹ کو کافی سراہا جارہا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/bMfCg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے