Breaking News
Home / اداریہ / سر پرستی کایہ نشّہ اب ہمارے سر پہ ہے۔ سیاسی آقاؤں کا حقیقی چہرہ سامنے لانے والی ایک خوبصورت تحریراز: مدثر احمد

سر پرستی کایہ نشّہ اب ہمارے سر پہ ہے۔ سیاسی آقاؤں کا حقیقی چہرہ سامنے لانے والی ایک خوبصورت تحریراز: مدثر احمد

امت مسلمہ اس وقت ملک میں سیاسی پس و پیش کا شکار ہے جہاں سنگھ پریوار اور اسکی ذیلی تنظیمیں متحدہ طور پر حکومتیں قائم کرتے ہوئے ملککے جمہوری نظام کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں وہیں سیکولر اور مسلم قیادت والی سیاسی جماعتیں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کو مزید مظبوط ہونے کا موقع دے رہی ہیں اور اپنے آپ کو مسلم سرپرستی کے ٹھیکیدار ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہیں، ان سب کے درمیان کچھ مسلم خود ساختہ لیڈران اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے قوم کی سودے بازی پر اتر آئے ہیں اور ایسی سیاسی جماعتوں کی تائید کررہے ہیں جن کا ماضی و حال مشکوک ہے اور وہ کبھی بھی کسی بھی وقت کروٹ بدل کر فرقہ پرست طاقتوں کا ہاتھ تھام سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے سرپرست ہونے کے دعویدار ہیں وہ مسلم سماج، ملک کے موجودہ حالات ، فرقہ پرستوں کی سازشوں اور خودساختہ سیکولر جماعتوں کے اندرونی ایجنڈوں سے ناواقف ہیں اور یہ لوگ قوم کی قیادت کے نام پر محض اپنے فائدے کیلئے کام کررہیں جس سے آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو مزید بدتر حالات سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

آج کل یہ دیکھا جارہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کچھ ایسے لوگ ہیں جو عام مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے ایسی سیاسی جماعتوں میں شامل کروارہے ہیں جو سراسر مسلمانوں کو محض ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں یا پھر فرقہ پرست جماعتوں کی کامیابی کیلئے اندرونی معاہدے کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ذرا سوچئے انتخابات کے دوران جو لوگ مسلمانوں کے مسیحا، ہمدرد ، لیڈر کے طورپر آپ کے درمیان گھومتے رہتے ہیں کیا کبھی زندگی میں انہوں نے ایک مسلمان کو ہی نہیں کسی بھی مذہب کے فرد کو اسکی بنیادی سہولیات کے لئے خود چل کر یا کسی سے کہلواکر امداد دلوائی ہے؟۔ اپنے جیب سے نہ سہی حکومت کے منصوبے جیسے راشن کارڈ ، آدھار کارڈ ، انکم سرٹیفیکٹ یا کم از کم الیکشن آئی ڈی کارڈ دلوانے کے لئے کبھی فکرمند ہوئے ہیں؟۔ آپ کو جواب میں ناں اور صرف نا ہی ملے گا کیونکہ ان لوگوں نے کبھی آپ کیلئے کام نہیں کیا ہے ، ایسے لوگوں کے لئے مسلمان قوم تو بس مہرے ہیں اور وہ ان مہروں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بازی مار لے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ہمیشہ غلام بنائے رکھتے ہیں ۔ انتخابات کے دوران دو سو ۔ پانچ سو اور بریانیوں کے عوض سودا کرنے والے یہ لیڈر نما لوگ دراصل اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لئے مسلمانوں کی سودے بازی کررہے ہیں ۔ آج ہمارے سامنے اترپردیش، مدھیہ پردیش، بہار ،ہریانہ سمیت کئی ایسی ریاستوں کی مثالیں ہیں جہاں پر ایسے ہی سرپرستوں اور نام نہاد مسلم لیڈروں و مسلم سیاسی جماعتوں کی کمزوریوں و نادانیوں کے سبب ہمیں خسارے کا سامنا کرنا پڑاہے۔

اس موقع پر ہمیں ایک واقعہ کا ذکرکرنا مناسب لگ رہا ہے۔ایک دور آیا تھا جب امریکہ کے ائیر پورٹ پہ ایسے تلاشی لی جاتی تھی جیسے پوری دنیا چور ہو اور صرف امریکن معزز ہوں۔بہت عرصے سے ایک تاجر امریکہ آتا جاتا رہا تھا اس نے یہ حالت دیکھی تو بہت پریشان ہوا کہ ہر بندے کی ٹوپی ، ٹائی، جوتے اور موزے(ساکس)اتار کر تلاشی لی جا رہی ہے وہ اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا لمبی قطار لگی ہوئی تلاشی دینے والوں کا ایسا منظر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔جب اسکی باری آئی اور امیگریشن والوں نے اسے بھی جوتے اتارنے کا حکم دیا۔ اس نے یہ آرڈر ماننے سے انکار کر دیا۔امیگریشن افسر نے اسکا پاسپورٹ لیا اور اس پہ ڈی پورٹ کی مہر لگا دی ۔وہ اگلی فلائیٹ سے واپس ترکی پہنچ گیا۔اس نے پریس کانفرنس بلائی اور تمام ماجرا سب کو سنا دیا۔ اس پریس کانفرنس نے طوفان برپا کر دیا۔حکومت نے امریکہ کے سفیر کو بلا کے سب کچھ بتا دیا ، امریکہ نے اسے معمول کی کارروائی سمجھا۔ معاملہ پارلیمنٹ میں چلا گیا ۔پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ جو بھی امریکی اب ترکی میں قدم رکھے اس کی تفصیلی تلاشی لی جائے۔اگلے دن اس قانون پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔امریکی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا، ترکی نے خوبصورت جواب دیا، اس نے کہا یہ ہماری معمول کی کارروائی ہے۔2002سے2006تک ترکی دنیا کا واحد ملک تھا جس کے ائیر پورٹس پر صرف ایک ملک کے شہریوں کی تلاشی ہوتی تھی اور وہ ملک تھا امریکہ۔امریکہ نے بلا آخر معافی مانگی اور یہ سلسلہ ختم ہوا۔اس کو کہتے ہیں غیرت و حمیت ،اس کو کہتے ہیں عظمت و وقار ،اس کو کہتے ہیں زندہ قوم ،اور ایسی باتیں، ایسے واقعات قوموں کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے کام آتے ہیں۔لیکن ہمارے یہاں کی قیادت محض چند روپیوں،معمولی عہدوں اور شال وہارکیلئے نچھاؤر ہوجاتی ہے اور جن لوگوں سے ہاتھ ملانا بھی نہیں ہوتااُن سے بھی ہاتھ ملانے کیلئے آگے جانا پڑتا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے ہماری قوم کے لیڈران سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایسے معاہدے طئے کررہے ہیں جس سے قوم کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا البتہ قوم کے نام پر وہ خود کافائدہ کرلیتے ہیں۔ایسے سیاسی لیڈروں کو اگر قوم نظر انداز کرتے ہوئے حالات حاضرہ کے تحت فیصلے کرتی ہے تو یقیناًقوم کا بھلا ہوگا۔مضمون نگار ،روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ کے ایڈیٹر ہیں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/MSAu0

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے