Breaking News
Home / اہم ترین / سعودیہ کے ہاسپٹل میں سسک رہے ابو بکر کو انڈیا لانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں تقریبا ختم

سعودیہ کے ہاسپٹل میں سسک رہے ابو بکر کو انڈیا لانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں تقریبا ختم

بھٹکل (ہرپل نیوز)8فروری:ایک کروڑ ہندوستانی روپئے کے بل کی ادائیگی کو لیکر ہو رہی دقتوں کے بیچ سعودیہ کے ریاض ہاسپٹل میں موت وحیات کی کشمکش سے گزر رہے ابو بکر کے گھر والوں کے لئے ابو بکر کے انڈیا لائے جانے کی خبر یقینا کسی بڑی خوشی سے کم نہیں ہے ۔ چھ سال سے جدائی کا صدمہ جھیل رہی ابوبکر کی فیملی امید کی ایک نئی صبح میں سانس لے رہی ہے ۔ سعودیہ میں مقیم نوائط برادری کے اہل خیر کی بے پناہ کوششوں سے ہاسپٹل انتظامیہ نے ابوبکر کے کم و بیش ایک کروڑ ہندوستانی روپے کے بل کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ نو ماہ تک کوما میں رہ کر اب ابو بکر کومہ کی بے حرکت زندگی سے باہر آنے لگے ہیں ۔کسی کے سوال کا جواب دینے کی کوشش میں ابوبکرپلک جھپک جھپک کر اشارہ کر دیتے ہیں جس سے یہ واضح ہوجا تاہے کہ اب لوگوں کی بات اب ابوبکر کوسمجھ میں آنے لگی ہے ۔
دوسری جانب اس پوری مہم میں اخلاص کے ساتھ بے لوث اور بے غرض ہو کر کام کرنے والے ڈاکٹر وسیم مانی اور ڈاکٹر ظھیر کولا نے جنگی پیمانے پر ابو بکر کو انڈیا واپس بھیجنے کی تیاریاںشروع کی ہیں۔ ڈاکٹر وسیم مانی نے اپنی تمام مشغولیات کو بالائے طاق رکھ کر بنگلور پہنچ کر منی پال اسپتال کی انتظامیہ سے گفتگو کی ہےجس کے بعدابوبکر کو بنگلور کے منی پال اسپتال میں داخل کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر ظہیر نے بتایا کہ ہاسپٹل کی جانب سے بل معاف کئے جانے کے بعد ریاض کے رماد ہوٹل ہال میں ایک خصوصی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ریاض اور دیگر شہروں میں مقیم بھٹکل، مرڈیشور، منکی، ولکی، شیرور، گنگولی ودیگر اطراف کے علاقوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں ابوبکر کو بنگلور روانہ کرنےاور اسپتال کے اخراجات کے متعلق گفتگو ہو ئی ۔ میٹنگ میں وہاں موجود نوائط برادری کی جانب سے ویڈیو پر نزنٹیشن کی مدد سے ایک ویڈیو دکھا ئی گئی جس میں تصویروں کی زبانی ابوبکر کے حالات و کوائف اچھی طرح واضح کئے گئے۔ میٹنگ کے بعد اہل نوائط میں مرڈیشور کے افراد نے خطیر رقم ابو بکر کو انڈیا روانہ کر کے اچھے علاج کے لئے جمع کی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ریاض میں ڈاکٹر ظہیر کولا اور وسیم مانی جیسے سماجی ورکرس کی بے غرض کوششوں کو دیکھتے ہوئے اسپتال عملہ نے اُن کی خدمات کو سراہا اور یہ جان کر حیرت کا اظہار کیا کہ ابوبکر سے ان کی کوئی رشتہ دار ی نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کچھ دن قبل اس سلسلے میں  بھٹکل کے معتبر ترین نیوز پورٹل ساحل آن لائن نے وزیرخارجہ محترمہ سشما سوراج کو ٹویٹ کرتے ہوئے واقعے کی جانکاری دیتے ہوئے تعاون کی درخواست کی تھی، جنہوں نے فوری جواب دیتے ہوئے ریاض ایمباسی کو ضروری تعاون کرنے کی ہدایت جاری کی تھی، مگر بعد میں ریاض میں موجود انڈین ایمباسی نے مالی تعاون دینے سے معذرت ظاہر کی تھی ۔ حقیقت یہی ہے کہ کوئی کام اگر بے غرض ہو کر کیا جائے تو یقینا اس میں نصرت الہی شامل ہوتی ہے ۔پھر دشواریاں اور پریشانیاں ایسے کا فور ہوتی ہیں جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو

The short URL of the present article is: http://harpal.in/l6pGq

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے