Breaking News
Home / اہم ترین / سرکاری ہاسپٹل کی لاپروائی کا تازہ معاملہ اچھے سماج کے لئےبری خبر۔ ڈینگیومیں مبتلالڑکی گھنٹوں تک ایمبولینس میں سسکتی رہی۔ کیا سارے مسیحا قاتل ہیں؟

سرکاری ہاسپٹل کی لاپروائی کا تازہ معاملہ اچھے سماج کے لئےبری خبر۔ ڈینگیومیں مبتلالڑکی گھنٹوں تک ایمبولینس میں سسکتی رہی۔ کیا سارے مسیحا قاتل ہیں؟

اڈپی (ہرپل نیوز) 2نومبر۔ڈینگیو کے مرض میں مبتلا ایک لڑکی اڈپی اور منگلورو کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے سنگین حالت میں چار گھنٹے ایمبولینس میں سسکتی رہی ، جس کو ایک سماجی کارکن کی مدد سے منگلورو سے واپس بلا کر اڈپی کے ایک نجی ہاسپٹل میں داخل کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق بادمّا نامی لڑکی کو اڈپی کے ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں دو روز قبل داخل کیا گیا تھا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اسے منگلورو کے وینلاک اسپتال میں منتقل کرنے کے لئے 108ایمبولینس کے ذریعے روانہ کردیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وینلاک اسپتال میں ضروری انتظامات نہ ہونے کی بات کہہ کر اس لڑکی کو داخلہ نہیں دیا گیا اس دوران وہ لڑکی چار گھنٹے تل ایمبولینس پر سسکتی رہی ۔ ایسے میں اڈپی کے سماجی کارکن وشنو شیٹی امبلپاڑی نے اڈپی کے ایک نجی اسپتال میں اپنے ذاتی خرچ پر علاج کے لئے اس کو داخل کروایاہے۔

لوگوں کا ماننا ہے کہ ہاسپٹلس میں اس قسم کی سہولت نہ ہونے کی بات کہہ کر ایک قلی کی بیٹی کو داخلہ دینے سے انکار کرنا ہمارے سماج کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔ اور ایسے میں لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا سارے مسیحا قاتل ہیں ؟

The short URL of the present article is: http://harpal.in/VOVcG

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے