Breaking News
Home / اہم ترین / سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کیلئےجلد قائم کی جائے گی اجرت کمیٹی ، سدرامیا کی یقین دہانی (مزید خبریں)

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کیلئےجلد قائم کی جائے گی اجرت کمیٹی ، سدرامیا کی یقین دہانی (مزید خبریں)

بلگاوی(ہرپل نیوز)25 نومبر:وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کیلئے آئندہ بجٹ میں نیا اجرت کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ کونسل میں رام چندرے گوڈا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ریاست میں 1966 سے 2016 تک پانچ اجرت کمیشن اور دو اجرت کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، تاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوںپر نظر ثانی کی جائے۔ انہوں نے بتایاکہ مرکزی حکومت کے ذریعہ فراہم ہورہی تنخواہوں کے برابر ریاستی ملازمین کو تنخواہیں فراہم کرنا مشکل ہے۔ کمیشن کو ہدایت دی جائے گی کہ مرکزی اور ریاستی تنخواہوں میں برابری لانے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی پالیسیاں الگ ہوتی ہیں ، مرکزی حکومت ہر دس سال میں ایک مرتبہ اجرت کمیشن تشکیل دیتی ہے، مگر ریاستی حکومت کے ذریعہ ہر چھ یا سات سال میں کمیشن کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔ 2011 میں تشکیل شدہ کمیٹی کی سفارشات پر 2012میں عمل ہوا۔اس موقع پر اراکین شری کانتے گوڈا ، کے بی شانپا ، بسوراج ہوراٹی ، شراونا ، پٹنیا ، ارون شاپور اور گنیش کارنک کے علاوہ دیگر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں تقریباً 35 فیصد عہدے خالی ہیں جس کے سبب سرکاری ملازمین پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں انہیں مناسب اجرت فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے درخواست کی کہ مرکزی تنخواہوں کے برابر ریاست میں بھی تنخواہیں جاری کی جائیں۔ اب ان تنخواہوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس خلا کو پر کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں، کیونکہ ریاستی سرکاری ملازمین بھی مرکزی ملازمین کے برابر خدمات انجام دیتے ہیں۔ جس پر وزیراعلیٰ نے بتایاکہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ سرکاری ملازمین پر کام کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے اور حکومت ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔ 1966 سے حکومتوں نے جو بھی فیصلے لئے ہیں انہیں ملازمین نے کھلے دل سے قبول کیا ہے۔جس کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ بجٹ میں اجرت کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ جس کے ذریعہ تنخواہوں میں ہورہے امتیاز کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کی حکومت نے جو وعدے کئے تھے انہیں وفاکیا ہے، اس وعدہ کو بھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی کو ہدایت دی جائے گی کہ دیگر ریاستوں اور مرکزی تنخواہوں کا موازنہ کرتے ہوئے ملازمین کو انصاف فراہم کرنے رپورٹ پیش کی جائے۔ ان کے مطابق ریاست میں 7.79لاکھ عہدوں کو منظوری دی گئی تھی، جن میں سے 5.1لاکھ ملازمین موجود ہیں اور 2.69لاکھ عہدے خالی ہیں۔ ریاستی بجٹ 1.63ہزار لاکھ کروڑ کا ہے۔ جس میں سے تقریباً 40ہزار کروڑ تنخواہوں کیلئے مختص ہیں۔

 آدھار سے جوڑتے ہی راشن کی فراہمی : یو ٹی قادر

بلگاوی(ہرپل نیوز)25 نومبر:ریاستی وزیر برائے شہری رسد وخوراک یوٹی قادر نے آج بتایاکہ ریاست میں 3.12کروڑ راشن کارڈ موجود ہیں، جن میں سے اب تک 3.09 لاکھ افراد نے انہیں آدھار سے نہیں جوڑا ہے۔ جیسے ہی ان راشن کارڈوں کو آدھار سے جوڑا جائے گا، انہیں فوری طور پر اناج فراہم کردیا جائے گا۔ قانون ساز کونسل میں ٹی اے شراونا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جعلی راشن کارڈوں کی نشاندہی کیلئے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے سبب چند مقامات پر مسائل پیش آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اب تک کسی بھی راشن کارڈ کو منسوخ نہیں کیا گیاہے
The short URL of the present article is: http://harpal.in/5rTOB

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے